بی ٹی-کاٹن کی ناکامی
’’جس تکنیک [بی ٹی-کاٹن یا BG-I اور اس کی دوسری نسل BG-II] پر لوگ بہت زیادہ اِترا رہے تھے، وہ ناکام ہو چکی ہے،‘‘ کرانتھی نے ۲۰۱۶ میں مجھ سے کہا تھا۔ ’’اس کا مطلب ہے کہ کسانوں کو اب [جی ایم بیجوں میں] کم صلاحیت والے BG-I اور BG-II تکنیکوں کو شامل کرنا ہوگا اور دیگر کیڑوں کے ایک سیٹ کو چھوڑ کر، کیڑوں کو کنٹرول کرنے کے لیے حشرہ کش دواؤں کا استعمال کرنے کی جانب واپس جانا ہوگا۔‘‘
بی ٹی-کاٹن کو یہ نام بیسیلس تھورنجینیسس سے ملا ہے، جو مٹی میں رہنے والا ایک بیکٹیریا ہے۔ بی ٹی بیج میں بیکٹیریا سے پیدا ہونے والے کرائی (کرسٹل) جین ہوتے ہیں اور یہ بول وارم سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کپاس کے پودوں کے جینوم (خلیہ کا جینیاتی مواد) میں ڈالتے جاتے ہیں۔
بی ٹی-کاٹن کو بول وارم کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن کسانوں کو اب بی ٹی-کاٹن کے کھیتوں میں بھی یہ کیڑے ملیں گے، کرانتھی نے انڈسٹریل میگزینوں میں اور اپنے خود کے سی آئی سی آر بلاگ پر لگاتار کئی مضامین میں لکھا۔ اس وقت، ممکنہ تباہی کو لے کر نہ تو آئی سی اے آر محتاط نظر آیا اور نہ ہی مرکزی وزارتِ زراعت۔ ریاستی اور مرکزی حکومتیں تبھی سے گلابی کیڑے کی تباہی کے بارے میں جانتی ہیں، لیکن اس کا حل نہیں نکالا گیا ہے۔
امریکی بیج بایو ٹیک بین الاقوامی مونسینٹو کا ہندوستان کے بی ٹی-کاٹن بیج پر بازار پر اکیلا اختیار ہے۔ حکومت ہند نے ۲۰۰۲-۰۳ میں بی ٹی-کاٹن جاری کرنے اور اس کی فروخت کو منظوری دی تھی۔ صنعت فراہم کرنے والے مونسینٹو نے، بیچی گئی بیج کے ہر ایک بی پر تقریباً ۲۰ فیصد رائلٹی کے ساتھ ہندوستانی بیج کمپنیوں کو ’تکنیک منتقل کی‘۔ واحد مقصد حشرہ کش دواؤں کے استعمال کو کم کرنا اور کپاس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا تھا – جی ایم تکنیک کو دونوں مقاصد کے لیے اکسیر کے طور پر فروغ دیا گیا تھا۔
پہلے سال میں، بی ٹی-کاٹن ہائبرڈ بیج کے ۴۰۰ گرام کے تھیلے کی قیمت ۱۸۰۰ روپے تھی۔ اس کے بعد، مرکز اور ریاستی حکومت نے رائلٹی یا خصوصی قیمت اور پھر بی ٹی-کاٹن بیج کی قیمت کو کنٹرول کرنے کے لیے مداخلت کی۔ پھر بھی، بیج بازار کے تجزیہ کاروں کے مطابق، ابتدائی سالوں میں جب کہ ۴۰۰ گرام بی ٹی-کاٹن بیج والے تھیلے کی قیمت تقریباً ۱۰۰۰ روپے ہو گئی تھی، مونسینٹو کی رائلٹی خردہ قیمت کا ۲۰ فیصد بنی رہی۔ ہندوستانی بی ٹی-کاٹن بیج بازار کی قیمت ۴۸۰۰ کروڑ روپے لگائی گئی ہے، ڈاکٹر کرانتھی نے ۲۰۱۶ میں لکھا تھا۔
بی ٹی-کاٹن کا عالمی کاروبار ۲۲۶ لاکھ ہیکٹیئر میں پھیلا ہوا ہے، جس میں سے صرف ۱۶۰ لاکھ ہیکٹیئر تکنیک فراہم کرنے والے پرائیویٹ اداروں کے لیے کھلا ہے۔ ۲۰۱۴-۱۵ میں، ہندوستان میں بی ٹی-کاٹن نے ۱۱۵ لاکھ ہیکٹیئر پر قبضہ کر لیا۔ ۲۰۰۶-۰۷ میں، مونسینٹو نے BG-II ہائبرڈ جاری کیا، یہ کہتے ہوئے کہ نئی تکنیک زیادہ طاقتور، زیادہ ٹکاؤ ہے۔ اس نے دھیرے دھیرے BG-I کی جگہ لے لی۔ اور اب تک، سرکاری اندازے کے مطابق، BG-II ہائبرڈ کا ملک میں کپاس کے تقریباً ۱۳۰ لاکھ ہیکٹیئر کھیت کے ۹۰ فیصد سے زیادہ پر قبضہ ہے۔
بول گارڈ BG-II تکنیک، جس کے تحت کپاس کے پودوں میں بیسیلس تھرونجینیسس سے Cry1Ac اور Cry2Ab جین کا تعارف کرایا گیا تھا، کا دعویٰ ہے کہ یہ تین کیڑوں کے خلاف مزاحمت کی تعمیر کرے گا: امریکی بول وارم (ہیلیکوورپا آرمیگیرا)، گلابی کیڑے اور دھبہ دار کیڑے (ایریئس وٹیلا)۔ پہلی نسل کے ہائبرڈ، یا بی ٹی-کاٹن میں، بیج میں صرف ایک Cry1Ac جین ہوتا تھا۔
ڈاکٹر کرانتھی نے ایک دوسرے مضمون میں لکھا، ایکولوجی اور ماحولیات کے مطابق ہندوستان میں بی ٹی تکنیک کے مستقل استعمال کے لیے کوئی روڈمیپ نہیں ہے۔ وزارتِ ماحولیات کی جینیٹک انجینئرنگ اپروول کمیٹی کے ذریعے، کم از کم چھ الگ الگ بی ٹی-ایونٹ کو منظور کیا گیا تھا، ان کی دائمیت کے لیے ایونٹ پر مخصوص کوئی منصوبہ تیار کیے بغیر۔
بیکٹیریا بیسیلس تھورنجیینیسس میں، جین ایک پروٹین تیار کرتا ہے جو بول وارم مخالف زہر کا کام کرتا ہے۔ سائنس داں جین تیار کرنے کا کام کرتے ہیں جنہیں کپاس کے بیج میں منتقل کیا جا سکتا ہے، تاکہ پودھے بول ورام سے خود کو بچا سکیں۔ یہی جی ایم کپاس ہے۔ جب اس طرح کے جین کی تعمیر، پودے کے جینوم کی صلاحیتوں پر اپنی جگہ لیتی ہے، تو اسے ایک ’ایونٹ‘ کہا جاتا ہے۔
لیکن مزاحمت کے ایشوز کو اجاگر کرنے کے باوجود وارننگ کو کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، کرانتھی نے لکھا۔ مزاحمت ایک ترقی پذیر عمل ہے۔ زراعت میں جب پہلے کی مؤثر تکنیکیں ہدف شدہ کیڑے کو کنٹرول کرنا بند کر دیتی ہیں، تو کہا جاتا ہے کہ کیڑے کی مزاحمت تیار ہو گئی ہے۔ لیکن، انھوں نے لکھا، ہندوستان میں پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے ایک ہزار سے زیادہ قسم کے ہائبرڈ بی ٹی-کاٹن – اپنے خود کے بیجوں کے ساتھ بی ٹی ایونٹس کو پار کرکے – صرف چار سے پانچ سالوں کے اندر منظور کر لیے گئے، جس سے زرعی سائنس اور کیڑے کے نظم میں افراتفری پھیلی۔ نتیجتاً، کیڑوں کے نظم میں کپاس کی کھیتی کرنے والے ہندوستانی کسانوں کی عدم صلاحیت بڑھتی رہے گی۔