چانکی کی خواتین کے ذریعہ بنائے گئے مٹی کے برتنوں کا اس علاقہ میں ہونے والی جدوجہد اور لڑائیوں میں اہم رول ہوا کرتا تھا۔ کھانا پکانے میں انھیں برتنوں کا استعمال ہوتا تھا، اور کوئی بھی ان برتنوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا جن سے ان کا پیٹ بھرتا تھا۔ آس پاس کے گاؤوں میں آگ لگ جائے یا کوئی دوسری آفت آ جائے، جس سے پوری تباہی مچ جائے، تب بھی چانکی گاؤں سے مٹی کی ہانڈیوں میں اناج مدد کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ چانکی کے برتن اتنے مضبوط اور پائیدار ہوتے تھے – آؤ قبیلہ کی عورتیں ہمیں یہ تمام باتیں بڑے فخر کے ساتھ بتاتی ہیں۔
صدیوں بعد بھی اس گاؤں میں یہ برتن روایتی طریقے سے، یعنی ہاتھوں سے بنائے جا رہے ہیں۔ ’’ہم چاک یا کسی مشین کی مدد نہیں لیتے۔ شروع سے آخر تک، برتن بنانے کا سارا کام ہاتھوں سے کیا جاتا ہے،‘‘ تھیامنلا لُنجاری کہتی ہیں۔ برتن بنانے کے لیے موک کسن ضلع کے کھیتوں، پہاڑوں، جنگلوں اور ندیوں کے کنارے سے مٹی لائی جاتی ہے۔ اس علاقہ کی مٹی اتنی اونچائی اور معیار کے سبب ان برتنوں کو بنانے کے لیے عمدہ مانی جاتی ہے۔
تھیامنلا (۵۵) بتاتی ہیں، ’’ہماری دادی پردادی جس طرح یہ برتن بناتی تھیں، ہم بھی اسی طریقہ سے بناتے ہیں۔‘‘ ناگالینڈ کے چانکی گاؤں میں مٹی کے برتن بنانے والے کاریگر اب اُنگلیوں پر گنے جانے لائق رہ گئے ہیں۔ تھیامنلا ان میں سے ایک ہیں۔ وہ اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتی ہیں اور گھر پر ہی مٹی کے برتن بناتی ہیں۔ پہلے تو ہر گھر میں عورتیں برتن بناتی تھیں – کبھی گھر میں استعمال کے لیے، تو کبھی بیچنے کے لیے۔ لیکن آج گاؤں میں مٹی کے برتن بنانے والی صرف ۱۵ عورتیں بچی ہیں۔
اس اسٹوری کے لیے ویڈیو ریکارڈ کرنے کے دوران، پاری کی ملاقات مٹی کے برتن بنانے والی جن عورتوں سے ہوئی، سب نے یہی کہا کہ ساتھ مل کر برتن بنانے، اس ہنر کو سیکھنے، سکھانے اور آگے بڑھانے میں انہیں بہت اچھا لگتا ہے، جو ناگالینڈ میں ان کے قبیلہ کی عورتوں کی قدیم روایت رہی ہے۔ اور، اس سے ہونے والی اضافی آمدنی بچوں کی پڑھائی لکھائی، قلم کتاب کے خرچ میں کام آتی ہے۔








