مہندر پھوٹانے کووڈ۔۱۹ ویکسین کی پہلی خوراک لینے کے لیے ۵ مئی کی صبح اپنے گھر سے نکلے تھے۔ وہ ۱۲ دنوں کے بعد اپنے گھر لوٹے۔ ’’یہ بہت اچھا دن ہونے والا تھا، لیکن کسی برے خواب میں تبدیل ہو گیا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
اس سے پہلے کہ مہندر ٹیکہ لگوا پاتے، پولیس نے انہیں حوالات میں بند کر دیا۔
مہاراشٹر کے بیڈ ضلع میں واقع نیکنور گاؤں کے رہنے والے، ۴۳ سالہ مہندر لگاتار کئی کوششوں کے بعد کووِن (CoWIN) پلیٹ فارم سے اپائنٹمنٹ بُک کرانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ’’مجھے ایک ایس ایم ایس ملا، جس میں بتایا گیا تھا کہ [۵ مئی کو] صبح ۹ بجے سے ۱۱ بجے کے درمیان میرا اپائنٹمنٹ کنفرم ہو گیا ہے،‘‘ مہندر بتاتے ہیں۔ انہیں اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لیے سلاٹ (یعنی ٹیکہ لگوانے کا وقت) ملا تھا – سبھی کی عمر ۴۵ سال سے کم ہے۔ ’’ہم تمام لوگ اپنی پہلی خوراک لینے کا انتظار کر رہے تھے۔ کووڈ۔۱۹ کی دوسری لہر خوفناک تھی،‘‘ مہندر کہتے ہیں۔
فیملی کے لوگ جب اپنے گاؤں، نیکنور سے ۲۵ کلومیٹر دور بیڈ شہر میں واقع ٹیکہ کاری مرکز پہنچے، تو ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ مرکز پر ویکسین کی کمی سے ۱۸ سے ۴۴ سال کے لوگوں کو ٹیکہ لگانے کا سلسلہ رک گیا تھا۔ ’’وہاں پر پولیس تعینات تھی،‘‘ مہندر بتاتے ہیں۔ ’’ہم نے انہیں اپنے اپائنٹمنٹ کی تصدیق کرنے والا میسج دکھایا۔ لیکن وہ بدتمیزی سے پیش آئے۔‘‘
پولیس اور قطار میں کھڑے لوگوں کے درمیان جم کر بحث ہونے لگی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس نے ان کے اوپر لاٹھی چارج کر دیا اور مہندر، ان کے بیٹے پارتھ، بھائی نتن اور چچیرے بھائی وویک سمیت چھ لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
ٹیکہ کاری مرکز پر تعینات پولیس کانسٹیبل، انورادھا گوہانے کے ذریعے درج کی گئی ابتدائی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) میں مذکورہ چھ لوگوں پر قطار میں رخنہ ڈالنے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے کا الزام ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، انہوں نے پولیس کانسٹیبل کو گالیاں دیں اور ان کی بے عزتی کی۔ ان کے اوپر گیارہ الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس میں غیر قانونی طور پر جمع ہونا، فساد کرنا، عوامی خدمت گار (پبلک سرونٹ یا سرکاری ملازمین) کو ضرر پہنچانا اور امن میں رخنہ پیدا کرنا شامل ہے۔






