’’ان کی یہ تصویر دیوار پرنہیں ہوتی،‘‘ شیلا تارے کہتی ہیں۔ ’’اگر ان کا علاج وقت پر ہو جاتا، تو آج وہ ہمارے ساتھ ہوتے۔‘‘
ان کے شوہر اشوک کی تصویر کے نیچے مراٹھی میں لکھا ہے: ’2020/05/30 کو انتقال‘۔
اشوک کا انتقال مغربی ممبئی کے باندرہ کے کے بی بھابھا اسپتال میں ہوا تھا۔ موت کا سبب تھا ’مشکوک‘ کووڈ- ۱۹ انفیکشن۔ وہ ۴۶ سال کے تھے اور برہن ممبئی مہانگر پالیکا (بی ایم سی) میں صفائی ملازم کے طور پر کام کرتے تھے۔
۴۰ سالہ شیلا اپنے آنسوؤں کو روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مشرقی ممبئی کے چیمبور میں، جھگی جھونپڑی باز آبادکاری اتھارٹی (ایس آر اے) کی عمارت میں فیملی کے ۲۶۹ مربع فٹ کے کرایے کے فلیٹ میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ان کے بیٹے نکیش اور سوپنِل اور بیٹی منیشا، اپنی ماں کے بولنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
شیلا اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتی ہیں، ’’۸ سے ۱۰ اپریل کے درمیان، جب بھانڈوپ میں ان کی چوکی کا مقدم [کووڈ- ۱۹] پازیٹو پایا گیا، تو انہوں نے اس چوکی کو بند کر دیا اور تمام ملازمین سے [اسی علاقے میں، شہر کے ایس وارڈ میں] نہور چوکی میں رپورٹ کرنے کو کہا۔ ایک ہفتہ بعد، انہوں نے سانس لینے میں دقت کی شکایت کی۔‘‘
اشوک کچرا اٹھانے والے ٹرک پر ایک ٹیم کے ساتھ کام کرتے تھے۔ یہ ٹیم بھانڈوپ میں مختلف مقامات سے کچرا اٹھاتی تھی۔ وہ کوئی تحفظاتی لباس نہیں پہنتے تھے۔ انہیں ذیابیطس تھا۔ انہوں نے چیف سپروائزر کی توجہ اپنی علامات کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن بیماری کے سبب چھٹی دینے اور طبی جانچ کرانے کی ان کی درخواستوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ شیلا اُس دن کو یاد کرتی ہیں، جب وہ اشوک کے ساتھ نہور چوکی گئی تھیں۔
’’میں ان کے ساتھ صاحب سے یہ گزارش کرنے گئی تھی کہ وہ انہیں پانچ دن کی چھٹی دے دیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ اشوک نے اپنے ۲۱ دنوں کی پیڈ چھٹی میں سے ایک بھی چھٹی نہیں لی تھی، وہ کہتی ہیں۔ ’’کرسی پر بیٹھے ہوئے صاحب نے کہا کہ اگر سبھی لوگ چھٹی پر چلے جائیں گے، تو ایسی حالت میں کام کون کرے گا؟‘‘
اس لیے اشوک اپریل اور مئی میں بھی کام کرتے رہے۔ ان کے ساتھی سچن بانکر (ان کی درخواست پر نام بدل دیا گیا ہے) بتاتے ہیں کہ وہ دیکھ سکتے تھے کہ اشوک کو کام کرنے میں پریشانی ہو رہی ہے۔











