تنوجا کی کمر میں ہونے والا درد جب ناقابل برداشت ہو گیا، تو وہ ایک ہومیو پیتھ کے پاس دکھانے گئیں۔ ’’اس نے بتایا کہ میرے اندر کیلشیم اور آئرن کی کمی ہے اور مجھے فرش پر بیٹھنے سے منع کیا۔‘‘
تنوجا، مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع میں بیڑی بنانے کا کام کرتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں روزانہ آٹھ گھنٹے فرش پر بیٹھ کر بیڑیوں کو باندھنا پڑتا ہے۔ تقریباً ۵۰ سال کی ہو چکیں تنوجا کہتی ہیں، ’’مجھے بخار اور کمزوری محسوس ہوتی ہے، اور پیٹھ میں کافی درد رہتا ہے۔ کاش کہ میں اپنے لیے ایک کرسی اور میز خرید پاتی!‘‘
نومبر کے آخری دن چل رہے ہیں اور ہریک نگر محلہ میں واقع ان کے گھر کی سیمنٹ والی فرش پر گرم دھوپ آنے لگی ہے۔ تنوجا تاڑ کے پتے سی بنی مدور (چٹائی) پر بیٹھ کر ایک کے بعد ایک بیڑی رول کرنے میں مصروف ہیں۔ کیندو کے پتوں کو موڑتے وقت ان کی انگلیاں پوری مہارت سے گھوم رہی ہیں، کہنیاں ایک خاص پوزیشن پر ہیں، کندھے اوپر کو اٹھے ہوئے اور سر ایک طرف کو جھکا ہوا ہے۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتی ہیں، ’’میری انگلیاں اتنی سُنّ (بے حس) ہیں کہ ان کے ہونے کا احساس ہی نہیں ہو رہا ہے۔‘‘
ان کے آس پاس بیڑی بنانے کا سارا سامان رکھا ہوا ہے: کیندو کے پتّے، صاف کیا ہوا تمباکو اور دھاگوں کے گچھے۔ ایک چھوٹا سا دھار دار چاقو اور دو قینچی ان کے اوزار ہیں، جن کی مدد سے وہ بیڑی بناتی ہیں۔
گھر کے لیے ضروری سامان لانے، کھانا پکانے، پانی بھرنے، گھر اور برآمدے کی صفائی کرنے اور اس قسم کے دیگر گھریلو کاموں کے لیے تنوجا تھوڑی دیر کے لیے چھٹی لیتی ہیں۔ لیکن ان سب کے درمیان، انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ دن بھر میں اگر انہوں نے ۵۰۰-۷۰۰ بیڑیاں نہیں باندھیں تو ہر مہینے ہونے والی ان کی ۳۰۰۰ روپے کی کمائی گھٹ بھی سکتی ہے۔
















