تمام میڈیا میں دراڑوں پر بحث ہو رہی تھی۔ ہر دن چمولی ضلع میں پہاڑ کے اوپر آباد اس شہر کے ڈوبنے کے بارے میں نئے اعداد و شمار کے ساتھ اسٹوری پڑھی جا رہی تھی۔ دراڑوں کی تصویریں نکالنے اور قصبہ میں ہو رہے احتجاجی مظاہروں کو دیکھنے کے لیے میڈیا والے لگاتار گاؤوں کا دورہ کر رہے تھے۔ پچھلے ہفتے جب وہ لوگوں سے اپنے گھروں سے جانے کو کہہ رہے تھے، اس نے اپنے چھوٹے سے گھر کو چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا تھا۔ جب تک وہ اسے نکالتے نہیں، وہ جانے والی نہیں تھی۔ وہ بالکل بھی ڈری ہوئی نہیں تھی۔
اسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ دراڑیں اس اشارہ کی طرح تھیں جو لالچ کی شکل میں سرنگ کے راستے گاؤں تک پہنچ گئی تھی۔ نئے پروجیکٹ اور سڑکیں، جو پہاڑوں پر قبضہ جماتی رہیں، صرف وہی ان پر حملے نہیں کر رہی تھیں۔ کچھ اور بھی تھا، جو کہیں زیادہ گہرائی سے، اس دنیا کے ساتھ غلط تھا۔ دراڑیں پہلے سے ہی موجود تھیں۔ پہاڑ کی کسی بیل سے جھولتے ایک نئے خواب کا پیچھا کرتے، انہیں خود کو قدرت سے اور زمین پر رہنے والے دیوتاؤں سے کاٹ لیا تھا۔ حالانکہ، وہ بیل بہت جادوئی تھی۔ اس افسانہ کی تلاش میں بھٹکنے کا ٹھیکرا کس کے سر پھوٹتا؟



