دیہی ہندوستانی، آزادی کے پیدل سپاہی تھے اور برطانوی حکومت کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی لڑائیوں میں سے کچھ کے قائد بھی تھے۔ ان میں سے بے شمار لوگوں نے ہندوستان کو انگریزی حکومت سے آزاد کرانے کے لیے اپنی جان تک قربان کر دی۔ اور ان میں سے کئی، جو ان سخت مظالم کے باوجود ہندوستان کو آزاد ہوتا دیکھنے کے لیے بچ گئے، انہیں بھی جلد ہی بھُلا دیا گیا۔ ۱۹۹۰ کی دہائی کے بعد سے، میں نے آخری باحیات مجاہدینِ آزادی میں سے کئی کی زندگی کو ریکارڈ کیا۔ یہاں آپ کو ان میں سے پانچ کی کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی:

Nuapada, Odisha
|TUE, MAR 28, 2017
آزادی کی دس کہانیاں
ہندوستان کو آزادی دلانے والی ایثار و قربانی پر مبنی وہ کہانیاں جنھیں بھُلا دیا گیا
Author
Translator
10. جب ’سالیہان‘ نے انگریزی حکومت سے لوہا لیا
آزادی کی دس کہانیاں – ۱: دیمتی دیئی سبر اور ان کی سہیلیوں نے اوڈیشہ کے نواپاڑہ میں بندوق بردار انگریز افسروں کو لاٹھیوں سے پیٹا تھا
9. پَنی مارہ کے آزادی کے پیدل سپاہی – ۱
آزادی کی دس کہانیاں – ۲: جب اوڈیشہ کے غریب دیہی باشندوں نے سمبل پور کورٹ پر قبضہ کر لیا اور اسے چلانے کی کوشش کی
8. پَنی مارہ کے آزادی کے پیدل سپاہی – ۲
آزادی کی دس کہانیاں – ۳: اوڈیشہ کی چھوٹی سی بستی، جس نے ’آزادی گاؤں‘ نام پایا
7. لکشمی پانڈا کی آخری لڑائی
آزادی کی دس کہانیاں – ۹: آئی این اے کی بدحال مجاہدِ آزادی، جن کا مطالبہ صرف اتنا تھا کہ ملک ان کی قربانی کو تسلیم کرے، جس کی وجہ سے اس بزرگ سپاہی کی لڑائی آزادی کے چھ سال بعد بھی جاری رہی
عدم تشدد اور ستیہ گرہ کی شاندار نَو دہائیاں
باجی محمد، جن کی عدم تشدد پر مبنی لڑائی آزادی کے ۶۰ سال بعد تک جاری رہی
۱۴ اگست، ۲۰۱۵ | پی سائی ناتھ
اس کے ساتھ ہی پانچ دیگر کہانیوں کا ایک سیٹ بھی ہے، جو سب سے پہلے ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوئی تھیں، انہیں یہاں مزید تصویروں کے ساتھ پھر سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس ’بُھلائی جا چکی آزادی‘ سیریز کا تانا بانا اُن گاؤوں کے ارد گرد بُنا گیا ہے جو عظیم بغاوتوں کا گہوارہ تھے۔ ہندوستانی جدوجہد آزادی، صرف شہری امیروں کا مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہی انہی عوامی گروہوں تک محدود تھا۔ دیہی ہندوستانیوں نے اس میں کہیں بڑی تعداد میں حصہ لیا اور ان کی لڑائی میں آزادی کے معنی کچھ اور بھی تھے۔ مثال کے طور پر، ۱۸۵۷ کی کئی لڑائیاں گاؤوں میں تب لڑی جا رہی تھیں، جب ممبئی اور کولکاتا کے شرفاء انگریزوں کی کامیابی کے لیے دعائیں کر رہے تھے۔ آزادی کے ۵۰ویں سال، یعنی ۱۹۹۷ میں، میں نے اُن میں سے کچھ گاؤوں کا دورہ کیا جہاں کے بارے میں آپ کو درج ذیل کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی:
5. شیر پور: جن کی قربانیاں فراموش کر دی گئیں
آزادی کی دس کہانیاں – ۴ : اتر پردیش کا وہ گاؤں جس نے ۱۹۴۲ میں جھنڈا لہرایا اور اس کا خمیازہ بھگتا
4. گوداوری: اور پولیس کو اب بھی حملے کا انتظار ہے
آزادی کی دس کہانیاں – ۵ : آندھرا کے رمپا سے َالّوری سیتارام راجو نے انگریزوں کے خلاف ایک بڑی بغاوت کی قیادت کی
3. سوناکھن: دو بار ہوا ویر نارائن کا قتل
آزادی کی دس کہانیاں – ۶: چھتیس گڑھ میں، ویر نارائن سنگھ نے بھیک نہیں مانگی، لیکن انصاف کے لیے لڑتے ہوئے اپنی جان دے دی
2. کَلِّیاسِّیری: سومُکن کی تلاش میں
آزادی کی دس کہانیاں – ۷ : وہ گاؤں جس نے ہر محاذ پر لڑائی لڑی؛ انگریزوں، مقامی زمینداروں، اور ذات پات کے خلاف
1. کَلِّیاسِّیری: آزادی کے اتنے سال بعد بھی جاری ہے جدوجہد
آزادی کی دس کہانیاں – ۸ : جب شکاریوں کے دیوتا نے کیرالہ کے کمیونسٹوں کو برطانوی راج مخالف لڑائی میں پناہ دی
پاری، آخری باحیات مجاہدینِ آزادی، جو اَب اپنی عمر کے ۹۰ویں سال میں ہیں یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں، کا پتہ لگانے اور ان کی زندگی کو دستاویز کی شکل میں درج کرنے کی لگاتار کوشش کر رہا ہے۔
مترجم: محمد قمر تبریز
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/آزادی-کی-دس-کہانیاں










