رضوانہ حاجی کی شخصیت میں جو پہلی چیز آپ کو نظر آتی ہے وہ ان کی خوبصورت، نم آلود اور بھوری بادامی آنکھیں ہیں۔ وہ انہیں پونچھتی ہیں، اپنے دوپٹے کے نیچے اپنے بالوں کو نفاست سے سنوارتی ہیں، اور رازدارانہ انداز میں مجھے بتاتی ہیں کہ دھوپ کے چشمے مردوں کے لیے ہوتے ہیں۔
’’میرے شوہر انہیں پہنتے ہیں،‘‘ وہ شریف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں، جو نمک کے قریبی کھیت میں کرسٹل (بلوروں) پر بانچا (ریک) چلا رہے ہیں، اور ان کی آنکھیں سیاہ شیشوں کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں۔
’’آپ کیوں نہیں پہنتیں؟‘‘ وہ دل کھول کر قہقہہ لگاتی ہیں گویا یہ خیال ناممکن ہونے کے ساتھ ساتھ عجیب بھی ہے۔ ’’یہاں بزرگ افراد ہیں، وہ کیا کہیں گے! ہماری برادری میں عورتیں دھوپ کا چشمہ نہیں پہنتیں،‘‘ وہ نرمی سے ہاتھ ہلاتی ہیں جیسے سوال سے پیچھا چھڑا رہی ہوں۔ وہ اپنی نم آلود آنکھیں ایک بار پھر پونچھتی ہیں، اور مزید کہتی ہیں، ’’میں شرمیلی ہوں۔‘‘ ان کی شرمندگی ان کے الفاظ کی طرح بھلی معلوم ہوتی ہے۔
رضوانہ کی آنکھوں سے مسلسل جاری رہنے والا پانی اور اس کی وجہ سے بینائی کو پہنچنے والا نقصان دراصل خشک اور نمکین ہواؤں کے طویل مدتی اثرات کا نتیجہ ہے۔ یہ ہوائیں آنکھوں میں دھول اور نمک کے ذرات جمع کر دیتی ہیں، جس کی وجہ سے آنکھیں رفتہ رفتہ خشک ہو جاتی ہیں اور بینائی کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ اگریوں میں پائی جانے والی سب سے عام بیماریوں میں سے ایک ہے۔ گجرات کے نمک کے طاسوں میں کام کرنے والوں کو اگریا کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح ’’اگر‘‘ سے نکلی ہے، جو نمک کے کھیتوں کے لیے گجراتی لفظ ہے، جو علاقہ کچّھ کے چھوٹے رن میں تقریباً ۵۰۰۰ مربع کلومیٹر کے رقبے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ رن ایک نشیبی اور پیالہ نما خطۂ زمین ہے، جو مانسون کے دوران ایک دلدلی علاقہ میں تبدیل ہو جاتا ہے، لیکن گرمیوں اور سردیوں میں خشک رہتا ہے۔
صحرا سے دلدلی زمین میں تبددیلی کی وجہ سے رن کے اس منفرد منظرنامہ میں غیرمعمولی حیاتیاتی تنوع پایا جاتاہے۔ یہ برسات کے موسم میں راج ہنس (فلیمنگوں) اور پیلیکن جیسے مہجری پرندوں کی پناہ گاہ بن جاتا ہے، جبکہ کالے ہرن، جنگلی سور اور چنکارہ جیسے جانوروں کے لیے ایک محفوظ ٹھکانہ ہے، جو یہاں پورے سال رہتے ہیں۔ جنگلی حیات کی آمد اس بات کی پیشین گوئی کرتی ہے کہ موجودہ سال کیسا ہوگا، اسی وجہ سے یہاں ایک مقامی کہاوت مشہور ہے: کچّھ ما کالے شوآوسے، ای آجیج دیکھائے۔ [کچّھ میں کل کو آج ہی دیکھا جا سکتا ہے]۔
جب پانی نکل جاتا ہے، تو اگریا اندر آ جاتے ہیں، خیمے نصب کرتے ہیں اور آٹھ ماہ تک یہیں قیام کرتے ہیں، اور زیر زمین کھارے پانی کو نمک میں تبدل کر دیتے ہیں۔ وہ ہندوستان کا ۷۵ فیصد سے زیادہ نمک پیدا کرتے ہیں۔
یہاں کا رن سیدھی لکیروں کی ایک الگ دنیا ہے، جس میں نمک کے طاسوں کی سفید کیاریاں، چوکور شمسی پینل اور زمین پر یکسانیت سے بنے مستطیل نمک کے ان وسیع طاسوں کی سفاکانہ فطرت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔
صبح ۱۰ بجے ہی رن میں سورج کسی پگھلے ہوئے گولے کی طرح دہکنے لگتا ہے، اور ہر شے کو ایک ناقابل برداشت سفید روشنی سے ڈھانپ لیتا ہے۔ یہ ایک ماورائی خطہ ہے، جس میں نمک کی ایک موٹی پرت افق تک پھیلی ہوئی ہے۔ نیچے کی سفیدی اور اوپر کی چمک سے مل کر ایک ایسی چکاچوند پیدا کرتی ہے جو اذیت ناک حد تک پہنچ جاتی ہے۔ گرمی ہر شے سے پانی نچوڑ لیتی ہے: ہونٹ پھٹ جاتے ہیں، پیاس سے حلق جلنے لگتا ہے، آنکھوں سے مسلسل پانی بہتا ہے اور ایڑیوں میں تپتی ہوئی زمین کی طرح گہرے اور تکلیف دہ شگاف پڑ جاتے ہیں۔














