آدیواسی لوگوں کی اپنی کمیاں ہیں، لیکن یہ دیکھنا اہم ہے کہ وہ کسی کمیونٹی کی ثقافت کو کیسے اپناتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جدید تعلیم نے ایک نئی روایت شروع کی ہے، اور ہمارے بہت سے تنازعات اسی نو تعلیم یافتہ طبقے کی دین ہیں۔ آج میرے گاؤں کا ٹیچر گاؤں میں گھر نہیں بناتا۔ وہ راج پیپلا میں زمین خریدتا ہے۔ نوجوان نسل خیالی ترقی کے نظریات کی جانب مائل ہوتی جا رہی ہے۔ اپنی جڑوں سے دور کسی بیرونی جگہ پر منتقل ہونے کے بعد، وہ روایتی طریقے سے زندگی بسر نہیں کرتے۔ وہ لال چاول کو ہضم کرنے کی طاقت کھو چکے ہیں۔ وہ شہر کی نوکری سے ملنے والی عزت و شہرت کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں۔ غلامی کا یہ احساس کبھی ہماری ثقافت کا حصہ نہیں رہا۔ اب تعلیم یافتہ اور نوکری یافتہ ہونے کے باوجود، انہیں شہروں میں رہنے کے لیے اپنی جگہ نہیں مل پاتی۔ لوگ انہیں وہاں سے نکال دیتے ہیں۔ لہٰذا، ان تنازعات سے بچنے کے لیے وہ اپنی شناخت کو چھپانے لگتے ہیں۔ آج آدیواسی شناخت، پوری طرح تنازعات سے گھری ہوئی ہے۔


Narmada, Gujarat
|THU, SEP 15, 2022
درختوں، انسانوں اور تہذیبوں کے زوال پذیر دور میں
دیہولی بھیلی میں تحریر کردہ پانچ نظموں کے مجموعہ کی اس پانچویں اور آخری نظم میں، ایک آدیواسی شاعر خیالی ترقی کے نظریات سے متاثر معاشرے میں آدیواسی شناخت سے متعلق بڑھتے تنازعات کو بیان کر رہا ہے
Poem and Text
Painting
Editor
Translator
غیر مہذب مہوا
جب سے میرے ملک کے
چند نام نہاد شرفاء نے
مہوا کو غیر مہذب قرار دیا ہے
میری قوم کے لوگ خود کو بھی
غیر مہذب ہی تصور کرنے لگے ہیں
تب سے میری ماں مہوا کے پھولوں کو
چھونے سے کتراتی ہیں
میرے والد اس نام سے ہی نفرت کر بیٹھے ہیں
اور میرا بھائی ہمارے گھر کے آنگن میں
مہوا کی جگہ تلسی کا ایک چھوٹا سا پودا لگا کر
اپنے آپ کو مہذب محسوس کرتا ہے۔
جب سے میرے ملک کے
چند نام نہاد شرفاء نے
مہوا کو غیر مہذب قرار دیا ہے
میری قوم کے لوگ خود کو بھی
غیر مہذب ہی تصور کرنے لگے ہیں
میری قوم کے لوگ، جو
روحانی اقدار کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے
اب دریاؤں کو مقدس تسلیم کرنے سے
پہاڑوں کو پوجنے، اسلاف کے نقش قدم پر چلنے سے
زمین کو ماں کے نام سے پکانے سے
آب آب و شرمسار ہو جاتے ہیں
اپنی اصل شناخت کو پس پردہ رکھ
اپنے غیر مہذب نفس کو آزاد کرنے کی فراق میں
میری قوم کے کچھ لوگ عیسائیت قبول کر رہے ہیں
تو کچھ ہندو بھی بن رہے ہیں
کچھ جین، تو کچھ مسلمان بھی۔
جب سے میرے ملک کے
چند نام نہاد شرفاء نے
مہوا کو غیر مہذب قرار دیا ہے
میری قوم کے لوگ خود کو بھی
غیر مہذب ہی تصور کرنے لگے ہیں
میری قوم کے لوگ، جو بازاروں سے نفرت کرتے تھے
اب ان کو اپنے گھروں میں جگہ دیتے ہیں
ان کے ہاتھ سے کوئی ایسی چیز چھوٹتی نہیں
جس پر ’مہذب سماج‘ کا ٹھپہ لگا ہوا ہو
اس مہذب سماج کی سب سے بڑی ایجاد ہے –
انفرادیت
ہر شخص اس الف کا مطلب سمجھ رہا ہے
وہ الف نہیں، جس سے آباء و اجداد لکھا جاتا ہو
بلکہ وہ الف جس سے گڑھا جاتا ہے
’آپ‘ اور صرف ’آپ‘۔
جب سے میرے ملک کے
چند نام نہاد شرفاء نے
مہوا کو غیر مہذب قرار دیا ہے
میری قوم کے لوگ خود کو بھی
غیر مہذب ہی تصور کرنے لگے ہیں
میری قوم کے لوگ، جو کہانیوں کو گیتوں میں پروتے تھے
اور اپنی زبان میں داستانیں رقم کیا کرتے تھے
اب اپنی بولی ہی بھول رہے ہیں
اور اپنی نئی نسل کو انگریزی بول چال سکھا رہے ہیں
اب ان کے نونہال بھی اس زمیں کے
پیڑ پودوں، دریاؤں اور پہاڑوں کی کم سوچتے ہیں
وہ خواب دیکھتے ہیں تو امریکہ اور لندن کا۔
جب سے میرے ملک کے
چند نام نہاد شرفاء نے
مہوا کو غیر مہذب قرار دیا ہے
میری قوم کے لوگ خود کو بھی
غیر مہذب ہی تصور کرنے لگے ہیں
ترجمہ: نثر والے حصہ کا ترجمہ محمد قمر تبریز نے، اور نظم والے حصہ کا ترجمہ برہان قریشی نے کیا ہے۔
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/درختوں،-انسانوں-اور-تہذیبوں-کے-زوال-پذیر-دور-میں

