
SANGUR, PUNJAB
|FRI, MAY 06, 2022
دیہی ہندوستان کے معذور افراد
دیہی ہندوستان میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو جسمانی معذوری کے شکار ہیں اور اسی حالت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ معذوری یا تو کسی کو پیدائشی طور پر ہوتی ہے، یا پھر سماجی یا ریاستی کارروائی یا بے عملی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے – مثال کے طور پر جھارکھنڈ میں یورینیم کی کانوں کے قریب رہنے والے لوگوں کو ہونے والی جسمانی معذوری، یا پھر مراٹھواڑہ میں بار بار کی قحط سالی کو روک پانے میں سرکار کی ناکامی کی وجہ سے ہونے والی معذوری، جس کی وجہ سے لوگوں کو زمین سے نکلنے والا فلورائیڈ سے آلودہ پانی پینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ کئی بار یہ معذوری بیمار پڑنے یا طبی نگہداشت میں کوتاہی کی وجہ سے بھی ہوتی ہے – لکھنؤ کی کچرا بیننے والی پاروَتی دیوی کی انگلیاں جذام کے مرض کی وجہ سے خراب ہو گئیں، جب کہ میزورم کے دیبہالا چکمہ کی آنکھوں کی روشنی چیچک نے چھین لی، اور پالگھر کی پرتبھا ہیلیم نے گینگرین کی وجہ سے اپنی دونوں ٹانگیں اور دونوں ہاتھ کھو دیے۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ معذوری دماغی ہے – سرینگر کا چھوٹا بچہ محسن دماغی فالج کا شکار ہے، جب کہ مہاراشٹر سے تعلق رکھنے والا پرتیک ’ڈاؤنس سنڈروم‘ میں مبتلا ہے۔ اس قسم کے بہت سے معاملوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ غریبی، نا برابری، حفظان صحت سے متعلق خدمات کی کمی اور امتیازی سلوک کی وجہ سے معذور افراد کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پیش ہے مختلف ریاستوں میں معذوری کے ساتھ زندگی بسر کرنے والوں سے متعلق پاری کی یہ اسٹوریز
Author
Translator
13. چترا اور متھو راجا کے پیار کی ان کہی داستان
متھوراجا کا ہاتھ چترا کے کندھے پر ہے، اور وہ انہیں راستہ بتاتی ہیں – مدورئی ضلع کے یہ میاں بیوی زندگی کی مشکلوں کا ایک ساتھ مل کر سامنا کرتے ہیں۔ لیکن غریبی، خراب صحت اور جسمانی معذوری ان کے لیے روزمرہ کی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے
12. اسکول، کھیل اور چلنے پھرنے سے محروم ہوا محسن
سرینگر میں بے گھر لوگوں کے لیے بنائی گئی ’رکھِ آرتھ‘ ہاؤسنگ کالونی میں بسنے کے بعد سے، دماغی طور پر مفلوج اپنے بیٹے کے علاج کا انتظام کرنے اور گزر بسر کے لیے کام تلاش کرنے میں اخون فیملی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے
11. بہادر ٹیچر کے جذبہ سے سبق حاصل کرنا
پرتبھا ہلیم کو پچھلے سال گینگرین کی وجہ سے اپنے دونوں پیر کھونے پڑے تھے۔ لیکن پالگھر، مہاراشٹر کی اس آدیواسی ٹیچر نے ہمت کے ساتھ اپنے ہی گھر پر اُن بچوں کو پڑھانا جاری رکھا ہے، جن کے پاس ’آن لائن تعلیم‘ تک رسائی کے مواقع کافی کم ہیں
10. وبائی مرض کے دوران ’چھونے کے ذریعے دنیا‘ کو دیکھنا
ومل اور نریش ٹھاکرے، دونوں نا بینا، ممبئی کی لوکل ٹرین میں رومال فروخت کرتے تھے۔ لاک ڈاؤن نے ان کی، اور کئی دیگر لوگوں کی آمدنی چھین لی۔ انہیں حکومت سے معمولی مدد مل رہی ہے اور مستقبل غیر یقینی ہے
9. ’ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں‘
زندگی بھر بیماری اور کئی سرجری کے بعد، پونہ ضلع کے ہڈشی گاؤں کی بیبا بائی لوئرے کمر سے جھک گئی ہیں۔ پھر بھی، وہ کھیتی کا کام اور اپنے فالج زدہ شوہر کی دیکھ بھال کرنا جاری رکھے ہوئی ہیں
8. ’ڈاکٹروں نے بچہ دانی نکلوانے کا مشورہ دیا تھا‘
ذہنی طور پر معذور عورتوں کی جنسی اور تولیدی صحت کے حقوق کی اکثر خلاف ورزی کی جاتی ہے اور انہیں اکثر اپنی بچہ دانی نکلوانے کے لیے مجبور کر دیا جاتا ہے۔ لیکن مہاراشٹر کے واڈی گاؤں میں، مالن مورے خوش قسمت ہیں کہ انہیں اپنی ماں کا ساتھ ملا
7. پنویل سے ایم پی: اسکوٹر پر چار دن اور چار راتیں
چند سال قبل ایک حادثہ میں اپنا ایک پیر گنوا چکے بملیش جیسوال نے لاک ڈاؤن کے دوران اپنی بیوی اور تین سال کی بیٹی کے ساتھ، مہاراشٹر کے پنویل سے مدھیہ پردیش کے ریوا تک، ۱۲۰۰ کلومیٹر کا سفر بنا گیئر والے اسکوٹر سے پورا کیا
6. خاص نظر سے بنی ٹوکری
میزورم کے راجیو نگر کے ایک نابینا دست کار، دیبہال، یادداشت کی بنیاد پر اور چھو کر گزشتہ ۵۰ برسوں سے معاش کے لیے خوبصورت ٹوکریاں بنا رہے ہیں، اور کہتے ہیں کہ وہ ابھی بانس کا بھی گھر بنا سکتے ہیں
5. دھروتا میں، جان سے بھی زیادہ قیمتی، ایک کارڈ
کیا آدھار کارڈ سبھی سرکاری اسکیموں تک رسائی کو بہت آسان بناتا ہے؟ اترپردیش کے الہ آباد ضلع کے ایک گاؤں میں بھوک سے ہونے والی ایک موت سے پتہ چلتا ہے کہ کارڈ حاصل کرنے کا عمل غریبوں کی جان لے سکتا ہے
4. ووٹ کے لیے کافی، آدھار کے لیے نہیں
پاروتی دیوی کی انگلیاں کوڑھ کی وجہ سے خراب ہو چکی ہیں۔ لہٰذا لکھنؤ میں کوڑا چننے والی یہ – اور شاید اس مرض میں مبتلا ایسی ہی ہزاروں دیگر – آدھار کارڈ حاصل نہیں کر سکتیں، اور اس کے بغیر معذوری کا اپنا پنشن یا راشن حاصل نہیں کر سکتیں
3. بنگو میں جسموں کو توڑنے والی کچ دھات
جھارکھنڈ کے مشرقی سنگھ بھوم ضلع میں جڈوگوڈا کان سمیت، یورینیم کانوں کے قریب واقع گاؤوں میں رہنے والے لوگ، نصف صدی سے شعاع پذیر سلری اور زہریلے نالوں کے پاس رہنے کی بڑی قیمت چکا رہے ہیں
2. مراٹھواڑہ کے پانی سے خراب ہوتی ہڈیاں
مراٹھواڑہ میں بار بار کی قحط سالی نے ساورکھیڈ جیسے گاؤوں کے لوگوں کو بورویل کا فلورائڈ سے آلودہ پانی پینے پر مجبور کر دیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں
1. ’اگر یہ رک گیا، تو میری زندگی بھی رک جائے گی‘
پاری کے رضاکار سنکیت جین کا ارادہ ہے ہندوستان بھر کے ۳۰۰ گاؤوں کا دورہ کرنا۔ دیگر اسٹوریز کے علاوہ، یہ فیچر انہی کی تخلیق ہے: جو کسی دیہی منظر یا واقعہ کی تصویر اور اس تصویر کا خاکہ ہے۔ پاری پر اس سلسلہ کی یہ چھٹی کڑی ہے۔ پوری تصویر یا خاکہ کو دیکھنے کے لیے سلائڈر کو دائیں یا بائیں کسی ایک جانب دبا کر کھینچیں
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/دیہی-ہندوستان-کے-معذور-افراد













