چالیس سال سے بھی زیادہ عرصے سے تول پاو کوت اسٹائل میں پُتلی بازی کرنے والے رام چندر پُلوَر کہتے ہیں، ’’یہ صرف کٹھ پتلیوں یا اس کی پیشکش کی بات نہیں ہے۔‘‘ ان کا ماننا ہے کہ مختلف برادریوں کے پُتلی بازوں کے ذریعے بیان کی جانے والی کثیر ثقافتی کہانیاں کیرالہ کے ملبار خطہ میں رواداری کی روایات کو قائم کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں، ’’بات دراصل یہ ہے کہ ہمیں اپنی ثقافتی وراثت کی حفاظت کرنی ہے اور اسے اگلی نسلوں تک پہنچانا ہے۔ تول پاو کوت کے ذریعے ہم جو کہانیاں بیان کرتے ہیں، ان میں گہرے معنی ہوتے ہیں، اور یہ لوگوں کو بہتر انسان بننے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔‘‘

تول پاو کوت، کیرالہ میں سایہ کٹھ پتلی تھیٹر کا ایک روایتی فن ہے۔ یہ ملبار خطہ میں بھارت پورہ (نیلا) ندی کے ساحل پر آباد گاؤوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ کٹھ پتلی کی پیشکش مختلف ذاتوں اور برادریوں کے لوگوں کے ذریعے کی جاتی ہے اور اسے کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔

تول پاو کوت، مندر کے احاطہ کے باہر کوت ماڑم نام کے ایک مستقل تھیٹر ہاؤس میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو یہاں آنے اور اس فن کی پیشکش سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسے روایتی طور پر دیوی بھدر کالی کے مقدس باغ میں سالانہ تہوار کے ایک حصہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں رامائن سے ماخوذ رام اور راون کے درمیان ہونے والی لڑائی کو دکھایا جاتا ہے۔ لیکن یہ پیشکش صرف رامائن کی کہانی تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں لوک کہانیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔

پُتلی باز نارائن نائر کہتے ہیں، ’’ہمیں اپنی پیشکش کے لیے پیسے کا انتظام کرنے اور مدد حاصل کرنے کی خاطر جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ کئی لوگ تول پاو کوت کی اہمیت کو سمجھ نہیں رہے ہیں۔ ان کی نظر میں یہ کوئی ایسا فن نہیں ہے جس کی حفاظت کی جائے۔‘‘

یہ فلم ہمیں بال کرشن پُلوَر، رام چندر پلوَر، نارائن نائر اور سدانند پُلوَر جیسے پتلی بازوں کی پریشانیوں کے بارے میں بتاتی ہے، جو کئی چیلنجز کے باوجود اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

فلم دیکھیں: سائے سے ابھرتی کہانیاں

یہ اسٹوری مرنالنی مکھرجی فاؤنڈیشن (ایم ایم ایف) کے ذریعے فراہم کردہ فیلوشپ کی مدد سے کی گئی ہے۔

مترجم: محمد قمر تبریز

Sangeeth Sankar

সংগীত শংকর আইডিসি স্কুল অফ ডিজাইন-এ পাঠরত এক গবেষক। কেরালার ছায়া পুতুলনাচে বিবর্তনের ধারাটিকে খতিয়ে দেখছেন তিনি তাঁর নৃতাত্ত্বিক গবেষণার অধীনে। ২০২২ সালে পারি-এমএমএফ ফেলোশিপ পেয়েছেন সংগীত।

Other stories by Sangeeth Sankar
Text Editor : Archana Shukla

অর্চনা শুক্লা পিপলস্‌ আর্কাইভ অফ রুরাল ইন্ডিয়ার একজন কনটেন্ট এডিটর এবং প্রকাশনা বিভাগে কর্মরত।

Other stories by Archana Shukla
Translator : Qamar Siddique

কমর সিদ্দিকি পিপলস আর্কাইভ অফ রুরাল ইন্ডিয়ার উর্দু অনুবাদ সম্পাদক। তিনি দিল্লি-নিবাসী সাংবাদিক।

Other stories by Qamar Siddique