’’پنکھے والے [ونڈ مل یا ہوائی چکی]، بلیڈ والے [شمسی توانائی کے فارم] ہمارے اورنوں پر قبضہ کرتے جا رہے ہیں،‘‘ سونٹا گاؤں کے سومیر سنگھ بھاٹی کہتے ہیں۔ وہ کسان اور چرواہے ہیں، اور ان کا گھر جیسلمیر ضلع میں دیگرائے اورن کے قریب ہے۔
’اورن‘ ایک قدرتی باغ ہوتا ہے، جسے ایک مشترکہ املاک اور وسیلہ مانا جاتا ہے۔ یہاں کوئی بھی آ جا سکتا ہے۔ ہر ایک اورن کے ایک دیوتا ہوتے ہیں، جن کی آس پاس کے گاؤں والے پوجا کرتے ہیں، اور ارد گرد کی زمین وہاں رہنے والی برادریوں کے ذریعے تجاوزات سے پاک رکھی جاتی ہے۔ اورن کے درخت نہیں کاٹے جا سکتے ہیں، صرف سوکھ کر گری ہوئی لکڑیوں کو ہی جلانے کے لیے لے جایا جا سکتا ہے، اور اس زمین پر کسی قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ اورن کے آبی ذخائر کو بھی مقدس مانا جاتا ہے۔
حالانکہ، سومیر سنگھ بتاتے ہیں، ’’انہوں نے [قابل تجدید توانائی کی کمپنیوں نے] صدیوں پرانے درخت کاٹ ڈالے اور گھاس اور جھاڑیاں اکھاڑ دی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے۔‘‘
سومیر سنگھ کے اس غصے میں دراصل جیسلمیر کے سینکڑوں گاؤوں میں رہنے والے لوگوں کا غصہ شامل ہے، جنہیں یہ لگتا ہے کہ اورنوں پر قابل تجدید توانائی (آر ای) کی کمپنیوں نے جبراً قبضہ کر لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ ۱۵ سالوں میں اس ضلع کی ہزاروں ہیکٹیئر زمینیں بجلی کے ہائی ٹینشن تار اور مائیکرو گرڈ والی ہوائی چکیوں (ونڈ ملز) اور شمسی توانائی کے پلانٹوں کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ ان سب نے وہاں کی مقامی ماحولیات کو بری طرح متاثر کیا ہے، اور ان لوگوں کے معاش پر اثر ڈالا ہے جو ان جنگلات پر منحصر ہیں۔
’’مویشیوں کے گھاس چرنے کی کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔ مارچ کے مہینہ میں ہی گھاس سوکھ چکی ہے اور اب ہمارے مویشیوں کے لیے چارے کے نام پر صرف کیر اور کھیجڑی کے درختوں کے پتے بچے ہیں۔ جانوروں کو پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا ہے، اس لیے وہ کم دودھ دیتے ہیں۔ جو مویشی ایک دن میں پانچ لیٹر دودھ دیتے تھے، اب وہ مشکل سے دو لیٹر دودھ ہی دیتے ہیں،‘‘ مویشی پرور جورا رام کہتے ہیں۔
نیم خشک گھاس کے میدان والے اورن مقامی برادریوں کے لیے کافی مفید ہیں۔ یہ مویشیوں کے لیے ہری گھاس، چارہ، پانی اور اپنے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے ہزاروں لوگوں کو جلاون کی لکڑی مہیا کراتے ہیں۔





























