’’اب ویسا نہیں ہے جیسا برسوں پہلے ہوا کرتا تھا۔ آج کی عورتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ مانع حمل کے کون سے طریقے دستیاب ہیں،‘‘ صالحہ خاتون کہتی ہیں، جو دھوپ میں اپنے گھر کے برآمدے میں کھڑی ہیں۔ یہ گھر اینٹ اور گارے سے بنا ہے، جس کی دیواروں کو سمندری ہرے رنگ سے رنگا گیا ہے۔
وہ اپنے تجربہ کی بنیاد پر بتا رہی ہیں – گزشتہ ایک دہائی سے صالحہ، اپنے بھتیجہ کی بیوی شمع پروین کے ساتھ، بہار کے مدھوبنی ضلع کے حسن پور گاؤں کی عورتوں کے لیے غیر رسمی طور پر نامزد خاندانی منصوبہ بندی اور حیض کے دوران صفائی کی صلاح کار بنی ہوئی ہیں۔
عورتیں اکثر مانع حمل کے بارے میں سوال اور درخواستوں کے ساتھ ان سے رابطہ کرتی ہیں۔ وہ پوچھتی ہیں کہ اگلے حمل سے پہلے دو بچوں کے درمیان فرق کیسے بنائے رکھا جا سکتا ہے، ٹیکہ کاری کب سے شروع ہونے والی ہے۔ اور کچھ عورتیں تو ضرورت پڑنے پر خفیہ طریقے سے مانع حمل انجیکشن لگوانے بھی آتی ہیں۔
شمع کے گھر کے کونے والے کمرے میں ایک چھوٹا سا دواخانہ ہے، جہاں الماریوں پر دوا کی چھوٹی شیشیاں اور گولیوں کے پیک رکھے ہوئے ہیں۔ ۴۰ سالہ شمع اور ۵۰ سالہ صالحہ – ان میں سے کوئی بھی تربیت یافتہ نرس نہیں ہے – پٹھوں میں یہ انجیکشن لگاتی ہیں۔ ’’کبھی کبھی عورتیں اکیلے آتی ہیں، انجیکشن لیتی ہیں اور جلدی نکل جاتی ہیں۔ ان کے گھر پر کسی کو کچھ بھی جاننے کی ضرورت نہیں ہے،‘‘ صالحہ کہتی ہیں۔ ’’دیگر عورتیں اپنے شوہر یا خاتون رشتہ داروں کے ساتھ آتی ہیں۔‘‘
یہ ایک دہائی پہلے کے مقابلے ڈرامائی تبدیلی ہے، جب پھول پارس بلاک کی سینی گرام پنچایت میں تقریباً ۲۵۰۰ کی آبادی والے حسن پور گاؤں کے باشندوں کے ذریعہ خاندانی منصوبہ بندی کی تکنیکوں کا استعمال شاید ہی کیا جاتا تھا۔
تبدیلی کیسے آئی؟ ’’یہ اندر کی بات ہے،‘‘ شمع کہتی ہیں۔







