’’گٹر (نالا) تقریباً ۲۰ فٹ گہرا تھا۔ سب سے پہلے پریش اس کے اندر گیا۔ اس نے دو تین بالٹی کچرا نکالا؛ پھر وہ باہر آیا، تھوڑی دیر بیٹھا اور دوبارہ اس کے اندر گیا۔ اس بار، وہ جیسے ہی اندر گھسا اس کے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں…
’’ہمیں پتہ ہی نہیں چل پا رہا تھا کہ کیا ہوا ہے، اس لیے گلسنگ بھائی اندر گئے۔ لیکن، ان کے جانے کے بعد کوئی آواز نہیں آئی۔ لہٰذا، ان کے پیچھے انیپ بھائی اندر گئے۔ باوجود اس کے، تینوں میں سے کسی کی بھی آواز باہر نہیں آ رہی تھی۔ آخرکار، ان لوگوں نے میرے جسم کے چاروں طرف ایک رسی لپیٹی اور مجھے اندر اتارا۔ بعد میں مجھے کسی کا ہاتھ پکڑا گیا؛ لیکن پتہ نہیں وہ ہاتھ کس کا تھا۔ لیکن جیسے ہی میں نے اس ہاتھ کو پکڑا، انہوں نے مجھے اوپر کھینچنے کی کوشش کی اور تبھی میں بیہوش ہو گیا،‘‘ بھاویش ایک ہی سانس میں ساری باتیں بتاتے چلے جاتے ہیں۔
بھاویش نے اپنے بھائی اور ان کے دو ساتھیوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے ایک ہفتہ کے اندر ہی ہم بھاویش سے ملنے گئے۔ انہیں کافی صدمہ پہنچا تھا۔ وہ انتہائی تکلیف اور اداسی کے ساتھ اس اندوہناک حادثہ کو یاد کر رہے تھے۔
گجرات کے داہود ضلع کے کھرسانا گاؤں سے تعلق رکھنے والے ۲۰ سالہ بھاویش کٹارا ’خوش قسمت‘ تھے کہ وہ اس حادثہ میں بچ گئے۔ وہ ان دو لوگوں میں سے ایک ہیں جو بھروچ ضلع کی دہیج گرام پنچایت میں زہریلی گیس سے بھرے نالے کی صفائی کے دوران زندہ بچ گئے تھے، جب کہ اس دن تین لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ داہود کے بلنڈیا پیٹھاپور کے ۱۸ سالہ جگنیش پرمار کی بھی جان بچ گئی تھی۔
اُس حادثہ میں جن تین لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی وہ جگنیش کے ہی گاؤں کے ۲۰ سالہ انیپ پرمار؛ داہود کے دانت گڑھ چاکلیا کے ۲۵ سالہ گلسنگ مُنیا؛ اور بھاویش کے ہی گاؤں میں رہنے والے ان کے بھائی ۲۴ سالہ پریش کٹارا تھے۔ ان تینوں کی موت سیور (پرنالے) میں آکسیجن کی کمی سے ہوئی تھی۔ [یہاں پر ان کی عمر ان کے آدھار کارڈ سے لی گئی ہے جس کی درستگی کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔ کم تر درجے کے اہلکاروں کے ذریعے یہ عمر اکثر غلط لکھ دی جاتی ہے]۔





















