لینن داسن چاول کی ۳۰ اقسام کی کاشت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ساتھی کسانوں کے ذریعہ اگائے گئے مزید ۱۵ اقسام فروخت کرتے ہیں۔ وہ دھان کے بیجوں کی ۸۰ اقسام کا تحفظ بھی کرتے ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں کو وہ تمل ناڈو کے تیرو ونّ ملئی ضلع میں اپنی چھ ایکڑ پشتینی زمین پر انجام دیتے ہیں۔
یہاں محض یہ اعداد ہی غیرمعمولی نہیں ہیں۔ طویل مدت سے نظر انداز چاول کی یہ روایتی قسمیں اس علاقے کے چھوٹے اور معمولی کسانوں کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ لینن – جیسا کہ انہیں پکارا جاتا ہے – اور ان کے دوست چاول کی جدید اقسام کو تبدیل کرنے اور یک فصلی (مونو) کاشت روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا ارادہ کھوئے ہوئے تنوع کو بحال کرنا ہے اور چاول کی کھیتی کا انقلاب لانا ہے۔
یہ الگ قسم کا انقلاب ہے، جس کی قیادت ایک الگ لینن کر رہے ہیں۔
پولور تعلقہ کے سینگونم گاؤں کے جس گودام میں وہ دھان کی سینکڑوں بوریوں کا ذخیرہ کرتے ہیں، وہ ان کے کھیتوں سے ملحق بکریوں کا ایک شیڈ ہے۔
باہر سے دیکھنے پر اس چھوٹی سی عمارت میں کچھ بھی غیرمعمولی نظر نہیں آتا ہے، لیکن اندر قدم رکھتے ہی یہ تاثر تیزی سے بدل جاتا ہے۔ ’’یہ کروپّو کؤونی، یعنی سیرگ سنبا ہے،‘‘ لینن چاول کی بوریوں کو سوئے کی مدد سے چھید کر چند دانے نکالتے ہوئے کہتے ہیں۔ انہوں نے دھان کی ان دو روایتی اقسام کو اپنی ہتھیلی پر رکھا ہے۔ پہلی کالی اور چمکدار ہے، جب کہ دوسری باریک اور خوشبودار۔ وہ ایک کونے میں رکھے لوہے کے پرانے تول کے برتن – پیڈی، مرکّا – لے کر آتے ہیں جن میں مختلف مقدار میں دھان کے بیج رکھے ہوئے ہیں۔
شور شرابہ اور ہنگامے سے دور اس شیڈ سے ہی لینن چاولوں کو تول کر پیک کرتے ہیں اور اسے شمال میں بنگلور اور جنوب میں ناگرکوئل تک بھیجتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ کئی دہائیوں سے دھان اگا اور بیچ رہے ہیں۔ لیکن انہیں ایسا کرتے ہوئے ابھی چھ سال ہی ہوئے ہیں۔







































