چتر دُرگ میں واقع کھانے کے سب سے مشہور ہوٹل، سری لکشمی بھون ٹفن روم کے اندر کی دیوار پر کنڑ زبان میں ایک نوٹس لگا ہوا ہے، جس میں لکھا ہے:


Chitradurga, Karnataka
|TUE, FEB 27, 2018
’نوٹ بندی‘ کے سال بھر بعد بھی زخم ہرے ہیں
کرناٹک کے دیہی علاقوں میں نوٹ بندی کے ایک سال پورے ہونے کے بعد بھی، کھانے کے ہوٹلوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
Author
Translator
صارفین توجہ دیں
ہمارے پاس ۲۰۰۰ روپے کے نوٹ کا چینج (خوردہ) نہیں ہے۔ برائے کرم پیسہ کی صحیح رقم چینج میں ادا کریں یا پھر چھوٹا نوٹ دیں

P. Sainath
یہ نوٹس ۸ نومبر، ۲۰۱۶ کو نوٹ بندی کے اعلان کے کچھ دنوں بعد ہی لگایا گیا تھا۔ ’’اس نے واقعی میں ہمیں نقصان پہنچایا،‘‘ ہوٹل کے منیجر، ایس مرلی کہتے ہیں۔ ’’پہلے ۴۔۳ مہینوں میں، ہمیں ۵۰ فیصد کاروبار کا نقصان ہوا۔ لوگ یہاں آتے تھے اور بغیر کچھ کھائے ہوئے واپس چلے جاتے تھے۔ بہت برا وقت تھا۔‘‘ اور یہ حال تھا چتر دُرگ شہر کے سب سے مشہور ٹفن روم کا، کرناٹک کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر کا نام بھی چتر درگ ہی ہے۔
لیکن، ہم نے سوال کیا، ’’کرنسی کی حالت اب ٹھیک ہو گئی ہے، نقدی واپس آ چکی ہے، اور اسے اب ایک سال ہو چکا ہے – پھر یہ نوٹس ابھی تک کیوں لگا ہوا ہے؟‘‘ مرلی مسکراتے ہیں۔ ’’ٹھیک ہے، حالات اب کافی حد تک ٹھیک ہوئے ہیں، لیکن میرے خیال سے ہمیں اب بھی اس کی ضرورت ہے۔‘‘ ان کے کہنے کا مطلب یہی تھا کہ آپ کو آگے کا پتہ نہیں ہے.... یہ دوبارہ ہو سکتا ہے۔ اور کون جانتا ہے کہ ان کا اگلا فرمان کیا ہوگا؟
مجھے خوشی ہے کہ ہمارے پاس چھوٹے نوٹ تھے۔ یہاں کا ڈوسا بہت مزیدار ہے۔ مشہور چتر دُرگ قلعہ کو دیکھنے کے لیے آنے والے سیاح، اور آس پاس کے دیگر شہروں کے لوگ، ڈوسا کھانے اسی ہوٹل میں آتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ بھی اس ٹفن روم میں ضرور تشریف لائیں۔ بس اتنا خیال رہے کہ یہاں آکر ۲۰۰۰ روپے کا نوٹ نہ دکھائیں۔
(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/نوٹ-بندی-کے-سال-بھر-بعد-بھی-زخم-ہرے-ہیں

