سنیتا دیوی کے پیٹ کا حجم جب بڑھنے لگا، تو وہ اسے دیکھ کر فکرمند رہنے لگیں۔ وہ بھر پیٹ کھانا نہیں کھا پاتی تھیں اور کھاتے ہی انہیں متلی آنے لگتی تھی۔ شروع کے دو مہینے تک تو انہوں نے اسے نظر انداز کیا، لیکن جب یہ ٹھیک نہیں ہوا تو آخرکار وہ اپنے گھر کے قریب واقع ایک پرائیویٹ اسپتال کے ڈاکٹر کو دکھانے گئیں۔ اور جب ڈاکٹر نے یہ کہا کہ ’’آپ کو بچہ ٹھہر گیا ہے،‘‘ تو انہیں بالکل بھی یقین نہیں ہوا۔
انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ چھ مہینے پہلے ہی تو انہوں نے حمل کو روکنے کے لیے کاپر ٹی لگوائی تھی، پھر یہ ممکن کیسے ہوا۔
سال ۲۰۱۹ کے اس واقعہ کو یاد کرتے وقت، ان کا پہلے سے ہی پیلا پڑ چکا چہرہ مزید کمزور دکھائی دینے لگتا ہے۔ انہوں نے اپنے بالوں میں کنگھی کرکے پیچھے کی طرف خوبصورت جوڑے بنا رکھے ہیں؛ لیکن ان کی دھنسی ہوئی آنکھوں سے تھکاوٹ صاف جھلک رہی ہے۔ ان کے چہرے پر صرف ایک چیز ہے جو چمک رہی ہے، اور وہ ہے ان کی پیشانی پر چپکی ہوئی ’بِندی‘۔
سنیتا (یہ ان کا اصلی نام نہیں ہے) ۳۰ سال کی ہیں، جن کے چار بچے ہیں۔ ان میں سے دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، جو ۴ سے ۱۰ سال کی عمر کے ہیں۔ مئی ۲۰۱۹ میں، جب ان کا سب سے چھوٹا بچہ ۲ سال کا تھا، تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مزید بچے پیدا نہیں کریں گی۔ انہوں نے اپنے علاقے میں آنے والی ایک آشا کارکن سے خاندانی منصوبہ بندی (فیملی پلاننگ) کے طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مانع حمل کے کئی متبادل پر غور کرنے کے بعد، انہوں نے ’انترا‘ کا انتخاب کیا، جو کہ انجیکشن کے ذریعے دیا جانے والا مانع حمل ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس سے تین مہینے تک حاملہ ہونے سے بچا جا سکتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں، ’’میں نے سوچا کہ چلو اس انجیکشن کو آزما کر دیکھتے ہیں۔‘‘
ہم لوگ ان کے ۸ بائی ۱۰ فیٹ کے کمرے میں فرش پر بچھی چٹائی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ کمرے کے ایک کونے میں خالی پڑے گیس سیلنڈر کے اوپر کئی اور چٹائیاں رکھی ہوئی ہیں۔ بغل والے کمرے میں سنیتا کے شوہر کے ایک بھائی کی فیملی رہتی ہے۔ وہاں ایک اور کمرے کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو اُن کے ایک اور دیور (برادر نسبتی) کا ہے۔ یہ گھر جنوب مغربی دہلی ضلع کے نجف گڑھ میں واقع مہیش گارڈن علاقے میں ہے۔
سنیتا کے گھر سے گوپال نگر پرائمری ہیلتھ سنٹر (پی ایچ سی) تقریباً دو کلومیٹر دور ہے۔ ’انترا‘ انجیکشن لگوانے کے لیے وہ آشا کارکن کے ساتھ اسی سنٹر میں گئی تھیں۔ لیکن پی ایچ سی میں تعینات ڈاکٹر نے کچھ اور ہی مشورہ دینا شروع کر دیا۔ سنیتا بتاتی ہیں، ’’ڈاکٹر نے مجھے (انجیکشن کی بجائے) کاپر ٹی کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ اس نے کہا کہ کاپر ٹی لگوانا زیادہ محفوظ ہے۔‘‘ اس کے بعد وہ پرزور آواز میں کہتی ہیں، ’’میں نے ڈاکٹر سے کاپر ٹی کے بارے میں پوچھا ہی نہیں تھا۔ لیکن وہ ضد کرتی رہی کہ یہی صحیح رہے گا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ’کیا تم نہیں چاہتی کہ مزید بچے پیدا نہ ہوں؟‘۔‘‘








