مہندر پھوٹانے کووڈ۔۱۹ ویکسین کی پہلی خوراک لینے کے لیے ۵ مئی کی صبح اپنے گھر سے نکلے تھے۔ وہ ۱۲ دنوں کے بعد اپنے گھر لوٹے۔ ’’یہ بہت اچھا دن ہونے والا تھا، لیکن کسی برے خواب میں تبدیل ہو گیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔

اس سے پہلے کہ مہندر ٹیکہ لگوا پاتے، پولیس نے انہیں حوالات میں بند کر دیا۔

مہاراشٹر کے بیڈ ضلع میں واقع نیکنور گاؤں کے رہنے والے، ۴۳ سالہ مہندر لگاتار کئی کوششوں کے بعد کووِن (CoWIN) پلیٹ فارم سے اپائنٹمنٹ بُک کرانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ’’مجھے ایک ایس ایم ایس ملا، جس میں بتایا گیا تھا  کہ [۵ مئی کو] صبح ۹ بجے سے ۱۱ بجے کے درمیان میرا اپائنٹمنٹ کنفرم ہو گیا ہے،‘‘ مہندر بتاتے ہیں۔ انہیں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے سلاٹ (یعنی ٹیکہ لگوانے کا وقت) ملا تھا – سبھی کی عمر ۴۵ سال سے کم ہے۔ ’’ہم تمام لوگ اپنی پہلی خوراک لینے کا انتظار کر رہے تھے۔ کووڈ۔۱۹ کی دوسری لہر خوفناک تھی،‘‘ مہندر کہتے ہیں۔

فیملی کے لوگ جب اپنے گاؤں، نیکنور سے ۲۵ کلومیٹر دور بیڈ شہر میں واقع ٹیکہ کاری مرکز پہنچے، تو ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ مرکز پر ویکسین کی کمی سے ۱۸ سے ۴۴ سال کے لوگوں کو ٹیکہ لگانے کا سلسلہ رک گیا تھا۔ ’’وہاں پر پولیس تعینات تھی،‘‘ مہندر بتاتے ہیں۔ ’’ہم نے انہیں اپنے اپائنٹمنٹ کی تصدیق کرنے والا میسج دکھایا۔ لیکن وہ بدتمیزی سے پیش آئے۔‘‘

پولیس اور قطار میں کھڑے لوگوں کے درمیان جم کر بحث ہونے لگی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس نے ان کے اوپر لاٹھی چارج کر دیا اور مہندر، ان کے بیٹے پارتھ، بھائی نتن اور چچیرے بھائی وویک سمیت چھ لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

ٹیکہ کاری مرکز پر تعینات پولیس کانسٹیبل، انورادھا گوہانے کے ذریعے درج کی گئی ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) میں مذکورہ چھ لوگوں پر قطار میں رخنہ ڈالنے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے کا الزام ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، انہوں نے پولیس کانسٹیبل کو گالیاں دیں اور ان کی بے عزتی کی۔ ان کے اوپر گیارہ الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس میں غیر قانونی طور پر جمع ہونا، فساد کرنا، عوامی خدمت گار (پبلک سرونٹ یا سرکاری ملازمین) کو ضرر پہنچانا اور امن میں رخنہ پیدا کرنا شامل ہے۔

Mahendra Phutane was given an appointment for getting vaccinated, but he couldn't get the first dose because of a shortage of vaccines
PHOTO • Parth M.N.

مہندر پھوٹانے کو ٹیکہ لگوانے کی اپائنٹمنٹ دی گئی تھی، لیکن ویکسین کی کمی کے سبب وہ پہلی خوراک حاصل نہیں کر سکے

لیکن مہندر ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ ’’جھگڑا ہوا تھا، لیکن پہلے پولیس نے ہی طاقت کا استعمال کیا۔ انہوں نے پولیس اسٹیشن میں بھی ہماری پٹائی کی تھی۔‘‘ مہندر بتاتے ہیں کہ انہوں نے شیزوفرینیا میں مبتلا، ۳۹ سالہ نتن کو بھی نہیں بخشا۔ ’’انہوں نے [پولیس نے] انہیں بھی پیٹا۔ اس واقعہ کے بعد وہ کافی تناؤ میں ہیں۔ ہمیں ان کے اوپر نظر رکھنی پڑتی ہے۔ جیل میں انہوں نے اپنے ہاتھ کی نبض کاٹنے کی کوشش کی تھی۔‘‘

۱۷ مئی کو ضمانت پر رہا ہونے کے بعد، مہندر نے مجھے ان کے زخموں کی تصویریں دکھائیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُن کے جسم پر سیاہ اور نیلے رنگ کے زخموں کے نشان ۵ مئی کو لاٹھی چارج کا نتیجہ ہیں۔ ’’یہ سب بلاوجہ کیا جا رہا تھا۔ اگر ان کے پاس ویکسین نہیں تھی، تو انہوں نے ہمارے لیے اسے کھولا ہی کیوں؟‘‘

کووڈ۔۱۹ ٹیکہ کاری مہم ۱۶ جنوری، ۲۰۲۱ کو مرحلہ وار طریقے سے شروع ہوئی تھی، لیکن ویکسین کی کمی نے اس مہم کو برباد کر دیا۔ سب سے پہلے طبی ملازمین اور صف اول کے کارکنان کو ٹیکہ لگائے گئے تھے۔

یکم مارچ سے ۶۰ سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہر شخص ٹیکہ لگوانے کے لیے اہل ہو گیا تھا۔ لیکن مسئلہ اپریل میں شروع ہوا جب ۴۵ سے ۵۹ سال کے لوگوں کو ٹیکہ لگنے لگا – اس کی وجہ سے خوراک کی تعداد گھٹ گئی۔

ویکسین کی اس کمی کے لیے مرکز کے ذریعے ویکسین کی نامناسب تقسیم کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے، مہاراشٹر کے وزیر صحت راجیش ٹوپے نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو بتایا تھا کہ ’’مہاراشٹر کو جمعرات [۸ اپریل] کو ویکسین کی ساڑھے سات لاکھ خوراک دی گئی ہے۔ جب کہ اتر پردیش کو ۴۸ لاکھ، مدھیہ پردیش کو ۴۰ لاکھ، گجرات کو ۳۰ لاکھ اور ہریانہ کو ۲۴ لاکھ خوراکیں دی گئیں۔‘‘ اس ریاست میں فعال معاملے سب سے زیادہ تھے، اس لیے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکے یہیں لگائے جا رہے تھے۔

مہاراشٹر میں اپریل اور مئی میں ویکسین کی کمی برقرار رہی۔ جب ۱۸ سے ۴۴ سال کے لوگوں کو ٹیکے دستیاب کرائے گئے (یکم مئی سے)، تو اس کے کچھ ہی دنوں کے اندر ٹیکہ کاری کا سلسلہ رک گیا۔ اس کے بعد جو ٹیکے بچ گئے تھے، ریاستی حکومت نے اسے بزرگوں کو لگانا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ویکسین کی کمی کے سبب دیہی علاقوں میں ٹیکہ کاری مہم کی رفتار سست رہی۔

بیڈ ضلع میں ۳۱ مئی تک، صرف ۱۴ اعشاریہ ۴ فیصد – یعنی تقریباً ۲ لاکھ ۹۴ ہزار لوگوں کو ہی ویکسین کی پہلی خوراک مل پائی تھی۔ دونوں خوراک حاصل کرنے والے خوش نصیب صرف ساڑھے چار فیصد ہیں

اس ضلع میں ٹیکہ کاری کے لیے ذمہ دار افسر، سنجے کدم بتاتے ہیں کہ بیڈ میں ہر عمر کے کل ۲۰ لاکھ ۴۰ ہزار لوگوں کو ٹیکہ لگانے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ ۳۱ مئی تک ان میں سے صرف ۱۴ اعشاریہ ۴ فیصد، یعنی تقریباً ۲ لاکھ ۹۴ ہزار لوگوں کو ہی پہلی خوراک مل پائی تھی۔ دونوں خوراک حاصل کرنے والے خوش نصیب صرف ساڑھے چار فیصد، یعنی ۹۱ ہزار ۷۰۰ لوگ ہیں۔

۴۵ سال یا اس سے زیادہ کی عمر کے لوگوں کی تعداد یہاں ۹ لاکھ ۱۰ ہزار ہے، جس میں سے ۲۵ اعشاریہ ۷ فیصد کو پہلی خوراک مل چکی ہے، لیکن دوسری خوراک حاصل کرنے والے صرف ۷ فیصد ہیں۔ بیڈ میں ۱۸ سے ۴۴ سال کی عمر کے ۱۱ لاکھ لوگوں میں سے صرف ۱۱ ہزار ۷۰۰ – یعنی تقریباً ایک فیصد – کو ہی ۳۱ مئی تک پہلی خوراک ملی تھی۔

مہاراشٹر میں ویسے تو ’کووی شیلڈ‘ (Covishield) اور ’کوویکسین‘ (Covaxin) نام کے دونوں ہی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں، لیکن زیادہ تر خوراک ’کووی شیلڈ‘ (Covishield) کی ہے۔ بیڈ کے ٹیکہ کاری مراکز سرکار کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جنہیں ریاست کے کوٹہ سے ویکسین ملا تھا اور یہ مستفیدین کو مفت لگائے جا رہے ہیں۔

لیکن ۴۰۰ کلومیٹر دور، ممبئی کے پرائیویٹ اسپتالوں میں ایک خوراک کے لیے ۸۰۰ روپے سے لیکر ۱۵۰۰ روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ امیر لوگ اور شہروں میں رہنے والا متوسط طبقہ پیسے دیکر ٹیکے لگوا رہا ہے۔ انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ لوگ Covishield کی خریداری لاگت سے ۱۶-۴۴ فیصد زیادہ اور Covaxin سے ۴ فیصد زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں۔

پرائیویٹ اسپتالوں کو ملک میں تیار ویکسین کا ۲۵ فیصد خریدنے کی اجازت دینا مرکزی حکومت کی نئی قومی ٹیکہ کاری حکمت عملی کا حصہ ہے، جسے یکم مئی کو نافذ کیا گیا تھا۔ پرائیویٹ اسپتالوں کے ذریعے خریدی گئی خوراک ۱۸ سے ۴۴ سال کی عمر کے لوگوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔

At first, Prasad Sarvadnya was hesitant to get vaccinated. He changed his mind when cases of Covid-19 started increasing in Beed
PHOTO • Parth M.N.

شروع میں، پرساد سرودنیہ ٹیکہ لگوانے سے ہچکچا رہے تھے۔ لیکن بیڈ میں جب کووڈ۔۱۹ کے معاملے بڑھنے لگے، تو انہوں نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا

حالانکہ، ہندوستان کے سپریم کورٹ نے مرکز کی ٹیکہ کاری حکمت عملی کی سخت تنقید کی ہے۔ ۲ جون کو، عدالت عظمی نے تبصرہ کیا کہ ریاستوں کے لیے ۲۵ فیصد کا کوٹہ، جتنا کہ پرائیویٹ اسپتالوں کے لیے ہے، ’’انتہائی غیر متناسب ہے اور معاشرتی حقائق کے موافق نہیں ہے۔‘‘ اگر ریاستوں کو اپنے عوام کی اکثریت کو ٹیکہ لگانے کا بوجھ برداشت کرنا ہے، تو بقول عدالت عظمیٰ، ’’پرائیویٹ اسپتالوں کے لیے دستیاب کوٹہ کو گھٹایا جانا چاہیے۔‘‘

شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان انٹرنیٹ کی رسائی میں غیر برابری کی وجہ سے ۱۸ سے ۴۴ سال کی عمر کے لوگوں کی ٹیکہ کاری بھی غیر برابر رہی ہے، کیوں کہ انہیں بھی CoWIN پلیٹ فارم کے ذریعے ہی اپائنٹمنٹ ملتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا: ’’ٹیکہ کاری کی ایسی پالیسی جو اس ملک کی ۱۸ سے ۴۴ سال کی آبادی کے ایک بڑے حصہ کو ٹیکہ لگانے کے لیے خصوصی طور پر ڈجیٹل پورٹل پر منحصر ہو، وہ اس قسم کی ڈجیٹل تقسیم کی وجہ سے تمام لوگوں کو ٹیکہ لگانے کے اپنے ہدف کو پورا کرنے میں ناکام رہے گی۔‘‘

۲۰۱۷-۱۸ میں ریکارڈ کیے گئے نیشنل سیمپل سروے کے مطابق، مہاراشٹر کے صرف ۱۸ اعشاریہ ۵ فیصد گھروں میں انٹرنیٹ کی سہولت ہے۔ اور دیہی مہاراشٹر میں ۶ لوگوں میں سے صرف ایک کے پاس ’’انٹرنیٹ استعمال کرنے کی استطاعت‘‘ تھی۔ خواتین کی بات کریں، تو ۱۱ میں سے صرف ایک کے پاس یہ سہولت تھی۔

اگر تناسب یہی رہا، تو آئندہ وبائی مرض کی تیسری لہر آنے پر صرف تکنیک کا استعمال کرنے والے، اور امیر لوگ اور شہری متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہندوستانیوں کو ہی بچایا جا سکے گا۔ ’’اور بیڈ جیسے مقامات پر رہنے والے لوگوں کو وبائی مرض کا خطرہ بنا رہے گا،‘‘ عثمان آباد ضلع اسپتال کے سابق سول سرجن، ڈاکٹر راج کمار گلنڈے کہتے ہیں۔

ڈاکٹر گلنڈے کا ماننا ہے کہ ٹیکہ کاری کی رفتار اگر بڑھائی نہیں گئی، تو بہت سے لوگوں کے لیے خطرہ بنا رہے گا۔ ’’دیہی علاقوں میں حالت اور بھی خستہ ہے کیوں کہ وہاں پر شہری علاقوں کی طرح صحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے اچھے نہیں ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’کووڈ۔۱۹ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے، ہمیں اپنے گاؤوں میں ٹیکے پہنچانے ہوں گے۔‘‘

Sangeeta Kale, a 55-year-old farmer in Neknoor village, hasn't taken the vaccine because she's afraid of falling ill afterwards
PHOTO • Parth M.N.

نیکنور گاؤں کی ۵۵ سالہ کسان، سنگیتا کالے نے ٹیکہ نہیں لگوایا ہے کیوں کہ انہیں ڈر ہے کہ ایسا کرنے سے وہ بیمار پڑ جائیں گی

اگرچہ حکومت کی سطح پر عجلت کی کمی ہے، لیکن بیڈ کے لوگ اسے جلد از جلد لگوانا چاہتے ہیں۔ ’’شروع میں لوگ ہچکچا رہے تھے اور غیر یقینیت کے شکار تھے۔ میرا بھی یہی حال تھا،‘‘ نیکنور میں ۱۸ ایکڑ زمین کے مالک، ۴۸ سالہ کسان پرساد سرودنیہ کہتے ہیں۔ ’’جب آپ یہ سنتے ہیں کہ کیسے بخار اور بدن درد کووڈ کی علامت ہو سکتا ہے، اور پھر آپ کو پتہ چلتا ہے کہ ٹیکہ لگوانے کے بعد آپ کو بخار ہو سکتا ہے، تو آپ اسے لگوانا نہیں چاہتے ہیں۔‘‘

لیکن مارچ کے آخر میں جب کووڈ کے معاملے بڑھنے لگے، تو لوگوں میں دہشت پھیل گئی، پرساد کہتے ہیں۔ ’’اب ہر کوئی ٹیکہ لگوانا چاہتا ہے۔‘‘

مارچ کے آخر میں، پرساد جب اپنے گاؤں سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور واقع ٹیکہ کاری مرکز پر گئے، تو انہوں نے وہاں لوگوں کا ایک بڑا مجمع دیکھا جو ٹیکہ لگوانے کے خواہش مند تھے۔ وہاں جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ ’’یہاں پر کوئی بھی CoWIN کا استعمال نہیں کرتا۔ جن لوگوں کے پاس اسمارٹ فون ہے، انہیں بھی سلاٹ بُک کرانے میں دقت پیش آ رہی ہے،‘‘ پرساد کہتے ہیں۔ ’’ہم اپنا آدھار کارڈ لیکر ٹیکہ کاری مرکز پر جاتے ہیں اور اپائنٹمنٹ حاصل کرتے ہیں۔‘‘

پرساد کو کچھ گھنٹے انتظار کرنے کے بعد پہلی خوراک مل گئی تھی۔ کچھ دنوں بعد، انہیں پتہ چلا کہ ٹیکہ کاری مرکز پر جو لوگ موجود تھے ان میں سے کچھ لوگوں کا کووڈ۔۱۹ ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے۔ ’’یہ جان کر مجھے تشویش ہونے لگی،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’مجھے بخار تھا، لیکن میں نے سوچا کہ یہ ٹیکہ لگوانے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ تین دنوں کے بعد جب بخار کم نہیں ہوا، تو میں نے اپنا ٹیسٹ کروایا۔ نتیجہ پازیٹو آیا۔ لیکن، شکر ہے کہ بغیر کسی پریشانی کے میں صحت یاب ہو گیا۔‘‘ انہیں ٹیکہ کی دوسری خوراک مئی کے دوسرے ہفتہ میں ملی تھی۔

بیڈ کے ٹیکہ کاری مراکز بھیڑ سے بچنے کے لیے، اب ٹوکن دے رہے ہیں – ایک دن میں تقریباً ۱۰۰ لوگوں کو۔ لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے، ۵۵ سالہ سنگیتا کالے کہتی ہیں جو نیکنور میں اپنی پانچ ایکڑ زمین پر سویابین اور ارہر کی کھیتی کرتی ہیں۔ ’’پہلے، ٹیکہ لگوانے کے لیے بھیڑ جمع ہوتی تھی۔ اب وہ ٹوکن لینے کے لیے جمع ہوتے ہیں،‘‘ سنگیتا کہتی ہیں۔ ’’ٹوکن جیسے ہی تقسیم ہوجاتا ہے، لوگ یہاں سے چلے جاتے ہیں۔ اسی لیے پورے دن کی بجائے اب صرف صبح میں ہی کچھ گھنٹوں کے لیے بھیڑ لگتی ہے۔‘‘

سنگیتا نے ابھی تک ٹیکہ کی پہلی خوراک نہیں لی ہے کیوں کہ وہ ڈری ہوئی ہیں۔ ٹوکن لینے کے لیے انہیں صبح ۶ بجے ٹیکہ کاری مرکز جانا ہوگا۔ ’’صبح سویرے کافی لوگ لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں، جو کہ خوفناک ہے۔ میں نے ابھی تک اپنی پہلی خوراک نہیں لی ہے کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ بعد میں مجھے بخار ہو جائے گا۔‘‘

Waiting to get her second dose, Rukmini Shinde, 94, has been allaying her neighbours' fears of the Covid-19 vaccines
PHOTO • Parth M.N.

اپنی دوسری خوراک کے لیے انتظار کر رہیں، ۹۴ سالہ رُکمنی شنڈے کووڈ۔۱۹ ٹیکوں سے متعلق اپنے پڑوسیوں کے خدشات کو دور کرتی رہتی ہیں

’’کچھ نہیں ہوگا،‘‘ سنگیتا کی پڑوسن، رُکمنی شنڈے ان سے کہتی ہیں۔ ’’آپ کو ہلکا سا بدن درد ہو سکتا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مجھے تو وہ بھی نہیں ہوا تھا۔‘‘

رُکمنی ۹۴ سال کی ہیں اور اپنی عمر کے سو سال مکمل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ ’’چھ سال میں، میں ۱۰۰ سال کی ہو جاؤں گی،‘‘ ان کی عمر کے بارے میں پوچھنے پر وہ مجھ سے کہتی ہیں۔ انہیں ٹیکہ کی پہلی خوراک اپریل کے وسط میں ملی تھی۔ ’’اب میں دوسری خوراک حاصل کرنے کا انتظار کر رہی ہوں۔ اب انہوں نے دو خوراکوں کے درمیان کا وقفہ بڑھا دیا ہے،‘‘ وہ مجھ سے کہتی ہیں۔

کووی شیلڈ (Covishield) کی دو خوراکوں کے بیچ کا وقفہ مئی کے دوسرے ہفتے میں ۶-۸ ہفتے سے بڑھا کر ۱۲-۱۶ ہفتے کر دیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت نے نئے مطالعوں کی بنیاد پر یہ فیصلہ لیا تھا، جس میں مشاہدہ کیا گیا تھا کہ اگر دو ٹیکوں کے درمیان کا وقفہ لمبا رہا تو اس کے بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔ اس سے ٹیکہ بنانے والوں اور حکومتوں کو بھی ویکسین بنانے اور لوگوں کو لگانے کے لیے مزید وقت مل رہا ہے۔

لیکن ٹیکہ لگانے کی رفتار کو تیز کرنے، اور اس میں جلدی کرنے کی ضرورت ہے۔

بیڈ میں ۳۵۰ ٹیکہ کاری مراکز ہیں جو پورے ضلع میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ضلع کے ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہر مرکز پر ایک معاون نرس دائی (اے این ایم) ایک دن میں ۳۰۰ لوگوں کو ٹیکہ لگا سکتی ہے۔ ’’اگر ہم ٹیکہ کاری کے ہر مرکز پر ایک اے این ایم کی تقرری کریں، تو ہم ایک دن میں ایک لاکھ پانچ ہزار لوگوں کو ٹیکہ لگا سکتے ہیں،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’لیکن چونکہ ویکسین وافر مقدار میں دستیاب نہیں ہیں، اس لیے ہم ایک دن میں اوسطاً ۱۰ ہزار لوگوں کو ٹیکہ لگا رہے ہیں۔‘‘

’’اگر یہی حال رہا تو، ضلع کی پوری آبادی کو ٹیکہ لگانے میں پورا سال لگ جائے گا،‘‘ اُس سرکاری عہدیدار نے کہا۔ ’’اور تیسری لہر بس ایک مہینہ بعد آنے والی ہے۔‘‘

پوسٹ اسکرپٹ: ۷ جون کو شام ۵ بجے، وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم کے نام اپنے خطاب میں قومی ٹیکہ کاری حکمت عملی میں تبدیلیوں کا اعلان کیا۔ مرکزی حکومت ویکسین کی خریداری کے ریاستی کوٹہ کو اپنے ہاتھ میں لے لے گی اور اب ملک میں تیار ہونے والی ۷۵ فیصد ویکسین خریدے گی۔ پرائیویٹ اسپتالوں کو ان کا ۲۵ فیصد کوٹہ ملنا جاری رہے گا۔ ریاستوں کو مرکز سے ٹیکے ملیں گے، لیکن وزیر اعظم نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا حالیہ تقسیم کا اصول بھی تبدیل ہوگا۔ تمام بالغ افراد (جن کی عمر ۱۸ سال یا اس سے زیادہ ہے) کو حکومت کے ذریعے چلائے جا رہے مراکز پر مفت ٹیکے لگائے جائیں گے، جب کہ پرائیویٹ اسپتالوں کو ویکسین کی قیمت میں بطور سروس چارج صرف ۱۵۰ روپے تک کا اضافہ کرنے کی اجازت ہوگی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ نئی پالیسی ۲۱ جون سے نافذ العمل ہوگی۔ ’’ CoWIN پلیٹ فارم کی تعریف کی جا رہی ہے،‘‘ انہوں نے مزید کہا۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Parth M.N.

ପାର୍ଥ ଏମ୍.ଏନ୍. ୨୦୧୭ର ଜଣେ PARI ଫେଲୋ ଏବଂ ବିଭିନ୍ନ ୱେବ୍ସାଇଟ୍ପାଇଁ ଖବର ଦେଉଥିବା ଜଣେ ସ୍ୱାଧୀନ ସାମ୍ବାଦିକ। ସେ କ୍ରିକେଟ୍ ଏବଂ ଭ୍ରମଣକୁ ଭଲ ପାଆନ୍ତି ।

ଏହାଙ୍କ ଲିଖିତ ଅନ୍ୟ ବିଷୟଗୁଡିକ Parth M.N.
Translator : Qamar Siddique

କମର ସିଦ୍ଦିକି ପିପୁଲ୍ସ ଆରକାଇଭ ଅଫ୍ ରୁରାଲ ଇଣ୍ଡିଆର ଅନୁବାଦ ସମ୍ପାଦକ l ସେ ଦିଲ୍ଲୀ ରେ ରହୁଥିବା ଜଣେ ସାମ୍ବାଦିକ l

ଏହାଙ୍କ ଲିଖିତ ଅନ୍ୟ ବିଷୟଗୁଡିକ Qamar Siddique