انیتا گھوٹالے کے لیے، ۲۱ مارچ بروز ہفتہ کام کا ایک عام دن تھا – حالانکہ شہر کی بہت سی دکانیں بند، بازار سنسان اور سڑکیں خاموش تھیں۔ کووِڈ- ۱۹ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے حکومت کے ذریعے اعلان شدہ لاک ڈاؤن کے سبب، اُس دن ممبئی میں بہت سے لوگ اپنے گھروں میں بند تھے۔

لیکن انیتا اُس دن بھی سڑکوں پر جمع ہو چکے سیاہ اور گندے پانی سے نکلنے والے کچرے کو ہٹاتے ہوئے ان خاموش گلیوں کی صفائی کر رہی تھیں۔ کیچڑ بھرا کچھ پانی ان کے پیروں پر بھی لگ گیا تھا۔ ’’ہمارے لیے تو ہر دن جوکھم بھرا ہے۔ اس کورونا کے سبب صرف ابھی نہیں، بلکہ کئی نسلوں سے [یہ ہمارے لیے ایسا ہی رہا ہے]،‘‘ انہوں نے کہا۔

صبح کے تقریباً ۹ بج رہے تھے، اور وہ دو گھنٹے سے کام کر رہی تھیں، مشرقی ممبئی کے چیمبور کے ماہُل گاؤں میں واقع ایم-ویسٹ وارڈ کی سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر جھاڑو لگا رہی تھیں۔

بحران کی اس گھڑی میں وہ اپنی صحت کی دیکھ بھال کیسے کر رہی ہیں؟ ’’یہ ماسک ہمیں کل [۲۰ مارچ کو] ہی ملے، وہ بھی تب جب ہم نے اس وائرس کی وجہ سے ان کا مطالبہ کیا تھا،‘‘ انہوں نے کہا۔ ایک ماسک ۳۵ سالہ انیتا کی کمر کے پاس ان کی ساڑی سے لٹک رہا تھا اور (وائرس سے) بچنے کے لیے وہ اپنے گلے میں دوپٹّہ لپیٹے ہوئی تھیں۔ ’’یہ ماسک پتلے ہیں اور [دو دن پہننے کے بعد] دوبارہ استعمال میں نہیں لائے جا سکتے،‘‘ انہوں نے کہا۔ وہ جو کام کرتی ہیں، اس میں انہوں نے دستانے اور مضبوط حفاظتی جوتے کے بارے میں کبھی نہیں سنا۔

انیتا کا تعلق ماتنگ برادری سے ہے – جو مہاراشٹر میں درج فہرست ذات کے طور پر فہرست بند ہے – اور کہتی ہیں کہ ان کی فیملی کئی نسلوں سے صفائی کا کام کر رہی ہے۔ ’’میرے دادا جی [ممبئی کے] کھلے نالے سے انسانوں کا فضلہ اپنے سر پر رکھ کر لے جاتے تھے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’چاہے کوئی بھی نسل رہی ہو یا سال، ہمارے لوگوں کو ہمیشہ انسانوں کے طور پر اپنے حقوق کے لیے لڑنا پڑا ہے۔‘‘

اس سے بھی خطرناک صورتحال یہ ہے کہ ماہل، جہاں انیتا رہتی اور کام کرتی ہیں، وہ کچھ برسوں سے اپنے ارد گرد کی کیمیاوی صنعتوں اور ریفائنریوں کی وجہ سے بہت زیادہ زہریلی ہوا کے سبب خبروں میں ہے۔

Left: On Saturday, like on all their work days, safai karamcharis gathered at 6 a.m. at the chowki in M-West ward, ready to start another day of cleaning, at great risk to themselves. Right: Among them is Anita Ghotale, who says, 'We got these masks only yesterday [on March 20], that too when we demanded them due to the virus'
PHOTO • Jyoti Shinoli
Left: On Saturday, like on all their work days, safai karamcharis gathered at 6 a.m. at the chowki in M-West ward, ready to start another day of cleaning, at great risk to themselves. Right: Among them is Anita Ghotale, who says, 'We got these masks only yesterday [on March 20], that too when we demanded them due to the virus'
PHOTO • Jyoti Shinoli

بائیں: ہفتہ کو، کام کے دیگر سبھی دنوں کی طرح ہی، صفائی ملازمین صبح ۶ بجے ایم-ویسٹ وارڈ کی چوکی پر جمع ہوئے تھے، اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر صفائی کا کام شروع کرنے کے لیے۔ دائیں: ان میں سے ایک انیتا گھوٹالے بھی ہیں، جو کہتی ہیں، ’یہ ماسک ہمیں کل [۲۰ مارچ کو] ہی ملے، وہ بھی تب جب ہم نے اس وائرس کی وجہ سے ان کا مطالبہ کیا تھا‘

انیتا اور ان کی فیملی کو ۲۰۱۷ میں جھونپڑ پٹی بازآبادکاری پروجیکٹ کے تحت شمال مشرقی ممبئی کے وکرولی مشرق سے یہاں منتقل کیا گیا تھا۔ وہ سبھاش نگر میں ایک کمرہ اور کچن والے گھر میں رہتے ہیں۔ ان کی ۶ سے ۷ منزلہ عمارتوں والی یہ بستی بی پی سی ایل (بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ) کی ریفائنری سے محض ۱۵ میٹر دور، سڑک کے اُس پار ہے۔

گزشتہ ایک دہائی میں، ۶۰ ہزار سے زیادہ لوگوں کے رہنے کے لیے یہاں ۱۷۲۰۵ گھروں والی ۷۲ عمارتیں ’پروجیکٹ سے متاثرہ لوگوں‘ کی کالونیوں کے طور پر بنائی گئیں۔ شہر میں مختلف پروجیکٹوں کے ذریعے بے گھر ہونے کے بعد لوگوں کو یہاں پھر سے بسایا گیا تھا۔ بھاری مقدار میں آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کے بالکل قریب ہونے اور لگاتار جوکھم کے سبب، یہاں کے باشندوں نے سانس لینے میں دقت، پھیپھڑے سے جڑی پریشانیوں، کھانسی، آنکھ اور جلد میں جلن جیسی خطرناک بیماریوں کی شکایت کی ہے۔

طویل عرصے تک مخالفت کرنے اور عدالتوں میں عرضی دائر کرنے کے بعد، بامبے ہائی کورٹ نے ستمبر ۲۰۱۹ میں میونسپل کارپوریشن کو حکم دیا کہ وہ ان کے لیے متبادل رہائش مہیا کرائے جانے تک ان کنبوں کو ٹرانزٹ کرایے کے طور پر ۱۵ ہزار روپے دے۔ لیکن، انیتا کہتی ہیں، ’’بی ایم سی نے گزشتہ چار مہینوں میں کچھ نہیں کیا ہے۔ میرا چھ سال کا بیٹا، ساحل اکثر بیمار پڑتا ہے اور اسے اس گندی ہوا اور کیمیاؤں کی بدبو کے سبب سانس لینے میں پریشانی ہوتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ وائرس اگر یہاں آ گیا، تو ہم کیا کریں گے۔‘‘

انیتا یومیہ مزدوری کے طور پر ۲۰۰ روپے کماتی ہیں؛ جس دن وہ کام نہیں کر پاتی ہیں، اس دن کا انہیں پیسہ نہیں ملتا۔ اور انہیں تین مہینے کی مزدوری بھی نہیں ملی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ اکثر ٹھیکہ دار وقت پر تنخواہ نہیں دیتے، یہ کہتے ہوئے کہ برہن ممبئی مہا نگر پالیکا کا ٹھوس فضلہ کے نظم کا محکمہ – جس کے لیے انیتا گزشتہ ۱۵ برسوں سے کام کر رہی ہیں – فنڈ کو روکے ہوئے ہے۔

ان کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے ماہل کے ایک میونسپل کارپوریشن اسکول میں پڑھتے ہیں۔ ان کے شوہر، ۴۲ سالہ نریش، چیمبور کی کالونیوں میں دروازے دروازے لہسن بیچتے ہیں – اور اس کے بدلے میں بیکار ہو چکی پلاسٹک کی چیزیں لیتے اور پھر انہیں کسی کباڑی کو بیچ دیتے ہیں۔ ان کی ساس چیمبور میں کچرے کے انبار سے پلاسٹک کو الگ کرتی ہیں، جسے وہ بھی کباڑی کو ہی بیچتی ہیں۔

’’ہم تینوں مل کر ہر مہینے ۵-۶ ہزار روپے سے زیادہ نہیں کماتے،‘‘ انیتا کہتی ہیں۔ اس رقم سے، سات ممبران پر مشتمل یہ فیملی اپنے ماہانہ راشن، بجلی بل، دیگر اخراجات – اور مختلف بیماریوں اور صحت کی نگرانی کا نظم و نسق کرتا ہے۔

لیکن انیتا کو تنخواہ ملنے میں دیر کے سبب، فیملی کے بجٹ کو ہر ماہ آگے تک چلانا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ ’’سرکار آجروں سے کہہ رہی ہے کہ وہ مزدوروں کو پیشگی مزدوری دے دیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’لیکن، ہمارا جو بقایا مہینوں سے زیر التوا ہے اس کا کیا؟‘‘

PHOTO • Jyoti Shinoli

کتِن گنجے (اوپر بائیں، کالی شرٹ میں) اور ان کے ساتھیوں کے ذریعے اٹھائے جانے والے کچرے میں مختلف قسم کی خطرناک چیزیں ہوتی ہیں۔ بار بار کے مطالبہ کے باوجود، انہیں ابھی تک تحفظاتی لباس نہیں دیے گئے ہیں۔ ’اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے‘، کتن کہتے ہیں۔ ’لیکن کم از کم اس وائرس کے سبب ہی...ہمارے بارے میں کچھ تو سوچیں‘

انیتا جہاں کام کرتی ہیں، وہاں سے تقریباً آدھا کلومیٹر دور، اسی وارڈ میں کچرا جمع کرنے کی جگہ پر، کتِن گنجے کچرے کے انبار کے درمیان کھڑے ہیں اور صرف چپل پہنے ہوئے ہیں۔ انیتا کی طرح، وہ بھی میونسپل کارپوریشن کے ٹھوس فضلے کے نظم کے محکمہ کے ذریعے ٹھیکہ پر رکھے گئے ایک مزدور ہیں۔ میونسپل کارپوریشن نے اس کام کے لیے ۶۵۰۰ مزدوروں کو ٹھیکہ پر رکھا ہے، اس محکمہ کے چیف سپروائزر جے ونت پراڈکر کہتے ہیں۔

کتِن جس کچرے کو اٹھا رہے ہیں، اس میں کانچ کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے، زنگ آلودہ لوہے کی کیل، استعمال کیے جا چکے سینٹری نیپکن اور سڑے ہوئے کھانے شامل ہیں۔ وہ انہیں اور دیگر خطرناک آلودہ اشیاء کو بانس کی ایک لاٹھی کے ایک کنارے پر لگے کھدائی والے کانٹے سے جمع کرتے ہیں، اور پلاسٹک کی ایک چٹائی کے اوپر ان کا ڈھیر لگاتے ہیں۔ پھر وہ اور ان کا ایک ساتھی – ٹیم میں کل پانچ آدمی ہیں – چٹائی کو اٹھاکر سارا کچرا ایک ٹرک میں ڈال دیتے ہیں۔

’’ہمیں [ربر کے] یہ دستانے کل ہی [۲۰ مارچ کو] ملے ہیں،‘‘ ۲۸ سالہ کتِن کہتے ہیں، جن کا تعلق ماتنگ برادری سے ہی ہے۔ عام طور پر، وہ اپنے ننگے ہاتھوں سے کچرا اٹھاتے ہیں۔ ’’یہ نئے دستانے ہیں، لیکن دیکھئے – یہ والا پھٹا ہوا ہے۔ ایسے دستانے سے اس قسم کے کچرے میں ہم اپنے ہاتھ محفوظ کیسے رکھیں؟ اور اب یہ وائرس آ گیا ہے۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں؟‘‘

صبح کے ساڑھے نو بج رہے ہیں، اور انہیں ۲ بجے تک ماہل کے مختلف حصوں میں کچرا پھینکنے کے ۲۰ مقامات کو صاف کرنا ہے۔ ’’اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن کم از کم اس وائرس کے سبب ہی آپ کو [میونسپل کارپوریشن اور سرکار] ہمارے بارے میں کچھ تو سوچنا چاہیے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ہم یہاں اس کچرے میں عوام کے لیے ہیں، لیکن کیا لوگ ہمارے بارے میں سوچیں گے؟‘‘

بے شمار جوکھم بھرے اس کام کے بدلے کتِن کو روزانہ ۲۵۰ روپے ملتے ہیں۔ ان کی بیوی، ۲۵ سالہ سریکھا، دوسرے کے گھروں میں کام کرتی ہیں۔

'We got these [rubber] gloves only yesterday [March 20]', Katin says. “These are new gloves, but see – this one has torn. How do we keep our hands safe in this kind of garbage with such gloves? And now there is this virus. Are we not human?'
PHOTO • Jyoti Shinoli
'We got these [rubber] gloves only yesterday [March 20]', Katin says. “These are new gloves, but see – this one has torn. How do we keep our hands safe in this kind of garbage with such gloves? And now there is this virus. Are we not human?'
PHOTO • Jyoti Shinoli

’ہمیں [ربر کے] یہ دستانے کل ہی [۲۰ مارچ کو] ملے ہیں‘، کتِن کہتے ہیں۔ ’یہ نئے دستانے ہیں، لیکن دیکھئے – یہ والا پھٹا ہوا ہے۔ ایسے دستانے سے اس قسم کے کچرے میں ہم اپنے ہاتھ محفوظ کیسے رکھیں؟ اور اب یہ وائرس آ گیا ہے۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں؟‘

کورونا وائرس تو اس شہر کے لیے نیا ہے، لیکن ان کی اور دیگر صفائی ملازمین کی طرف سے بار بار کیا جانے والا وہ مطالبہ نیا نہیں ہے جو وہ محفوظ اور مستقل نوکری، صحت بیمہ، اور چہرے کے ماسک، دستانے اور جوتے جیسے حفاظتی آلات کی مسلسل سپلائی کے لیے کرتے آ رہے ہیں۔

خود کو محفوظ رکھنا اب اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔ ۱۸ مارچ کو، کچرا واہتوک شرمک سنگھ – ممبئی واقع ایک تنظیم جو صفائی ملازمین کے حقوق کے لیے کام کرتی ہے – کے ذریعے میونسپل کارپوریشن کمشنر کو ایک خط بھیجا گیا، جس میں زمین پر کام کرنے والے مزدوروں کے لیے مناسب حفاظتی آلات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ۲۰ مارچ کو، کچھ مزدوروں کو ماسک دیے گئے۔

’’وائرس کے سبب، ہم نے درخواست کی تھی کہ بی ایم سی کے اہلکار کچرا ڈھونے والے ٹرکوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو صابن اور سینِٹائزر دے، لیکن ہمیں کچھ نہیں ملا،‘‘ ۴۵ سالہ دادا راؤ پاٹیکر کہتے ہیں، جو ایم-ویسٹ وارڈ میں ٹرکوں پر کام کرتے ہیں، اور نیو بدھسٹ ہیں۔ ’’جو ملازمین دوسروں کی گندگی صاف کر رہے ہیں، ان کی صحت کی لگاتار جانچ ہونی چاہیے۔ انہیں وائرس سے متاثر ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔‘‘

حالانکہ، چیف سپروائزر، پراڈکر کہتے ہیں، ’’ہم نے اپنے سبھی مزدوروں کو اچھی کوالٹی والے ماسک، دستانے اور سینِٹائزر دیے ہیں۔ اور وائرس کے پھیلنے کو دیکھتے ہوئے ان کی حفاظت کو یقینی بنا رہے ہیں۔‘‘

کووِڈ- ۱۹ کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ اودھو ٹھاکرے نے ۲۰ مارچ کو جن احتیاطی اقدامات کا اعلان کیا تھا، اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے ۲۲ مارچ کو مکمل لاک ڈاؤن کر دیا گیا، صرف انتہائی ضروری خدمات کو چھوڑ کر۔ ۲۱ مارچ کو اس اسٹوری کے لیے رپورٹنگ کرتے وقت، مستقل اور ٹھیکہ پر رکھے گئے، دونوں ہی قسم کے صفائی ملازمین شہر کے وارڈوں کی چوکیوں پر صبح ساڑھے چھ بجے سے ہی جمع ہونے لگے تھے، کیوں کہ یہیں پر دن کے لیے ان کی حاضری لگائی جاتی ہے اور انہیں صفائی کرنے کا مقام سونپا جاتا ہے۔

Archana Chabuskwar and her family (left) in their home in the Anand Nagar slum colony and (right) a photograph of her deceased husband Rajendra: 'How do we clean hands constantly? The water comes here every two days. And who can afford that liquid [hand sanitiser]?'
PHOTO • Jyoti Shinoli
Archana Chabuskwar and her family (left) in their home in the Anand Nagar slum colony and (right) a photograph of her deceased husband Rajendra: 'How do we clean hands constantly? The water comes here every two days. And who can afford that liquid [hand sanitiser]?'
PHOTO • Jyoti Shinoli

ارچنا چابک سوار اور ان کی فیملی (بائیں) آنند نگر کی جھگی بستی میں اپنے گھر پر اور (دائیں) ان کے متوفی شوہر راجندر کی ایک تصویر: ’ہم اپنے ہاتھ لگاتار کیسے دھوئیں؟ یہاں پر پانی ہر دو دن کے بعد آتا ہے۔ اور اس سیال [ہاتھ صاف کرنے کا سینِٹائزر] کا خرچ کون برداشت کر سکتا ہے؟‘

ہمارا کام بنیادی خدمات کا حصہ ہے۔ ہمیں باہر نکلنا ہی پڑے گا۔ جس طرح سے سرحد پر تعینات فوجی ہماری حفاظت کر رہے ہیں، ویسے ہی ہم صفائی ملازمین کو بھی اپنے شہریوں کی حفاظت کرنی ہے،‘‘ پاٹیکر کہتے ہیں۔

لیکن صفائی ملازمین اپنی حفاظت کیسے کریں گے؟ ’’سرکار کہہ رہی ہے کہ اپنے ہاتھوں کو لگاتار دھوتے رہیں۔ ہم یہ کیسے کریں؟ یہاں پر پانی ہر دو دن کے بعد آتا ہے۔ اور اس سیال [ہاتھ صاف کرنے کا سینِٹائزر] کا خرچ کون برداشت کر سکتا ہے؟ ہمیں ایک ہی پبلک ٹوائلیٹ کو سیکڑوں لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا پڑتا ہے،‘‘ ۳۸ سالہ ارچنا چابک سوار کہتی ہیں، جو نیو بدھسٹ برادری سے ہیں۔ وہ سبھاش نگر کے ۴۰ سے زیادہ گھروں سے روزانہ کچرا جمع کرتی ہیں، اور یومیہ مزدوری کے طور پر ۲۰۰ روپے کماتی ہیں۔

ان کا ۱۰۰ مربع فٹ کا گھر، چیمبور کے آنند نگر کی ایک تنگ گلی میں ہے، جو ماہل میں واقع سبھاش نگر سے چار کلومیٹر دور ہے۔ اس جھونپڑ پٹی میں بہت سے صفائی ملازمین کے کنبے رہتے ہیں، جن میں سے کئی ۱۹۷۲ کے قحط کے دوران جالنہ، ستارا اور سولاپور سے یہاں آئے تھے۔ کچھ سال پہلے، ارچنا کے شوہر راجندر کا پیر بھاری دھات سے بنے کوڑے دان سے دب جانے کی وجہ سے ٹوٹ گیا تھا، جب وہ اسے دیگر ملازمین کے ساتھ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پھیپھڑے کی بیماری کے سبب ۲۰۱۷ میں ان کا انتقال ہو گیا۔

’’ہمارے لوگ تو ویسے بھی روزانہ مرتے رہتے ہیں، اور کوئی ہمارے بارے میں پوچھتا بھی نہیں،‘‘ ارچنا کہتی ہیں۔ ’’اب اگر وائرس سے ہماری موت ہو جائے، تو کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف ہیں، اور ’روزنامہ میرا وطن‘، ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Jyoti Shinoli

جیوتی شِنولی پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا (پاری) کی ایک نامہ نگار ہیں؛ وہ پہلے ’می مراٹھی‘ اور ’مہاراشٹر۱‘ جیسے نیوز چینلوں کے ساتھ کام کر چکی ہیں۔

Other stories by Jyoti Shinoli