جیسے ہی مائی (ماگھ) کا مہینہ ختم ہوتا ہے، ہم شِمگا تہوار کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ ہماری وارلی زبان میں سال کے ۱۲ مہینے ہوتے ہیں: چَیت، بیساکھ، جیٹھ، آکھار، شراون، بھادوا، اشون، کارتک، مکشیر، پوس، مائی اور پھالگن (جسے شمگا بھی کہتے ہیں)۔
شمگا سے ایک یا دو ہفتے پہلے سے ہی ہم لکڑیاں اکٹھا کرنا اور اس سے چھوٹی چھوٹی ہولی جلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم پوری رات آٹیا پاٹیا جیسے روایتی کھیلوں میں مصروف رہتے ہیں۔ پھالگن پورنیما یعنی پھاگن مہینہ کے ۱۵ویں دن ہم بہت بڑے پیمانے پر لکڑیاں اکٹھا کر کے اس کی ہولی بناتے ہیں۔ اس میں جنگل سے لائی گئی موٹی لکڑیاں اور خشک ٹہنیاں لگائی جاتی ہیں۔ اس پروگرام میں صرف مرد حصہ لیتے ہیں۔ جنگل سے پتیوں والا ایک لمبا بانس لایا جاتا ہے اور اس پر پھولوں کی مالا، گاٹھی (چینی سے بنی مٹھائیاں)، اور چاول کے پاپڑ باندھے جاتے ہیں۔ بانس کے سب سے اوپری سرے پر ایک کالی مرغی کے چوزہ کو بھی باندھا جاتا ہے۔ پھر اسے درمیان میں رکھ کر اس کے چاروں طرف لکڑیاں سجا دی جاتی ہیں۔ اسی کو ہولی کہا جاتا ہے۔ لوگ ناریل پھوڑ کر ہولی کی پوجا کرتے ہیں۔ پھر گاؤں کا ایک بزرگ (جسے پوڈھارکھی کہتے ہیں) پورے گاؤں میں تہوار کا اعلان (دَوَنڈی) کرتا ہے اور پھر ہولی جلائی جاتی ہے۔
پرانے زمانہ میں، گاؤں اور اس کے گرد و نواح کی تمام بستیوں کے لوگ مل جل کر ہولی جلاتے تھے اور اجتماعی طور پر تہوار مناتے تھے۔ جن کی شادی شمگا سے پہلے ہو چکی ہوتی ہے، وہ جلتی ہوئی ہولی کا پانچ بار طواف کر کے اس کی پوجا کرتے ہیں۔ اصلی جشن تو رات میں شروع ہوتا ہے، جہاں لوگ رات بھر موج مستی کرتے ہیں۔ ہر عمر کے مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق اور شرارت سے لے کر پیار بھری گپ شپ بھی کرتے ہیں۔ بچے طرح طرح کی پوشاک پہن کر گھر گھر جاتے ہیں، لوگوں کو ہنساتے ہیں اور اس کے عوض تحفے یا پیسے مانگتے ہیں۔ شمگا ایسا تہوار ہے جو سبھی کو ہنسی مذاق کرنے اور خوشیاں منانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔





