ان میں دتاتریہ سُروے کا ۱۱ سالہ بیٹا وویک بھی تھا، جو کلاس ۶ میں ہے۔ ’’ٹیچر شاید ہی کبھی کلاس میں موجود ہوتے تھے،‘‘ دتاتریہ کہتے ہیں۔ ’’دیگر ضلعوں کے کئی اسکولوں نے بجٹ سے متعلق تشویشوں کے سبب اپنی بجلی کٹوا دی ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست کو ضلع پریشد کے اسکولوں میں پڑھنے والے طالب علموں کی پرواہ نہیں ہے۔‘‘
سُروے جو کہ ایک کسان ہیں، اپنے بیٹے کو سب سے اچھی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں۔ ’’کھیتی میں کوئی مستقبل نہیں ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ وہ اب سالانہ اسکول فیس کی شکل میں ۳۰۰۰ روپے دیتے ہیں۔ ’’میں نے اسے منتقل کر دیا کیوں کہ میں اس کے مستقبل کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
اس کے علاوہ، احمد نگر کے ماہر تعلیم ہیرمب کُلکرنی کہتے ہیں، کئی کنبے چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اچھی انگریزی جانیں، یہی وجہ ہے کہ والدین ضلع پریشد اسکولوں کی بجائے انگریزی میڈیم اسکولوں کو پسند کرتے ہیں، جب کہ مہاراشٹر میں تعلیم کا میڈیم مراٹھی ہے۔
تو، آر ٹی آئی کے ذریعے حاصل کیے گئے ڈیٹا کے مطابق، ۲۰۰۷-۰۸ میں مہاراشٹر کے ضلع پریشد اسکولوں میں کلاس ۱ میں جن ۱ء۲ ملین طالب علموں نے داخلہ لے رکھا تھا، ۱۰ سال بعد، ۲۰۱۷-۱۸ میں، ان میں سے صرف ۳۰۲۴۸ طالب علم ہی باقی بچ گئے – یعنی صرف ۲ء۵ فیصد – جنہوں نے ان اسکولوں سے اپنے ۱۰ویں کلاس کے امتحان پاس کیے۔
اس بات کو بھی اگر ذہن میں رکھا جائے کہ زیادہ تر ضلع پریشد اسکول صرف ۷ویں یا ۸ویں کلاس تک ہی ہیں (اور ۱۰ویں کلاس تک نہیں)، پھر بھی یہ عدد اچھی نہیں ہے۔ سال ۲۰۰۹-۱۰ میں، ریاست کے ضلع پریشد اسکولوں میں کلاس ۱ میں ۱ء۱ ملین سے زیادہ طالب علم تھے۔ آٹھ سال بعد، ۲۰۱۷-۱۸ تک، ۸ویں کلاس میں صرف ۱۲۳۷۳۹ طالب علم تھے – یعنی اس مدت میں اسکول چھوڑنے والے کل طالب علموں کا ۸۹ فیصد۔
حالانکہ، مہاجرت کے سبب بھی ضلع پریشد اسکولوں میں طالب علموں کی تعداد گھٹ رہی ہے۔ کسان اور مزدور جب موسمی کام کے لیے مہاجرت کرتے ہیں، تو وہ اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ مراٹھواڑہ کے زرعی ضلعوں سے، مہاجرت بڑھ رہی ہے – اور کسانوں کے مشہور کمیونسٹ لیڈر، راجن چھیرساگر کے مطابق، نومبر سے مارچ کے درمیان کم از کم ۶ لاکھ کسان گنّے کی کٹائی کے لیے اسی علاقے کے اندر یا مغربی مہاراشٹر اور کرناٹک کی طرف مہاجرت کرتے ہیں۔
کیلاس اور شاردا سالوے، ہر سال پربھنی کے دیوے گاؤں سے ۶۰ کلومیٹر دور، بیڈ کے تیل گاؤں خورد کی ایک چینی فیکٹری میں مہاجرت کرتے ہیں۔ وہ اپنے بیٹے ہرش وردھن، اور شاردا کی ۱۲ سالہ بھتیجی ایشوریہ وان کھیڑے کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ ’’غریبی کے سبب یہ تعلیم حاصل نہیں کر سکی،‘‘ کیلاس کہتے ہیں۔ وہ اور شاردا اپنے پانچ ایکڑ کے کھیت میں کپاس اور سویابین کی کھیتی کرتے ہیں، لیکن ایسا منافع نہیں کما پاتے جو سال بھر چلے۔ ’’دن میں جس وقت ہم کھیتوں میں کام کر رہے ہوتے ہیں، تب ہمارے بیٹے کی دیکھ بھال کرنے کے لیے اسے ہمارے ساتھ آنا پڑتا ہے۔‘‘ (دیکھیں دو ہزار گھنٹے تک گنّے کی کٹائی)