وہ ۵۰ سال پہلے بنوائے گئے کولہاپور کے اس مضبوط باندھ کے چھوٹے سے پُل کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں – پوری طرح مطمئن اور تپتی گرمی سے بے فکر – اور تحمل کے ساتھ اُن سوالوں کے جواب دے رہے ہیں جو ہم نے دوپہر کے کھانے کے وقت ان سے پوچھے تھے۔ پُل کے اوپر وہ ہمارے ساتھ پورے جوش و توانائی کے ساتھ چہل قدمی بھی کرتے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ کس طرح ۱۹۵۹ میں یہ باندھ بنا تھا۔
چھ دہائی کے بعد، گن پتی ایشور پاٹل کو ابھی بھی سینچائی کا علم ہے اور وہ کسانوں اور کاشت کاری کو سمجھتے ہیں۔ انہیں ہندوستی جدوجہد آزادی کی تاریخ کا علم ہے، جس کا وہ ایک حصہ تھے۔ وہ ۱۰۱ سال کے ہیں اور ہندوستان کے آخری زندہ بچے مجاہدین آزادی میں سے ایک ہیں۔
’’میں صرف ایک پیامبر تھا،‘‘ وہ ۱۹۳۰ کی دہائی کے بعد کی اپنی زندگی کے بارے میں کافی تذبذب اور نرم روی سے بتاتے ہیں۔ ’’انگریز مخالف زیر زمین تحریکوں کے لیے ایک پیامبر۔‘‘ اس میں ممنوعہ کمیونسٹ باغی گروہوں، سماجوادیوں – اور کانگریس پارٹی (۱۹۴۲ کی ہندوستان چھوڑو تحریک کے آس پاس) کے نیٹ ورک شامل تھے۔ وہ اس میں تیز رہے ہوں گے – کیوں کہ وہ کبھی پکڑے نہیں گئے۔ ’’میں جیل نہیں گیا،‘‘ وہ کہتے ہیں، تقریباً معذرت کے ساتھ۔ یہ بات ہمیں دوسرے لوگ بتاتے ہیں کہ انہوں نے تامر پتر (تانبے کا تمغہ) لینے سے بھی منع کر دیا اور ۱۹۷۲ سے مجاہدین آزادی کو دی جانے والی پینشن بھی نہیں لی۔







