’’ہم نے ان ۵۸ اونٹوں کو ضبط نہیں کیا ہے،‘‘ امراوتی ضلع کے تلیگاؤں دشاسر پولیس اسٹیشن کے انچارج، انسپکٹر اجے اکارے نے بتایا۔ ’’ہمارے پاس ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے کیوں کہ مہاراشٹر میں ان جانوروں پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے کوئی مخصوص قانون نہیں ہے۔‘‘
اکارے کہتے ہیں کہ ’’یہ اونٹ حراست میں لیے گئے ہیں۔‘‘
اسی لیے ان کے نگہبانوں کو بھی حراست میں لینا ضروری تھا۔ لیکن امراوتی کے مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ کی نظر میں ایسا کرنا ضروری نہیں تھا۔ گجرات کے کچھّ کے یہ پانچوں لوگ نیم خانہ بدوش زندگی بسر کرنے والے چرواہے ہیں، جن میں سے چار کا تعلق رباڑی برادری سے اور ایک کا فقیرانی جاٹ سے ہے۔ دونوں برادریاں کئی صدیوں اور نسلوں سے روایتی طور پر اونٹ چرانے کا کام کرتی آئی ہیں۔ ایک خود ساختہ ’جانوروں کے حقوق کے محافظ‘ کی شکایت پر، پولیس کی گرفتاری کے فوراً بعد ہی مجسٹریٹ نے ان پانچوں کو غیر مشروط ضمانت دے دی تھی۔
انسپکٹر اکارے کہتے ہیں، ’’ملزمین کے پاس نہ تو ان اونٹوں کو خریدنے اور اپنے پاس رکھنے کا کوئی کاغذ تھا اور نہ ہی خود اپنی مستقل رہائش کا کوئی قانونی دستاویز۔‘‘ چنانچہ، روایتی چرواہوں کے ذریعے اونٹوں کے شناختی کارڈ اور ان کی ملکیت کے کاغذات تیار کروا کر انہیں عدالت میں پیش کرنے کا عجیب و غریب تماشہ شروع ہوا۔ کاغذات کا انتظام کرنے والوں میں ان کے رشتہ دار اور مذکورہ بالا دونوں نیم خانہ بدوش برادریوں کے دیگر ارکان شامل ہیں۔
ان اونٹوں کو چرواہوں سے الگ کرنے کے بعد، گئو رکشا کیندر بھیج دیا گیا ہے، جہاں بنیادی طور پر گائیں رکھی جاتی ہیں اور ان کی تحویل کی ذمہ داری ان لوگوں کو سونپی گئی ہے، جنہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ ان جانوروں کی دیکھ بھال کیسے کی جائے یا انہیں کھانے کو کیا دیا جائے۔
ویسے تو اونٹ اور گائے دونوں ہی جُگالی کرنے والے جانور ہیں، لیکن یہ الگ الگ چارہ کھاتے ہیں۔ اور اگر ان اونٹوں کو زیادہ دنوں تک گئو شالہ میں رکھا گیا، تو ان کی حالت تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔




















