اصل سوال قدروں کا ہے۔ اور یہ قدریں ہماری زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ ہم خود کو قدرت سے الگ کرکے نہیں دیکھ پاتے۔ آدیواسی جب لڑتے ہیں، تو وہ سرکار یا کسی کمپنی کے خلاف نہیں لڑتے۔ ان کے پاس اپنی ’بھومی سینا‘ ہے، اور وہ لالچ اور خود غرضی میں لتھڑے قدروں کی مخالفت میں لڑتے ہیں۔
ان تمام چیزوں کی شروعات تہذیبوں کے ارتقا کے ساتھ ہوئی – جب ہم نے انفرادیت پسندی کو اپنا سر اٹھاتے ہوئے دیکھا، اور ہم انسانوں کو قدرت سے الگ وجود رکھنے والی اکائی کے طور پر دیکھنے لگے۔ یہیں سے تصادم کی شروعات ہوئی۔ جب ہم خود کو ندی سے دور کر لیتے ہیں، تو اس کے پانی میں سیویج، کیمیاوی اور صنعتی کچرا خالی کرنے سے ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔ ہم ندی کو ذریعہ سمجھ کر اس پر قبضہ جما لیتے ہیں۔ جیسے ہی ہم خود کو قدرت سے الگ اور برتر سمجھنے لگتے ہیں، اس کی لوٹ اور اس کا بیجا استعمال آسان ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف، کسی آدیواسی برادری کے لیے اس کی قدریں صرف کاغذ پر تحریر کردہ ضابطے نہیں ہوتے۔ یہ قدریں ہمارے لیے زندگی بسر کرنے کا ذریعہ ہیں۔


