پہلی بار دیا بھاگنے میں تقریباً کامیاب رہی۔
وہ بس کی سیٹ پر گھبرائی ہوئی بیٹھی تھی اور بس کے پوری طرح بھرنے کا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے سورت سے جھالود کے لیے ایک ٹکٹ خرید لیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ وہاں سے گجرات سرحد پار کر کے راجستھان کے کشل گڑھ میں واقع اپنے گھر پہنچنے کا سفر ایک گھنٹہ کا ہے۔
وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی، جب روی اچانک اس کے پیچھے سے آیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کر پاتی، روی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اسے بس سے نیچے اتار لیا۔
آس پاس کے لوگ سامان چڑھانے، بچے سنبھالنے میں مصروف تھے۔ کسی نے بھی غصے سے بھرے جوان لڑکے اور ڈری ہوئی لڑکی پر دھیان نہیں دیا۔ دیا نے کہا، ’’مجھے چیخنے میں ڈر لگا۔‘‘ روی کے غصے کا سامنا پہلے بھی وہ کر چکی تھی، اس لیے اسے خاموش رہنا ہی بہتر لگا۔
اُس رات کنسٹرکشن سائٹ کے پیچھے، اپنے گھر اور پچھلے ۶ مہینے سے جیل بنی ہوئی جگہ پر، دیا سو نہیں سکی۔ اس کے پورے جسم میں درد تھا۔ روی کی مارپیٹ سے اسے کئی جگہ زخم ہو گئے تھے اور نشان پڑ گئے تھے۔ وہ یاد کرتی ہے، ’’اس نے مجھے لات اور گھوسوں سے مارا۔‘‘ وہ جب اسے مارتا تھا، تب کوئی اسے روک نہیں سکتا تھا۔ جو آدمی دخل دیتے تھے ان پر یہ الزام لگتا تھا کہ دیا پر ان کی نظر ہے۔ جن عورتوں نے تشدد کو دیکھا انہوں نے فاصلہ بنائے رکھا۔ اگر کوئی ٹوکنے کی ہمت بھی کرتا، تو روی کہتا، ’میری گھر والی ہے، تم کیوں بیچ میں آ رہے ہو؟‘
دیا کہتی ہے، ’’ہر بار جب میرے ساتھ مارپیٹ ہوئی، مجھے مرہم پٹی کے لیے اسپتال جانا پڑتا اور ۵۰۰ روپے خرچ کرنے پڑتے۔ روی کا بھائی کبھی کبھی پیسے دیتا تھا اور یہاں تک کہ مجھے اسپتال بھی لے جاتا تھا اور کہتا تھا، ’’تم اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاؤ۔‘‘ لیکن انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ ایسا کرے کیسے۔

















