
Mumbai, Maharashtra
|FRI, FEB 17, 2017
نوٹ بندی پر پاری کی رپورٹس
سبھی کا مطالعہ کریں: ۸ نومبر کے بعد نقدی کی کمی نے کیسے دیہی ہندوستان پر اثر ڈالا
Author
Translator
13. ’نوٹ بندی‘ کے سال بھر بعد بھی زخم ہرے ہیں
کرناٹک کے دیہی علاقوں میں نوٹ بندی کے ایک سال پورے ہونے کے بعد بھی، کھانے کے ہوٹلوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
12. نوٹ بندی کا بھوت
دیہی مراٹھواڑہ میں، جہاں زرعی تجارت کا سلسلہ نقدی پر مبنی ہے، کسان نومبر ۲۰۱۶ کی نوٹ بندی کے اثرات سے اب بھی جوجھ رہے ہیں ۔ باؤنس ہوچکے چیک، بینکوں تک رسائی میں کمی، اور فصلوں کی گرتی ہوئی قیمتوں سے
11. نوٹ بندی کے پانسے میں بری طرح پھنسا ٹماٹر کا جوا
ان سردیوں میں اُپجے لبالب ٹماٹر پر وِدربھ کے سبزی کسانوں کی بہت ساری امیدیں ٹکی ہوئی تھیں۔ لیکن ۸ نومبر کی نوٹ بندی اور اس کے ساتھ قیمتیں میں آئی گراوٹ نے ٹماٹر کا ذائقہ بالکل پھیکا کر دیا ہے
10. نوٹ بندی نے چاٹ لی ناسک کے ٹماٹر کی چٹنی
۸ نومبر کی نوٹ بندی سے لگاتار کم ہوتی قیمت کے سبب، مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے کسانوں نے ہر چار ٹماٹر میں سے ایک، جہاں سے پورے ہندوستان میں جاتا ہے، بڑے پیمانے پر تیار فصل کو برباد کیا ہے
9. نوٹ بندی کے ’قحط‘ کی وجہ سے آدھا بھوکا
آندھرا پردیش کے بوچرلا کے مہاجر مزدور سالانہ تہوار منانے کے لیے جب نومبر میں اپنے گھر لوٹے، تو نقدی کی مار کے سبب انھیں مقامی کھیتوں پر کوئی کام نہیں ملا، جس کی وجہ سے وہ تہوار کے موسم میں بھی کم کھانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے
8. بی پی ایل گیارہ: یہ موبائل ہیں، ان کا پیسہ نہیں
نوٹ بندی کی وجہ سے چونکہ منی آرڈر کی رفتار سست ہوگئی ہے، اس لیے مہاراشٹر کے مہاجر مزدور اپنے بھوکے کنبوں کے لیے گھر پر نقد پیسہ نہیں بھیج پا رہے ہیں۔ اورنگ آباد کے ادول میں، پانچ ریاستوں کے مزدور اس بینک سسٹم سے جدوجہد کر رہے ہیں، جسے نہ تو وہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی وہ ان کے لیے کام کرتا ہے
7. نوٹ بندی کے سبب بیڑی کارخانے بند
نوٹ بندی کے بعد پیدا ہونے والی نقدی کی کمی نے مغربی بنگال کے جانگیر پور میں واقع بیڑی کے بڑے بڑے کارخانوں کو بند کرنے پر مجبور کر دیا، جس کی وجہ سے اپنے گھروں میں بیڑی بنانے والوں، جن میں سے زیادہ تر عورتیں ہیں، کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں بچا ہے
6. بینک ’گاندھی گیری‘، مراٹھواڑہ میں کیش لیس ہارا۔ کیری
نوٹ بندی کی پریشانیاں جیسے جیسے گہرا رہی ہیں، عثمان آباد کا ایک بینک چینیی کی دو فیکٹریوں کے ذریعہ قرض لیے گئے ۳۵۲ کروڑ روپے کو واپس لینے کے لیے بہت زیادہ کوشش نہیں کر رہا ہے، لیکن اُن ۲۰ ہزار کسانوں کو ڈرا دھمکا رہا ہے اور بھری محفل میں ان کی بے عزتی کر رہا ہے، جنھوں نے اس سے ۱۸۰ کروڑ روپے اُدھار لے رکھے ہیں
5. نیپالی روپے کا سہارا
ہند ۔ نیپال سرحد کے قریب، اتھراکھنڈ کے خوبصورت اوگلا اور سالانہ جَول جیبی میلہ میں تاجروں کو نوٹ بندی سے زبردست نقصان پہنچا ہے، جب کہ سرحد کے آخری شہر دھارچُلا میں مقامی لوگ نیپالی کرنسی سے نقدی کی کمی کو پورا کر رہے ہیں
4. نوٹ بندی کو پینے والے
آندھرا پردیش کے اننتا پور ضلع میں تاڑی مری گاؤں کی کھاد کی دکانیں چونکہ پرانے نوٹوں کو لے رہی ہیں، اس لیے مونگ پھلی کی کھیتی کرنے والے قحط سے متاثرہ کسان بھی اپنے قرض کو چکانے کے لیے لائنوں میں کھڑے دکھائی دے رہے ہیں، جب کہ بے روزگار ہو چکے زرعی مزدور اپنے پاس بچے رہ گئے چند پرانے نوٹوں کو آسانی سے استعمال کرنے کے لیے وہاں کی مقامی شراب کی دکانوں سے شراب خریدنے کے لیے لائنوں میں کھڑے ہیں
3. ’نوٹ بندی نے کسانوں کو تباہ کر دیا ہے‘
وِدربھ کے زرعی بازاروں میں سال کا یہ وقت مال بیچنے کا بہت اچھا وقت ہوتا۔ لیکن یہاں کے کسانوں کو بھاری نقصان برداشت کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے، انھیں اپنے سامان کی کم قیمت مل رہی ہے، سڑ جانے والی پیداوار کا نقصان ہو رہا ہے، یا پھر انھیں بینکوں میں نقد پیسے جمع کرانے کا خوف لاحق ہے، کیوں کہ ان بینکوں سے انھوں نے قرض لے رکھا ہے
2. نوٹ بندی اور چٹکی بھر کیڑے مار دوا سے تیار سالن
حکومت کے ذریعے ہندوستان کی ۸۶ فیصد کرنسی کو غیر قانونی قرار دے دینے کے سبب، زمین بیچ کر قرض ادا کرنے کی امید ختم ہونے کے بعد، تلنگانہ کے دھرم رام گاؤں کے وردا بَلَیّا نے خودکشی کر لی اور اپنی فیملی کو بھی زہر دینے کی کوشش کی
1. چکل تھانہ کی بے نقدی اقتصادیات
مرکزی حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلہ نے پورے مہاراشٹر کے کسانوں، بے زمین مزدوروں، پنشن پانے والوں، چھوٹے کاروباریوں اور اس قسم کے بے شمار لوگوں کو برباد کرکے رکھ دیا ہے
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/نوٹ-بندی-پر-پاری-کی-رپورٹس












