محل کے اوپر شاہی پرچم نئے سلطان کے دل کی طرح پھڑپھڑا رہا تھا، جو اس دوپہر کو اپنے عالیشان بستر پر آرام کرنے کے لیے لیٹا ہوا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد اس نے تمام بغاوتوں کو ایک ایک کرکے کچل دیا، اور اس طرح ایک شاہی گھرانے کی بے لگام حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اسے اپنی شجاعت پر پورا بھروسہ تھا، اسی لیے میدان جنگ میں بغیر ڈھال کے جاتا، اپنے برہنہ سینے کو پیٹتا ہوا، اور شکاری جانوروں کی تمام افواج کو تقریباً تنہا ہی موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس نے سوچا کہ یہ تو صرف کیڑے ہیں، لیکن اس کی سوچ کے برعکس ان پر قابو پانا بہت مشکل تھا۔ اس کا دماغ واقعی بہت تیز تھا، جس نے ہر بار ان کے خطرے کو کچلنے میں اس کی مدد کی تھی۔ لیکن دسمبر کی ہوائیں ظالم تھیں۔
اس وقت جس چیز کی ضرورت تھی، وہ میٹاریزیم اینی سوپلی کا وسیع ذخیرہ تھا۔ یہ حشرہ کش پھپھوندی دنیا بھر کی مٹی میں قدرتی طور پر اُگتی ہے اور کیڑوں کو ختم کر دیتی ہے۔ سرکردہ ماہرین کی ایک کمیٹی نے اعلان کر دیا کہ ان کیڑوں کو مارنے کے لیے، جو انہیں اندر سے کھا رہے ہیں، یہ حشرہ کش پھپھوندی سستی، زیادہ مؤثر اور طویل عرصے تک چلنے والی ہوگی۔ ذخیرہ کا انتظام پہلے سے ہی امیر ساتھیوں کے ذریعہ کر دیا گیا تھا۔ اب صرف ایک چیلنج تھا کہ نوجوانوں کی ایک ٹیم تلاش کی جائے اور ان حشرہ کش پھپھوندی سے ان کیڑوں پر زوردار حملہ کیا جائے۔
شام ہو چکی تھی، اور وہ تھک گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا دماغ بس آرام کرے، دوڑنا بند کر دے۔ یہ صرف احتجاج کرنے والی ٹڈیوں کا مسلسل شور ہی نہیں تھا جو ہوا پر قبضہ کرنے اور چیزوں کو اتنا ناقابل برداشت بنانے کے لیے آیا تھا۔ کچھ اور بھی تھا، جو اسے اندر سے پریشان کر رہا تھا۔ کیا یہ اس کی انا تھی؟ کیا وہ واقعی میں ڈر گیا تھا؟ یا وہ اس بارے میں فکرمند تھا کہ رات میں کیا ہو سکتا ہے؟ کیا اسے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ اس کی طاقتیں کمزور ہونے والی ہیں؟ خود سے یہ سوال تکلیف دہ تھا۔ اپنے دماغ کو اس سے نجات دینے کے لیے اس نے لاپرائی سے کھڑکی کے باہر دیکھا۔ سیاہ افق پر غروب ہوتا سورج نا مبارک لگ رہا تھا۔



