پھگونی چٹخ دار زرد رنگ والی ساڑی کی سلوٹیں اپنی کمر میں کھونسے ہیں اور اسے ٹخنوں تک رکھے ہیں، تاکہ وہ ان کی گھسی ہوئی چپلوں میں نہ الجھ جائے۔ جنوری کی کڑاکے کی ٹھنڈ میں وہ تیزی سے چل رہی ہیں۔ اپنے سر پر انہوں نے گہرے گلابی رنگ کا دوپٹہ لپیٹ رکھا ہے جو کبھی کبھی ہوا میں لہرا جاتا ہے۔ ہلکے بھورے سنہرے رنگ کا تقریباً ایک کلو سنئی (کروٹے لیریا جُنسیا) کا مڑا ہوا ایک لچھّا کسی فیشن ایکسیسری کی طرح ان کے کندھے سے لٹکا ہوا ہے۔
بائیں ہاتھ میں انہوں نے ایک دھاگہ سے لٹکا ’ڈھیرا‘ پکڑ رکھا ہے۔ ڈھیرا ایک عام، چار دانتوں والا لکڑی کا ایک تکلہ ہے، جس میں ایک ہُک ہوتا ہے۔ بیچ بیچ میں وہ اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے چاروں طرف لپٹے بنڈل سے ایک دو ریشے کھینچتی ہیں، ڈھیرا کو تیزی سے گھماتی ہیں اور پھر دونوں ہاتھ سے ریشہ کو ایک پتلی رسی میں موڑ دیتی ہیں۔ جادو کی طرح چلنے والی ان کی انگلیاں موٹے سنئی (یا سَن) کے ریشوں کو ایک چمکدار، چکنے دھاگے میں بدلتی جاتی ہیں، جو ڈھیرا کے زمین پر گرنے تک لمبا ہوتا جاتا ہے۔ ’’ہی…ہی…چل چل۔‘‘ زمین سے تکلہ اٹھا کر سب کچھ پھر سے شروع کرتے ہوئے پھگونی دھیرے سے اپنی تین گایوں اور دو بکریوں کو ہانکتی ہیں اور پتلی رسی کو تکلہ کے چاروں طرف لپیٹ دیتی ہیں۔
خود سے باتیں کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں، ’’پل بھر کو نظر ہٹی اور وہ بھاگ جائیں گی – سیدھے سرسوں یا گیہوں کے کھیتوں میں،‘‘ ۵۶ سال کی پھگونی دیوی جس صفائی سے یہ سب کرتی ہیں، آگے سڑک پر اپنی بکریوں پر نظر بنائے رہتی ہیں اور اپنی سہیلی سے باتیں کرتی جاتی ہیں، وہ مجھے حیران کر دیتا ہے اور میں اپنی حیرانی ظاہر کرتا ہوں۔ مجھے ان کی آواز میں فخر کا احساس ہوتا ہے، ’’ہم چودھری اس ہنر کے ساتھ ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ہم اسے ماں کے پیٹ سے ہی سیکھ لیتے ہیں! اس گاؤں میں ہر بچہ یہ جانتا ہے۔‘‘


















