پچھلے سال اکتوبر کے آخر میں، سانجا گاؤں کے ضلع پریشد پرائمری اسکول کی دو جماعتوں میں دو چپٹے ایل ای ڈی ٹیلی ویژن سیٹ لگائے گئے تھے۔ گرام پنچایت نے انھیں درس و تدریس کے معاون کی شکل میں استعمال کرنے کے لیے بھیجا تھا۔

لیکن ٹی وی سیٹ خستہ حالت میں دیواروں سے لٹکے ہوئے ہیں، ان کی اسکرین خالی پڑی ہوئی ہے۔ مارچ ۲۰۱۷ سے، دو سال سے اس اسکول میں بجلی نہیں ہے۔

مہاراشٹر کے عثمان آباد ضلع کے اس اسکول کی پرنسپل شیلا کلکرنی کہتی ہیں کہ انھیں نہیں معلوم کہ ہنسا جائے یا رویا جائے۔ ’’سرکار سے ملنے والا فنڈ کافی نہیں ہے۔ ہمارے یہاں اندراج کی تعداد [دو جماعتوں میں کل ۴۰ طلبہ] والے اسکول کے رکھ رکھاؤ کے لیے اور طلبہ کی کتاب کاپی خریدنے کے لیے ہمیں ہر سال صرف ۱۰ ہزار روپے ملتے ہیں۔ بجلی سپلائی بحال کرنے کے لیے ہمیں تقریباً ۱۸ ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔‘‘

اسکول میں ۲۰۱۲ سے ہی بجلی نہیں ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹریسٹی بورڈ کے ایک اہلکار بتاتے ہیں کہ اس وقت مہاراشٹر کے ایک سرکاری عہد (جی آر) میں کہا گیا تھا کہ ضلع پریشد (زیڈ پی) اسکولوں کو گھریلو شرحوں (۳ء۳۶ روپے فی کلو واٹ) کے بجائے کاروباری شرحوں (۵ء۸۶ روپے فی کلو واٹ) پر بجلی بل ادا کرنا ہوگا۔

اسکولوں کے بجلی بلوں میں کافی اضافہ ہوا۔ ۲۰۱۵ کے آخر تک، عثمان آباد ضلع کے ۱۰۹۴ ضلع پریشد اسکولوں میں سے ۸۲۲ میں بجلی کی سپلائی کاٹ دی گئی تھی، یہ کہنا ہے عثمان آباد ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹو افسر سنجے کولٹے کا۔ کولٹے کے مطابق، اکتوبر ۲۰۱۸ تک بقایا رقم ۱ کروڑ روپے کو پار کر چکی تھی، اور ضلع کے ۷۰ فیصد اسکول بغیر بجلی کے چل رہے تھے۔

Rajabhau Gire (left) and Sheela Kulkarni at ZP school of Sanja
PHOTO • Parth M.N.
Saknewadi school where the teacher Samipata Dasfalkar turns on the TV
PHOTO • Parth M.N.

بائیں: سانجا کے ضلع پریشد اسکول کی پرنسپل شیلا کلکرنی، عثمان آباد کے ۳۰ ضلع پریشد اسکولوں کے آبزرور، راجا بھاؤ گیری اور طلبہ۔ دائیں: ساکینواڑی اسکول میں ٹیچر سمیپتا داسفلکر اور طلبہ

عثمان آباد کے ۳۰ ضلع پریشد اسکولوں کے آبزرور راجا بھاؤ گیری کہتے ہیں کہ اس ضلع کے ۱۰۹۲ اسکولوں میں سے تقریباً ۳۰ فیصد یا ۳۲۰ اسکول شمسی توانائی کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ پینل تقریباً ۱ لاکھ روپے کی لاگت سے ہر ایک اسکول میں لگائے گئے تھے؛ کچھ پیسہ ضلع پریشد فنڈ سے آیا، باقی پبلک ڈونیشن سے۔

مہاراشٹر کے دیگر حصوں کے اسکول بھی ادا نہ کیے گئے بلوں سے جوجھ رہے ہیں۔ اورنگ آباد ضلع میں، ۲۱۹۰ ضلع پریشد اسکولوں میں سے ۱۶۱۷ اسکول بغیر بجلی کے چل رہے تھے (فروری میں یہاں فیلڈ رپورٹنگ کے وقت)، جس نے ضلع پریشد کو شمسی توانائی اپنانے پر مجبور کیا۔

جولائی ۲۰۱۸ میں، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ایم ایل اے ششی کانت شندے نے مبینہ طور پر مہاراشٹر اسمبلی کو بتایا کہ ریاست کے ۱۳۸۴۴ اسکولوں میں بجلی نہیں ہے۔ تعلیمی شعبہ میں کام کرنے والے کارکنوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک قدامت پسند اندازہ ہے۔

اس دعویٰ کا جواب دیتے ہوئے، وزیر تعلیم ونود تاوڑے نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ ریاست نے کم شرحوں پر اسکولوں کو بجلی کی سپلائی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لیکن اس اسکیم کا زمین پر کوئی اثر نہیں دکھائی دے رہا ہے۔

مہاراشٹر کے ضلع پریشد اسکولوں کے زیادہ تر طلبہ کسان خاندانوں، آدیواسی برادریوں اور دیگر کم آمدنی والے طبقوں سے ہیں۔ مہاراشٹر میں ضلع پریشد نے ۱۹۶۱-۶۲ میں ابتدائی تعلیم کو اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔ لیکن ریاستی حکومتوں نے اسکولوں کی لگاتار اندیکھی کی ہے، اور معیاری تعلیم کو غریبوں کی پہنچ سے دور رکھا ہے۔

Parvati Ghuge in the classroom at the Sanja ZP school
PHOTO • Parth M.N.
the gadget that magnifies the mobile screen
PHOTO • Parth M.N.

’اسے خریدنے کے لیے ہم نے خود اپنا پیسہ خرچ کیا،‘ اس گیجٹ کے بارے میں پاروتی گھوگے کہتی ہیں، جو کہ فون اسکرین کو بڑا کرتا ہے جب کہ ٹی وی اسکرین بجلی کے بغیر خالی رہتی ہے

اعداد و شمار میں یہ اندیکھی صاف نظر آتی ہے: ۲۰۰۸-۰۹ میں، اسکولی تعلیم کے مختص رقم ریاست کے کل خرچ کا تقریباً ۱۸ فیصد تھی۔ ۲۰۱۸-۱۹ میں، یہ لگاتار گراوٹ کا اشارہ دیتے ہوئے ۱۲ء۶۸ فیصد پر آ گئی۔

ریاستی حکومت کے پچھلے چھ برسوں کے بجٹ پر ممبئی کی ایک غیر سرکاری تنظیم، سمرتھن: سینٹر فار بجٹ اسٹڈیز کے ذریعہ کیا گیا ایک تجزیہ کہتا ہے: ’’۲۰۰۰ میں، ریاستی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ریاست کے جی ایس ڈی پی کا ۷ فیصد تعلیم پر خرچ کیا جائے گا، اور اس کا ۷۵ فیصد ابتدائی تعلیم کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘‘ لیکن، کاغذ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تعلیم کے لیے اوسط تقسیم صرف ۵۲ء۴۶ فیصد ہے۔ اور ۲۰۰۷-۰۸ کے بعد سے، تعلیم پر خرچ جی ایس ڈی پی کے ۲ فیصد سے کم رہا ہے۔

اندیکھی اور فنڈ کی کمی کے حقیقی نتیجے سامنے آئے۔ ۲۰۰۹-۱۰ میں ریاست کے ضلع پریشد اسکولوں میں، پہلی جماعت میں ۱۱ لاکھ سے زیادہ طلبہ تھے۔ آٹھ سال بعد، ۲۰۱۷-۱۸ تک، ۸ویں جماعت میں صرف ۱۲۳۷۳۹ طلبہ تھے – یعنی اس درمیان ۸۹ فیصد طلبہ نے پڑھائی چھوڑ دی۔ (یہ ایک سوال کے توسط سے حاصل اعداد ہیں جو میں نے جون ۲۰۱۸ میں حق اطلاع قانون کے تحت دائر کیے تھے)۔

اس درمیان، سانجا ضلع پریشد اسکول میں طلبہ، خاموش پڑی ٹی وی اسکرین کی طرف پشت کرکے بیٹھتے ہیں جب کہ ان کا منھ اپنی ٹیچر پاروتی گھوگے کی طرف ہوتا ہے۔ ان کے پاس ایک گیجٹ ہے، جسے مقامی بازار سے تقریباً ۱۰۰۰ روپے میں خریدا گیا تھا، جو موبائل فون کی اسکرین کے سائز کو بڑا کر دیتا ہے۔ اوپر چھت سے ٹنگا پنکھا بھی خاموش ہے، ہر کوئی پسینے میں ڈوبا ہوا ہے، لیکن طلبہ مراٹھی زبان میں ایک کویتا کے ویڈیو پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے موبائل اسکرین پر سنایا جا رہا ہے۔ ’’اسے خریدنے کے لیے ہم نے خود اپنا پیسہ خرچ کیا،‘‘ اسکرین میگنیفائر کے بارے میں گھوگے کہتی ہیں۔

فنڈ کی کمی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے، دیگر ٹیچروں نے بھی اپنی جیب سے پیسے نکالے ہیں۔ عثمان آباد شہر میں، لڑکیوں کے ضلع پریشد اسکول کے ٹیچر اپنی طالبات کو سائبر کیفے لے جاتے ہیں، جب کہ اسکول میں بنایا گیا ’ای لرننگ‘ کمرے میں دھول جم رہی ہے۔

Bashir Tamboli pointing to projector that can't be used
PHOTO • Parth M.N.
Osmanabad ZP school computers
PHOTO • Parth M.N.

پروجیکٹر اور کمپیوٹر پر غبار جمع ہو رہی ہے: ٹیچر بشیر تمبولی کا کہنا ہے کہ عثمان آباد شہر کے ضلع پریشد اسکول کے ڈیڑھ لاکھ روپے کے بجلی بلوں کی ادائیگی نہیں کی گئی ہے

’’ریاست کے تمام وظیفے اب آن لائن ہیں،‘‘ غبار آلودہ ۱۰ کمپیوٹر اور پرنٹر والے ای لرننگ کمرے میں بیٹھی، ٹیچر تبسم سلطانہ کہتی ہیں۔ ’’اگست ۲۰۱۷ سے ہماری بجلی کاٹ دی گئی ہے۔ ہم طلبہ کے کریئر کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے کیوں کہ اسکول میں بجلی نہیں ہے۔‘‘ کچھ وقت کے لیے، اسکول نے ایک قریبی تعمیراتی مقام سے بجلی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ بھی جلد ہی بند ہو گئی۔

ایک دیگر ٹیچر، بشیر تمبولی کا کہنا ہے کہ عثمان آباد شہر کے ضلع پریشد اسکول کے ادا نہ کیے گئے بجلی کے بل ڈیڑھ لاکھ روپے سے زیادہ ہیں۔ ’’انٹریکٹو لرننگ کے لیے ہم نے ایک پروجیکٹر خریدا تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں، ایک کلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جہاں خالی پروجیکٹر ایک ساکت پنکھے پر لٹکا ہوا ہے۔

عثمان آباد کے ۳۰ ضلع پریشد اسکولوں کے آبزرور، راجا بھاؤ گیری کہتے ہیں کہ فنڈ کی کمی کا مطلب ہے کہ کئی اسکولوں میں سیکورٹی گارڈ، کلرک یا صفائی ملازمین نہیں ہیں۔ کلاسوں کی صفائی سمیت بہت سے کام ٹیچروں اور طلبہ کو خود کرنے پڑتے ہیں۔ ’’والدین کو یہ پسند نہیں ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’یہاں تک کہ کئی اسکولوں میں ٹوائلیٹ بھی اتنے اچھے نہیں ہیں جتنے ہونے چاہیے، اور بہت کم ہیں۔ کئی بنا پانی کے چل رہے ہیں۔ یہ لڑکیوں کے لیے خاص طور سے مشکل ہے، خاص کر جب وہ بڑی ہو جاتی ہیں اور ان کی ماہواری شروع ہو جاتی ہے۔‘‘

عثمان آباد شہر سے ۱۸ کلومیٹر دور، عثمان آباد کے ییدشی گاؤں میں تین ضلع پریشد اسکول ایک دوسرے کے بغل میں ہیں، جس کے بیچ میں ایک مشترکہ کھیل کا میدان ہے۔ کل ۲۹۰ طلبہ کے لیے صرف تین ٹوائلیٹ ہیں، جن میں سے ۱۱۰ سے زیادہ لڑکیاں ہیں۔ ’’اور یہاں تک کہ ان میں پانی بھی نہیں ہے،‘‘ ۳ سالہ ایک مزدور وِٹھل شندے کہتے ہیں، جن کی سات سال کی بیٹی، سندھیا ایسے ہی ایک اسکول میں پڑھتی ہے۔ ’’وہ چھوٹی ہے، اس لیے کسی طرح کام چلا رہی ہے۔ جب وہ بڑی ہو جائے تب کیا ہوگا؟‘‘

عثمان آباد ضلع خشک زدہ ہے اور عام طور پر پانی کے لے جدوجہد کرتا ہے۔ موجودہ سنگین خشک سالی کے سبب، کنویں سوکھ گئے ہیں، اور اسکول کو گرام پنچایت کی طرف سے روزانہ فراہم کرائے جانے والے ۵۰۰ لیٹر پانی سے ہی کام چلانا پڑتا ہے۔ اپنے والد کے بغل میں کھڑی سندھیا کہتی ہیں کہ اسکول کے ٹوائلیٹ کے باہر لگی قطار ہمیشہ لمبی ہوتی ہے۔ ’’ہر کوئی وقفہ میں لائن لگاتا ہے،‘‘ وہ آگے کہتی ہیں، اسی وقت کچھ لڑکے میدان میں کرکٹ کھیل رہے ہیں، جب دو لڑکیاں احتیاط سے ایک ٹینکر سے پانی بھرتی ہیں اور ٹوائلیٹ میں داخل ہوتی ہیں۔ ’’کبھی کبھی لائن بہت زیادہ لمبی ہوتی ہے۔ اس لیے ہم تھوڑا پانی بوتلوں میں بھر لیتے ہیں اور بازار کے پاس ایک کھلے میدان میں چلے جاتے ہیں۔‘‘

ان کے والد کہتے ہیں کہ بچوں کو معلوم ہے کہ انھیں ٹوائلیٹ کا استعمال جہاں تک ممکن ہو کم از کم کرنا ہے۔ ’’لیکن اسکول صبح ۱۰ بجے کھلتے ہیں، اور شام ۴ بجے بند ہوتے ہیں۔ یہ ایک لمبا وقت ہے، اور یہ صحت کے لیے مضر ہے۔‘‘

Vitthal Shinde and his daughter Sandhya
PHOTO • Parth M.N.
toilet at yedshi school
PHOTO • Parth M.N.

وِٹھل شندے، ایک مزدور اور ان کی سات سال کی بیٹی سندھیا، ییدشی اسکول میں ٹوائلیٹ اور پانی کی کمی کے بارے میں بتا رہے ہیں

طلبہ اپنے پینے کا پانی بھی لے جاتے ہیں، کیوں کہ خشک سالی کے دوران یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔ ’’ایک دن، اسکول میں پانی ختم ہو گیا،‘‘ سندھیا بتاتی ہیں۔ ’’اس لیے ہم پانی پینے کے لیے ایک ہوٹل میں گئے۔ اتنے سارے طلبہ کو دیکھ، ہوٹل مالک نے ہمیں پانی دینے سے منع کر دیا۔‘‘

احمد نگر ضلع کے اکولہ تعلقہ میں ویر گاؤں کے ضلع پریشد اسکول کے کارکن اور ٹیچر، بھاؤ چسکر کہتے ہیں کہ جب ٹیچر فنڈ کی کمی کے بارے میں شکایت کرتے ہیں، تو، ’’ہمیں سماج سے چندہ لانے کے لیے کہا جاتا ہے۔‘‘ لیکن جون ۲۰۱۸ میں ٹیچروں کے ریاست گیر تبادلہ سے چندے میں رکاوٹ آئی ہے۔ احمد نگر کے تعلیمی افسر رماکانت کٹمور کا کہنا ہے کہ ضلع کے ۵۴ فیصد ٹیچروں کو تبادلہ کے آرڈر موصول ہوئے۔ نتیجتاً، اکولہ شہر میں واقع ایک ٹیچر، انل موہتے کا تبادلہ ۳۵ کلومیٹر دور شیلویہرے گاؤں میں کر دیا گیا۔ ’’میں شیلویہرے میں کسی کو نہیں جانتا، نہ ہی کوئی مجھے جانتا ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’میں انھیں اسکول کے لیے چندہ دینے کے لیے کیسے مناؤں؟‘‘

درس و تدریس پر خراب بنیادی ڈھانچہ کا اثر طویل مدتی ہوتا ہے۔ تعلیم کی سالانہ حالت والی رپورٹ بتاتی ہے کہ مہاراشٹر کے سرکاری اسکولوں کے ۵ویں جماعت کے ۷۴ء۳ فیصد بچے ۲۰۰۸ میں صرف دوسری جماعت کا سبق پڑھ سکتے تھے۔ دس سال بعد یہ تعداد گھٹ کر ۶۶ فیصد رہ گئی۔ اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے پورٹل انڈیا اسپینڈ کے ۲۰۱۶ کے ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ ملک بھر کے تقریباً ۵۶ فیصد طلبہ نے پرائمری سطح پر ’’پڑھنے کے لیے بہتر ماحول‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری اسکولوں پر پرائیویٹ اسکولوں کو ترجیح دی۔

حالانکہ ایماندار ٹیچروں اور معاون دیہی باشندوں کے سبب، کچھ اسکول سرکار کی اندیکھی کے باوجود اچھا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ عثمان آباد کے ساکینواڑی ضلع پریشد اسکول میں، جس کی بجلی کاٹ دی گئی تھی، بجلی کا ایک پول باہر لگا ہوا ہے۔ اسکول اسی پول سے بجلی لیتا ہے -  پوری طرح سے قانونی طور پر نہیں، بلکہ گاؤں والوں کی رضامندی سے۔

یہاں ٹیلی ویژن سیٹ کام کر رہے ہیں، اور ۶ اور ۷ سال کے سبھی ۴۰ طلبہ ان کویتاؤں اور کہانیوں کو سیکھتے ہیں جو ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ میں جیسے ہی کلاس میں داخل ہوتا ہوں، وہ کہتے ہیں ’’گڈ آفٹر نون‘‘ اور ان کی ٹیچر سمیپتا داسفلکر ٹی وی چلاتی ہیں، پین ڈرائیو لگاتی ہیں، اور طلبہ سے پوچھتی ہیں کہ وہ کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہر ایک کی اپنی ترجیح ہے، لیکن عام رضامندی پانی اور مانسون پر مبنی ایک کویتا کے لیے ہے۔ طلبہ اسکرین کو دیکھ کر گاتے اور ناچتے ہیں۔ خشک زدہ عثمان آباد میں یہ ان کے لیے ایک خاص بازگشت ہے۔

(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)

محمد قمر تبریز 2015 سے ’پاری‘ کے اردو/ہندی ترجمہ نگار ہیں۔ وہ دہلی میں مقیم ایک صحافی، دو کتابوں کے مصنف، اردو ’روزنامہ میرا وطن‘ کے نیوز ایڈیٹر ہیں، اور ماضی میں ’راشٹریہ سہارا‘، ’چوتھی دنیا‘ اور ’اودھ نامہ‘ جیسے اخبارات سے منسلک رہے ہیں۔ ان کے پاس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے۔ You can contact the translator here:

Parth M.N.

پارتھ ایم این ۲۰۱۷ کے پاری فیلو ہیں۔ وہ ’لاس اینجلیس ٹائمز‘ کے ہندوستان کے خصوصی نامہ نگار ہیں اور کئی آن لائن پورٹل پر فری لانس کام کرتے ہیں۔ انھیں کرکٹ اور سفر کرنا پسند ہے۔

Other stories by Parth M.N.