کولہاپور کی راجا رام شوگر فیکٹری (چینی مل) میں فروری کی یہ ایک گرم اور پرسکون دوپہر ہے۔ فیکٹری کے احاطہ میں بنے زیادہ تر کھوپیا (گنّا مزدوروں کی پھوس سے بنی جھونپڑیاں) خالی ہیں۔ مہاجر مزدور یہاں سے پیدل ایک گھنٹے کی دوری پر، وڈنگے گاؤں کے قریب گنّا کی کٹائی کر رہے ہیں۔
دور سے آ رہی برتنوں کی آواز بتا رہی ہے کہ گھر پر اب بھی کوئی نہ کوئی ہے۔ جہاں سے آواز آ رہی تھی وہاں جانے پر ہم نے دیکھا کہ ۱۲ سال کی سواتی مہارنور اپنی فیملی کے لیے رات کا کھانا بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ زرد چہرہ اور بری طرح سے تھک چکی سواتی، اپنی جھونپڑی کے سامنے بالکل اکیلی بیٹھی ہوئی تھی۔ کھانا پکانے والے برتن اس کے چاروں طرف بکھرے ہوئے تھے۔
جمائی لیتے ہوئے وہ کہتی ہے، ’’میں صبح کے ۳ بجے سے جگی ہوئی ہوں۔‘‘
یہ چھوٹی سی لڑکی مہاراشٹر کے باوڑا تعلقہ میں گنّے کی کٹائی کرنے کے لیے اپنے ماں باپ، چھوٹے بھائی اور دادا کے ساتھ بیل گاڑی میں بیٹھ کر صبح سویرے ہی روانہ ہو گئی تھی۔ پانچ رکنی اس فیملی کو ایک دن میں ۲۵ مولی (بنڈل یا گٹھر) گنّے کاٹنے کے پیسے دیے جاتے ہیں، اور اس ٹارگیٹ کو پورا کرنے کے لیے گھر کے سبھی لوگوں کو ہاتھ بٹانا پڑتا ہے۔ دوپہر میں کھانے کے لیے، یہ لوگ پچھلی رات کو پکائی گئی بھاکری (ایک قسم کی روٹی) اور بینگن کی سبزی اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔
دوپہر میں ایک بجے، فیکٹری کے احاطہ میں بنی اپنی اس جھونپڑی میں صرف سواتی ہی لوٹ کر آئی ہے، جس کے لیے اسے چھ کلومیٹر پیدل چلنا پڑا ہے۔ ’’بابا [دادا] مجھے یہاں چھوڑنے کے بعد واپس چلے گئے تھے۔‘‘ گھر کے دوسرے لوگوں سے پہلے، وہ یہاں اس لیے آئی ہے تاکہ ان کے لیے رات کا کھانا پکا سکے۔ باقی لوگ بھی ۱۵ گھنٹے تک گنّے کی کٹائی کرنے کے بعد، بھوکے اور تھکے ماندے جلد ہی لوٹنے والے ہیں۔ سواتی کہتی ہے، ’’ہم [فیملی] نے صبح کو صرف ایک کپ چائے پی تھی۔‘‘
ان کا گھر بیڈ ضلع کے سکُند واڑی گاؤں میں ہے، جہاں سے یہ لوگ پانچ مہینے پہلے، نومبر ۲۰۲۲ میں کولہاپور آئے تھے۔ سواتی تبھی سے کھانا پکانے کا کام کر رہی ہے اور گنے کی کٹائی کے لیے روزانہ گھر سے کھیت اور کھیت سے گھر کے چکر لگاتی ہے۔ یہاں پر یہ لوگ فیکٹری کے اسی احاطہ میں الگ الگ جگہوں پر بنی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ ہیومن کاسٹ آف شوگر نام سے ۲۰۲۰ میں جاری کی گئی آکسفیم کی ایک رپورٹ کے مطابق، مہاراشٹر کے اندر زیادہ تر مہاجر مزدور ترپال سے ڈھکی عارضی جھونپڑیوں والی بڑی بڑی بستیوں میں رہتے ہیں۔ ان بستیوں میں نہ تو پانی کا کوئی انتظام ہوتا ہے اور نہ ہی بجلی یا بیت الخلاء کا۔










