دیبہال چکما جب پیدا ہوئے تھے، تو اس وقت سیاہ بادلوں نے اندھیرے آسمان کو ڈھانپ لیا تھا۔ اسی لیے اُن کے والدین نے ان کا نام ’چکما‘ منتخب کیا، جس کا مطلب ہوتا ہے – ’سیاہ آلودہ آسمان‘۔ اس اندھیرے نے دیبہال کا ساتھ زندگی بھر نہیں چھوڑا – تین سال کی عمر میں انہیں چیچک اور پھر شدید دست کی بیماری نے جکڑ لیا، جس کی وجہ سے پہلے رتوندھی ہوئی پھر دھیرے دھیرے آنکھوں کی روشنی بھی پوری طرح سے چلی گئی۔
لیکن دیبہال اس سے بالکل بھی مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے خود سے بانس کی ٹوکریاں بنانا ۱۶ سال کی عمر میں ہی سیکھ لیا تھا۔ اب ۶۵ سال کے ہو چکے دیبہال کہتے ہیں، ’’بانس کی قمچیوں سے پیٹرن بُننا میں نے خود ہی سیکھا۔ جب میں جوان تھا، تو میرے اندر بانس کا گھر بنانے کی پوری صلاحیت تھی۔‘‘
دیبہال راجیو نگر میں رہتے ہیں، جو میزورم کے مامِت ضلع کے ژول نوآم بلاک میں ۳۵۳۰ لوگوں کی آبادی والا ایک گاؤں ہے۔ ان کا تعلق چکما برادری سے ہے، جو ایک درج فہرست قبیلہ ہے، جن میں بہت سے لوگ بودھ مذہب کو ماننے والے ہیں، جن کا بنیادی پیشہ کھیتی ہے۔ ضلع کی پہاڑیوں کی زمین زرخیز ہے، جس پر متعدد لوگ جھوم کھیتی یا منتقلی والی کھیتی کرتے ہیں، اور مکئی، دھان، تِل، سپاری، اننّا اور دیگر فصلیں اُگاتے ہیں۔ یہاں گھنے بانس کے جنگل اور جھاڑو کے لیے گھاس پھوس بھی ہیں، جن کا مقامی اقتصادیات میں مرکزی رول ہے۔




