میرا تعلق جام نگر ضلع کے لال پور تعلقہ میں واقع سِنگاچ گاؤں کی ایک رباری فیملی سے ہے۔ لکھنے کا کام میں پہلی بار کر رہی ہوں، اور کورونا دور میں ہی میں نے لکھنا شروع کیا تھا۔ میں چرواہا برادریوں کے ساتھ کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ کمیونٹی موبلائزر کے طور پر کام کرتی ہوں۔ میں فاصلاتی تعلیم کے ذریعے گھر سے ہی آرٹس میں گریجویشن کی پڑھائی کر رہی ہوں، اور گجراتی میرا مین سبجیکٹ ہے۔ گزشتہ ۹ مہینوں سے، میں اپنی برادری کے لوگوں میں تعلیم کے تئیں بیداری اور دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کام کر رہی ہوں۔ میری برادری کی عورتوں میں تعلیمی سطح تشویش ناک حد تک کم ہے۔ یہاں آپ کو بہت کم ایسی عورتیں ملیں گی جو پڑھی لکھی ہیں۔
بنیادی طور پر ہم لوگ چرواہا برادری تھے، اور چارن، بھارواڑ، اہیر جیسی دیگر برادریوں کے ساتھ مل کر بھیڑ پالنے کا کام کرتے تھے۔ ہمارے بہت سے لوگوں نے اب اپنے روایتی پیشہ کو چھوڑ دیا ہے اور بڑی کمپنیوں میں یا کھیتوں میں دہاڑی مزدوری کرتے ہیں۔ ہماری برادری کی کئی عورتیں کارخانوں اور کھیتوں میں مزدوری کرتی ہیں۔ سماج ان عورتوں اور ان کے کام کو تسلیم کر لیتا ہے، لیکن میری طرح اکیلے کام کرنے والی عورتوں کو سماجی طور پر قبولیت کا درجہ مشکل سے ہی مل پاتا ہے۔



