بستر: بانس کے بندوق سے بھگوان کو سلامی
چھتیس گڑھ میں منعقد ہونے والے سالانہ گونچا تہوار میں، مقامی آدیواسی لوگ انوکھے طریقے سے اپنے بھگوان کو سلامی پیش کرتے ہیں

SANGUR, PUNJAB
|FRI, SEP 09, 2022
Author
Translator
چھتیس گڑھ میں منعقد ہونے والے سالانہ گونچا تہوار میں، مقامی آدیواسی لوگ انوکھے طریقے سے اپنے بھگوان کو سلامی پیش کرتے ہیں
سکّم کے تیر اندازی کے بازار پر ہائی ٹیک آلات کا قبضہ ہے۔ لیکن ۸۳ سالہ شیرنگ دورجی بھوٹیا آج بھی روایتی طریقے سے تیر و کمان بناتے ہیں۔ یہ اسٹوری اُس ریاست کی ہے، جس نے اولمپک میں ہندوستان کی ۳ بار نمائندگی کی ہے
مہاراشٹر کے اچلکرنجی شہر کے مرلی دھر جواہرے، ۷۰ سال کی عمر میں بڑی محنت سے کاغذ اور بانس سے بننے والے تورن (دروازے پر لٹکائی جانے والی سجاوٹیں) تیار کرتے ہیں۔ انہیں ابھی بھی اپنی اس دستکاری پر فخر ہے جسے آج کل کوئی سیکھنا نہیں چاہتا ہے
کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے تلنگانہ کے کانگل گاؤں میں ٹوکریوں کی تجارت کو بند کر دیا ہے۔ ٹوکری بنانے والے ییروکُلا ایس ٹی برادری کے لوگ، فی الحال زرعی کاموں اور پی ڈی ایس سے ملنے والے چاول اور راحت پیکیجوں پر منحصر ہیں
کووڈ- ۱۹ لاک ڈاؤن نے چھتیس گڑھ میں رہنے والی کمار برادری، خاص طور سے کمزور آدیواسی جماعت، جو ٹوکریاں بن کر اور مہوا کے پھل بیچ کر چند روپے کماتی ہے، کی نازک اقتصادیات کو تار تار کر دیا ہے
میزورم کے راجیو نگر کے ایک نابینا دست کار، دیبہال، یادداشت کی بنیاد پر اور چھو کر گزشتہ ۵۰ برسوں سے معاش کے لیے خوبصورت ٹوکریاں بنا رہے ہیں، اور کہتے ہیں کہ وہ ابھی بانس کا بھی گھر بنا سکتے ہیں
نین رام بجیلا، جو دیہی اتراکھنڈ میں بانس کے سامان بناتے ہیں، کہتے ہیں کہ دوسرے آرٹ کی طرح ہی ان کا بھی کام تحمل کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن کم اجرت اور ریاست کی طرف سے تعاون نہ ملنے کی وجہ سے، ان کے بیٹوں نے کوئی اور کام کرنا شروع کر دیا ہے
آسام میں برہم پتر ندی کے کُنٹیر جزیرہ پر رہنے والے معین الدین پرمانِک بانس کاٹنے کا کام کرنے دھوبری آتے ہیں۔ لیکن اب یہ کاروبار ختم ہوتا جا رہا ہے اور ڈیلی ویج ورکرز کے لیے دوسرے متبادل بہت کم بچے ہیں
دیہی اوڈیشہ میں کسان، مزدور اور چرواہے کام کرتے وقت نزاکت سے بُنے ہوئے ’رین ہیٹ‘ پہنتے ہیں۔ آدیواسیوں کے ذریعہ بنائی گئی ان ٹوپیوں کو چھوٹے فروشندے، سائیکل پر لاد کر لمبی دوری طے کرتے ہیں اور فروخت کرتے ہیں
بولانگیر، اوڈیشہ کی کملا اور دیگر پہاڑیوں کو آدیواسی کے طور پر خود کو تسلیم کروانے اور اپنے حقوق پانے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے
رتن بسواس تقریباً ۲۰۰ کلوگرام وزن کے بانسوں سے لدی سائیکل کو ۱۷ کلومیٹر سے کھینچ رہے ہیں
دیہی خواتین کی محنت و مشقت پر مبنی پی سائی ناتھ کی آن لائن تصویری نمائش کے اس پینل میں دکھایا گیا ہے کہ ٹوکری اور جھاڑو وغیرہ بنانے کے لیے عورتیں گھاس اور بانس جیسی جنگلاتی پیداوار کا کس طرح استعمال کرتی ہیں
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/بانس-کے-سہارے-چلتی-زندگی-اور-اس-سے-جڑے-کام