ہماری زندگیوں کے سب سے جگر سوز، دلگداز لمحات میں سے ایک ۔ اور وہ بھی پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا کا ۔ ۷ جون بروز بدھ کو رونما ہوا۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر ہو رہا ہے کہ یہ پاری کی پہل پر ہوا۔ آپ کو وہ اسٹوری یاد ہے کیپٹن بھاؤ اور طوفان سینا؟ اس موقع پر بھی، کیپٹن بھاؤ اور دوسرے فراموش کردہ جانبازوں کو بھی شامل کیا گیا۔

سال جیسے جیسے گزر رہے ہیں، اُداسی بھی بڑھ رہی ہے: ہندوستانی جنگ آزادی کے آخری مجاہدین ہم سے دور جا رہے ہیں، مر رہے ہیں۔ ہندوستانی بچوں کی اگلی نسل ان میں سے کسی کو بھی نہ تو دیکھ پائے گی اور نہ ہی ان کی آوازوں کو سن پائے گی، جنہوں نے ہمیں آزادی دلائی۔ شاید، اس مضمون کو پڑھنے والے کئی لوگ بھی اس تجربہ سے پہلے نہیں گزرے ہوں گے۔

اسی لیے، برسوں سے، میں اس جدوجہد کے بزرگ مرد و خواتین کی ریکارڈنگ اور ڈاکیومینٹنگ کرتا رہا ہوں، ان پر فلم بناتا رہا ہوں، ان کے بارے میں لکھتا رہا ہوں۔ ہر بار اسی بات کا افسوس کرتے ہوئے کہ ان میں سے زیادہ تر ایک دن دھیرے سے اپنی آنکھیں موند لیں گے۔ بغیر کسی انعام کے، بغیر تسلیم کیے گئے۔

لہٰذا ہم نے ستارا کی پرتی سرکار یا ۴۶۔۱۹۴۳ کی عبوری، زیر زمین حکومت کے آخری باحیات مجاہدین کو دوبارہ ایک ساتھ جمع کرنے میں مدد کی۔ اور اس طرح مہاراشٹر کے ستارا اور سانگلی ضلعوں کے طوفان سینا کے بزرگ سپاہیوں اور دیگر مجاہدین آزادی کو ۷ جون کو اعزاز سے نوازا گیا۔ ٹھیک اسی دن ۱۹۴۳ میں انھوں نے ستارا کے شینولی گاؤں میں برطانوی راج کے اہلکاروں کے لیے تنخواہیں لے جا رہی ٹرین پر حملہ کیا تھا۔ اس لوٹی گئی تنخواہ کو، انھوں نے غریبوں میں اور اپنے ذریعہ قائم کی گئی پرتی سرکار کو چلانے کے لیے تقسیم کر دیا۔

ہم نے ریٹائرڈ سفارتکار، مغربی بنگال کے سابق گورنر اور مہاتما گاندھی کے پوتے، گوپال گاندھی سے گزارش کی کہ وہ اس موقع پر بولنے کے لیے دہلی سے تشریف لائیں۔ وہ آئے، اور انھوں نے یہاں جو کچھ دیکھا اس سے کافی متاثر بھی ہوئے۔

طوفان سینا، پرتی سرکار کی مسلح شاخ تھی ۔ ہندوستان کی جنگ آزادی کا ایک حیران کن باب۔ سال ۱۹۴۲ کے بھارت چھوڑو آندولن سے نکلنے والے انقلابیوں کے اس مسلح گروپ نے ستارا میں ایک متوازی حکومت کا اعلان کردیا، ایک بڑا ضلع جس میں دورِ حاضر کا سانگلی بھی شامل تھا-


ویڈیو دیکھیں: گوپال گاندھی اور دیگر حضرات شینولی کے اس چھوٹے ’تاریخی مقام‘ پر، جسے برٹش انڈین ریلویز نے طوفان سینا کے ذریعہ ۷ جون، ۱۹۴۳ کو اپنی ٹرین پر طوفان سینا کے حملے کی یاد میں بنایا تھا


شینولی میں، ریلوے لائن کے اس تاریخی مقام پر، ہم نے چند مجاہدین آزادی کے ساتھ اس تاریخی واقعہ کے اعزاز میں ایک چھوٹی سی تقریب منعقد کی۔ گرمی کی دوپہر میں ۳ بجے بھی وہاں ۲۵۰ لوگ جمع ہو گئے۔ ۸۰ اور ۹۰ سال کی عمر کے بہت سے لوگ ریلوے لائن کے آس پاس اس طرح تیزی سے چل رہے تھے، جیسے چھوٹے بچے پارکوں میں اچھلتے کودتے رہتے ہیں۔ ان کے لیے یہ ایک سنگم تھا، جدوجہد آزادی کی مختلف موجوں کے ملنے کا مقام۔ اور یہاں پرانے مسلح جنگ کے انقلابی تھے، جو گوپال گاندھی کے ساتھ گرمجوشی سے گلے مل رہے تھے اور ’مہاتما گاندھی کی جے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ خاص کر کیپٹن بھاؤ، ۹۵، فخر کے آنسو کے ساتھ آنکھیں نم، بیمار، لیکن اس تقریب میں شرکت کے لیے پرعزم۔ مادھو رائے مانے، ۹۴، ریلوے لائن کے ساتھ ایک تیز طرار بچے کی طرح بھاگے جا رہے تھے، اور میں ان کے پیچھے بھاگ رہا تھا اس خوف کے ساتھ کہ کہیں وہ گر نہ پڑیں۔ لیکن وہ گرے نہیں۔ نہ ہی ان کی ہنسی کبھی ختم ہوئی۔

آخرکار ہم اس تاریخی مقام پر پہنچے، جس کے کونے پر فوجیوں نے ۷۴ سال قبل ٹرین کو بلاک کیا تھا اور اس پر سوار ہو ئے تھے۔ یہاں پر ایک چھوٹا سی یادگار ہے ۔ انقلابیوں کے لیے نہیں، بلکہ برٹش انڈین ریلویز نے اسے حملے کا ماتم منانے کے لیے نصب کیا تھا۔ شاید یہی وقت ہے کہ اب اس کے ساتھ ایک اور یادگار یہاں قائم کی جائے، اُس دن کے اصلی معنی کی نشانی کے طور پر۔


Haunsai bai and Nana Patil felicitation

گوپال گاندھی کُنڈل میں منعقد تقریب میں پرتی سرکار کے ہیرو نانا پاٹل کی بیٹی، ہونسا تائی پاٹل (بائیں) کو اعزاز سے نوازتے ہوئے اور (دائیں) مادھو رائے مانے کو عزت بخشتے ہوئے


بعد میں ہم لوگ ایک بڑے پروگرام کے لیے کُنڈل گئے، جو ۱۹۴۳ میں پرتی سرکار کی سیٹ تھی، شینولی سے یہاں تک پہنچنے میں ۲۰ منٹ لگتے ہیں۔ اس پروگرام کا انعقاد مقامی باشندوں اور اصلی مجاہدین کے وارثین نے کیا تھا۔ جی ڈی باپو لاڈ، ناگ ناتھ نایک واڑی، نانا پاٹل (پرتی سرکار کے سربراہ) کے اہل خانہ کے ذریعے۔ ۱۹۴۳ میں چار عظیم مجاہدوں میں سے صرف ایک اس وقت زندہ ہیں، اور اسی لیے وہ اس تقریب میں شریک ہو سکے، اور یہ ہیں کیپٹن بھاؤ۔ اس کے علاوہ یہاں پر، زندہ اور واضح گفتار، نانا پاٹل کی بیٹی بھی تھیں۔ ہونسا تائی پاٹل، خود اس شدت پسند زیر زمین  کی ایک رکن تھیں۔ کیپٹن بھاؤ، وہ عظیم بزرگ، ٹھیک دو دن پہلے سڑکوں پر تھے۔ جی ہاں، مہاراشٹر کے احتجاجی کسانوں کی حمایت میں۔ یاد کیجئے: بہت سارے مجاہدین آزادی خود ہی کسان یا زرعی مزدور تھے۔ جیسا کہ ان میں سے کچھ کے وارثین آج بھی ہیں۔

حکومت مہاراشٹر نے ۷ جون کی برسی ہم سے مختلف انداز میں منائی۔ اور ۱۹۴۳ کے برٹش راج کے طریقے سے زیادہ ملتے جلتے انداز میں۔ کسانوں کے پیچھے پولس کو بھیج کر۔ اس کی وجہ سے اپنے مجاہدین آزادی کے پروگرام کی تیاری میں اس سے نقصان ہوا۔ بہت سے کسانوں اور کسان کارکنوں کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا گیا، ’احتیاطی گرفتاری‘ کے طور پر۔ غیر قانونی قید، جس کے اخیر میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ شینولی اور کُنڈل میں مجاہدین آزادی کے لیے اجلاس منعقد کرانے والے کلیدی آرگنائزر تھے کسان سبھا کے اُمیش دیش مکھ۔ بدقسمتی سے، وہ خود ان میں سے کسی میں بھی شریک نہیں ہو سکے۔ انھیں صبح ساڑھے ۵ بجے اٹھا لیا گیا اور آٹھ دیگر افراد کے ساتھ تاس گاؤں پولس اسٹیشن کے لاک اَپ میں ڈال دیا گیا۔ اُمیش ہی وہ آدمی تھے، جو پرانے مجاہدین کے گھر گھر جاکر ان کو دعوت دیتے، ان کو ایک ساتھ دوبارہ جمع کرنے اور اس کے لیے انھیں آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اور پھر دونوں اجلاس ہوئے، کُنڈل کے پروگرام میں ۲۰ مجاہدین آزادی شریک ہوئے، ایک بھی کرسی خالی نہیں تھی، بہت سے لوگ کھڑے رہے۔ گوپال گاندھی نے سامعین سے خطاب کیا، جسے انھوں نے پوری توجہ کے ساتھ سنا: جدوجہد آزادی کے بارے میں، اس کے تئیں مہاتما گاندھی کے نظریہ کے بارے میں، پرانے جنگجوؤں کے تئیں گوپال کے احترام کے بارے میں، خود ہمارے زمانے اور برتاؤ کے بارے میں۔


ویڈیو دیکھیں: بزرگ مجاہدین آزادی کنڈل کے لوگوں کے شاندار استقبال کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے


جیسے ہی انھوں نے اپنی بات ختم کی، سامعین کھڑے ہوئے اور آزادی کے پرانے سپاہیوں کو کھڑے ہوکر سلام کیا، یہ سلسلہ دیر تک چلا، اتنی دیر تک جس کے بارے میں کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ کُنڈل اپنے ہیرو اور ہیروئنوں کو سلام کر رہا تھا۔ کئی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میری آنکھوں میں بھی، جب میں وہاں ۹۰ سال کی عمر کے ان عظیم مرد و خواتین کی تعریف میں تالی بجاتے ہوئے کھڑا ہوا، ممنون، فخر اور خوشی سے بھرے ہوئے کہ خود ان کا قصبہ انھیں اس انداز میں تسلیم کر رہا تھا۔ یہ ان کے آخری برسوں کا سب سے شاندار لمحہ تھا۔ ان کی آخری شاباشی۔


Freedom fighter program

سامعین مجاہدین کی تعریف کرنے کے لیے اپنے پیروں پر کھڑے ہو رہے ہیں۔ دائیں: بہادر سپاہی کیپٹن بھاؤ، ۹۵، کنڈل کے پروگرام میں


تصویریں: نمیتا وائیکر، سمیُکتا شاستری، سِنچیتا ماجی

ڈاکٹر محمد قمر تبریز ایک انعام یافتہ، دہلی میں مقیم اردو صحافی ہیں، جو راشٹریہ سہارا، چوتھی دنیا اور اودھ نامہ جیسے اخبارات سے جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے تبریز اب تک دو کتابیں اور سینکڑوں مضامین لکھنے کے علاوہ متعدد کتابوں کے انگریزی اور ہندی سے اردو میں ترجمے کر چکے ہیں۔ آپ ان سے یہاں رابطہ کر سکتے ہیں: @Tabrez_Alig You can contact the translator here:

P. Sainath
[email protected]

پی سائی ناتھ ’پیپلز آرکائیو آف رورل انڈیا‘ کے بانی ایڈیٹر ہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے دیہی ہندوستان کے رپورٹر رہے ہیں اور ’ایوری باڈی لوز گُڈ ڈراٹ‘ نامی کتاب کے مصنف ہیں۔ ان سے یہاں پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: @PSainath_org

Other stories by P. Sainath