چھتیس گڑھ کے سوناکھن گاؤں کے سہس رام کَنور کہتے ہیں، ’’ویر نارائن سنگھ؟ وہ ایک لٹیرا تھا، ایک ڈکیت۔ کچھ لوگوں نے اسے عظیم آدمی بنا دیا ہے۔ ہم نے نہیں۔‘‘ ارد گرد بیٹھے دو چار لوگ ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے گردن ہلاتے ہیں۔ بقیہ کی سوچ ویسی ہی ہے جیسی سہس رام کی۔
یہ افسوس ناک تھا۔ ہم سوناکھن کی تلاش میں کافی دور سے چل کر آئے تھے۔ یہ ۱۸۵۰ کی دہائی کے وسط میں چھتیس گڑھ کی آدیواسی بغاوت کا اہم مرکز تھا۔ وہ بغاوت جو ۱۸۵۷ کی بڑی بغاوت سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی اور جس نے ایک اصلی مقامی ہیرو کو جنم دیا تھا۔
یہ وہ گاؤں ہے، جہاں ویر نارائن سنگھ نے انگریزوں کے خلاف آواز بلند کی تھی۔
۱۸۵۰ کی دہائی میں یہاں قحط جیسی صورتحال نے حالات کو پوری طرح بگاڑ دیا تھا۔ حالات جیسے ہی خراب ہوئے، سوناکھن کے نارائن سنگھ کا علاقے کے زمینداروں سے جھگڑا شروع ہو گیا۔ آدیواسیوں کے غلبہ والے اس گاؤں کے سب سے بزرگ، چرن سنگھ کہتے ہیں، ’’اس نے بھیک نہیں مانگی۔‘‘ شاید وہ واحد شخص ہیں، جو نارائن سنگھ کے بارے میں سب سے مثبت سوچ رکھتے ہیں۔
’’اس نے سوداگروں اور مالکوں سے کہا کہ وہ اپنے گودام کے دروازے کھول دیں اور غریبوں کو کھانے دیں۔‘‘ پہلے کی طرح ہی، اس بار بھی قحط کے دوران، گودام اناجوں سے بھرے ہوئے تھے۔ ’’اور اس نے کہا کہ جیسے ہی پہلی فصل تیار ہوگی، لوگ وہ اناج لوٹا دیں گے جو انہیں دیے گئے ہیں۔ لیکن جب انہوں نے منع کر دیا، تو اس نے اپنی قیادت میں گوداموں پر قبضہ کرکے اناج غریبوں میں تقسیم کر دیے۔‘‘ اس کے بعد جو تحریک شروع ہوئی، وہ پورے علاقے میں پھیل گئی، کیوں کہ آدیواسیوں نے استحصال کرنے والوں پر حملہ بول دیا تھا۔








