’’نہ تو آپ چھٹی پر جا سکتے ہیں، نہ بریک لے سکتے ہیں، اور نہ ہی کوئی مقررہ کام کے اوقات ہیں۔‘‘
شیخ صلاح الدین (۳۷) حیدر آباد کے باہر واقع ایک کیب (ٹیکسی) کمپنی میں بطور ڈرائیور کام کرتے ہیں، وہ اس کمپنی کا نام نہیں بتانا چاہتے۔ وہ ایک گریجویٹ ہیں، لیکن بتاتے ہیں کہ کمپنی کے ساتھ انہوں نے جس معاہدہ پر دستخط کیا تھا اسے کبھی پڑھا نہیں۔ ’’وہ قانونی شرائط سے بھرا ہوا ہے۔‘‘ وہ معاہدہ اُس ایپ میں موجود ہے جسے انہوں نے ڈاؤن لوڈ کیا تھا؛ ان کے پاس اس کی کوئی ہارڈ کاپی نہیں ہے۔
کولکاتا کے ڈلیوری ایجنٹ رمیش داس (بدلا ہوا نام) کہتے ہیں، ’’کسی معاہدہ پر دستخط نہیں ہوا تھا۔‘‘ مغربی بنگال کے پشچم میدنی پور ضلع کے بہارونا گاؤں سے مہاجرت کرکے کولکاتا آنے والے رمیش کو کسی قسم کی قانونی ضمانت نہیں چاہیے تھی، بلکہ وہ جلد از جلد کوئی نوکری کرنا چاہتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’کوئی کاغذی کارروائی نہیں ہوئی۔ ایپ میں ہمارا آئی ڈی [شناختی کارڈ] ہے – وہی ہماری واحد شناخت ہے۔ ہمیں یہ کام وینڈرز سے [تیسرے فریق کی مدد سے فراہم کردہ] ملا ہے۔‘‘
ہر ایک پارسل کی ڈیلیوری پر رمیش کو تقریباً ۱۲ سے ۱۴ فیصد کا کمیشن ملتا ہے اور ۴۰ سے ۴۵ پارسل پہنچانے پر وہ ایک دن میں تقریباً ۶۰۰ روپے کما سکتے ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’’اس میں نہ تو پٹرول/ڈیزل کا خرچ شامل ہے، نہ ہی کوئی بیمہ یا علاج کی سہولت، اور نہ ہی کوئی بھتہ (الاؤنس) ملتا ہے۔‘‘















