دو سال میں کم از کم ۱۳ ہلاکتیں، شاید ۱۵۔ کئی مویشی مارے اور کھا لیے گئے۔ سبھی یوتمال ضلع کے ۵۰ مربع کلومیٹر کے علاقے میں، جو کسانوں کی خودکشی اور زرعی بحران کی وجہ سے بدنام ہے۔ گزشتہ ہفتے تک، وِدربھ کی رالیگاؤں تحصیل میں اپنے دو بچوں کے ساتھ گھوم رہی ایک شیرنی نے گاؤوں والوں اور جنگلات کے افسروں کے درمیان دہشت پیدا کر دی تھی۔ تقریباً ۵۰ گاؤوں میں کھیتی باڑی کے کام متاثر ہوئے۔ زرعی مزدور اکیلے کھیتوں میں جانے کو تیار نہیں تھے یا ڈر کے مارے گروپ میں جاتے تھے۔
’تِچا بندوبست کرا‘‘ (’’شیرنی کو ٹھکانے لگاؤ‘‘)، کام پر نہ جانے کا ایک عام بہانہ تھا۔
بڑھتے غصے اور عوام کے دباؤ نے محکمہ جنگلات کے افسروں کو، ٹی- ۱ یا اَوَنی (’’ارض‘‘) نام کی شیرنی کو پکڑنے یا مارنے کے لیے بے بس کر دیا تھا۔ یہ ایک پیچیدہ اور چیلنج بھرے آپریشن میں بدل گیا، جس میں تقریباً ۲۰۰ جنگلاتی اہلکار، کھوجی، تیز نشانے باز، مہاراشٹر محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران اور وسط ہندوستان کے کئی ماہرین شامل تھے۔ یہ سبھی چوبیسوں گھنٹے چلنے والے اس آپریشن کے لیے ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے، جو ۲ نومبر کو ٹی- ۱ کو مارنے کے ساتھ ختم ہوا۔ (دیکھیں ٹی۔ ۱ شیرنی کے علاقے میں: ہلاکت کی سرگزشت اور ’میں جب انھیں گھر واپس دیکھتی ہوں، تو شیرنی کا شکریہ ادا کرتی ہوں‘)
تب تک – ۲۰۱۶ کے وسط سے – شیرنی نے کئی لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ان دو برسوں میں اس کے ناگہانی شکار کون تھے؟








