بیاسی سالہ باپو سوتار کو ۱۹۶۲ کا وہ دن واضح طور پر یاد ہے، جب انہوں نے اپنا لکڑی کا ٹریڈل (پیر سے چلنے والا) ہینڈ لوم بیچا تھا۔ اپنی ورکشاپ میں تیار سات فٹ لمبے اس ہینڈ لوم کو کولہاپور کے سنگاؤں کسبا گاؤں کے ایک بُنکر کے ہاتھوں فروخت کر کے انہوں نے ۴۱۵ روپے کی ایک بڑی رقم حاصل کی تھی۔
یہ ان کے لیے ایک خوشگوار یاد ہوتی اگر یہ ہینڈ لوم ان کے ہاتھ کا بنا ہوا آخری ہینڈ لوم نہ ہوتا۔ اس کے بعد ان کے آرڈر آنے بند ہو گئے تھے۔ اب ہاتھ کے بنے لکڑی کے ہینڈ لومز کا کوئی خریدار نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں، ’’تیاویلی سگلا موڈلا [اس کے بعد سب کچھ دیکھتے دیکھتے ختم ہوگیا]۔‘‘
آج چھ دہائیوں بعد مہاراشٹر کے کولہاپور ضلع کے رینڈل گاؤں کے بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ باپو ٹریڈل لوم بنانے والے گاؤں کے آخری کاریگر ہیں۔ یا یہ کہ کسی زمانے میں انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا۔ گاؤں کے سب سے پرانے بُنکر ۸۵ سالہ وسنت تامبے کہتے ہیں، ’’رینڈل اور آس پاس کے گاؤں میں ہینڈ لوم بنانے والے جتنے بھی کاریگر تھے، ان میں اب ایک بھی زندہ نہیں بچا ہے۔‘‘
لکڑی کے ہینڈلوم بنانا بذات خود رینڈل کی ایک کھوئی ہوئی روایت ہے۔ باپو کہتے ہیں، ’’اب وہ [آخری] ہینڈ لوم بھی موجود نہیں ہے۔‘‘ اپنے چھوٹے سے گھر کے آس پاس کی ورکشاپوں میں پاور لومز کی کھٹ پٹ کی آوازوں کے درمیان ہماری بات سننے کے لیے انہیں اپنی سماعت پر زور دینا پڑ رہا تھا۔
باپو کا ایک کمرے کا روایتی ورکشاپ ان کے گھر کے اندر واقع ہے۔ اس ورکشاپ نے ایک دور کو گزرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ورکشاپ میں بھورے رنگوں کا مرکب، جن میں سیاہ، سیپیا، حنائی، سیڈل، زردی مائل، مہوگنی، سرخی مائل اور دوسرے رنگ شامل ہیں، آہستہ آہستہ ماند پڑ رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی چمک مدھم ہوتی جا رہی ہے۔

























