امرجیت کور بیچ راستے میں ٹھٹھک سی جاتی ہیں۔ جس تسلہ کو وہ اپنے سر پر اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں، وہ کچھ سیکنڈ کے لیے ڈگمگاتا ہے۔ پھر وہ دھیرے دھیرے لڑکھڑاتے قدموں سے روڑی (گوبر کا ڈھیر) کی طرف بڑھتی ہیں، تاکہ بھینسوں کے باڑے سے لایا گیا اپنا تسلہ وہاں خالی کر سکیں۔ ایک زمانہ تھا جب وہ سر پر ۱۰-۱۲ کلو کا بھرا ہوا تسلہ لے کر آسانی سے چل لیتی تھیں۔ لیکن ۷۲ سال کی عمر میں اب یہ مشکل کام ہے۔
حالانکہ، آج ان کا دل ان کے سر پر رکھے تسلہ سے بھی زیادہ بھاری ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ان کے قدم بھی لڑکھڑا رہے ہیں۔
ان کی فیملی سے متعلق میرے ایک سیدھے سے سوال کو سن کر امرجیت ۲۴ سال پرانی یادوں میں گم ہو گئیں۔ ’’اُنہاں دسیہ، پٹّی موڑ تے تیرا مُنڈا مر گیا ایکسیڈنٹ نال [انہوں نے بتایا کہ پٹّی موڑ پر تیرا بیٹا مر گیا ایکسیڈنٹ سے]۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ پھر سے گوبر اکٹھا کرنے کے لیے بیٹھ جاتی ہیں۔ ان کے ہاتھ مشین کی طرح چلتے رہتے ہیں۔ زمین پر دو زانو بیٹھتے ہوئے ان کے گھٹنوں سے چرچر کی آواز آتی ہے۔ ’’وہ رکشتہ چلاتا تھا۔ صرف ۱۸ سال کا تھا۔‘‘ پانچ سال بعد انہوں نے اپنا دوسرا بیٹا بھی کھو دیا۔ تب اس کی عمر ۲۱ سال تھی۔
تقریباً ۳۶ سال پہلے جب ان کے شرابی شوہر کی موت ہوئی تھی، تب ان کے بیٹے صرف چھ اور چار سال کے تھے۔ اگر شادی کے بعد وہ گوہا کوڑا (جانوروں کا گوبر) اٹھانے کا کام نہیں کرتیں، تو وہ اپنے بیٹوں اور دو بیٹیوں (جن کی شادی ہو چکی ہے) کی پرورش نہیں کر پاتیں۔ اپنے ننگے ہاتھوں سے وہ پھر سے گوبر اٹھاتی ہیں، جیسے اپنے دکھ کو بھی گوبر کے ساتھ ساتھ مٹھی میں بھر کر تسلہ میں ڈال رہی ہوں۔ تسلہ سر پر رکھتے وقت وہ ایک لمبی سانس چھوڑتی ہیں اور تقریباً ۱۰۰ میٹر دور روڑی کی طرف لڑکھڑاتے قدموں سے بڑھ جاتی ہیں۔ آج صبح کام شروع کرنے کے بعد یہ ۲۰ویں بار ہے، جب وہ ایسا کر رہی ہیں۔ ان کا تعلق مہرے سکھ برادری سے ہے، جسے پنجاب میں درج فہرست ذات کا درجہ حاصل ہے۔ امرجیت بے زمین دلت ہیں، جو پٹّی قصبہ کے سات گھروں میں گوہا کوڑا اٹھا کر اپنا گزارہ کرتی ہیں۔
’’جدوں میں ڈنگراں دا گوہا چُکّن تھلّے بہندی آں تاں اوہ اکثر میرے سر تے ہی مُوت دِندے نے۔ میں روز روز سر نہیں دھو سکدی تے شیمپو صابن کا خرچہ وی نہیں چُک سکدی۔ اسے لئی آہ لفافہ پا لینی آں [جب میں گوبر اٹھانے کے لیے نیچے بیٹھتی ہوں، تو بھینسیں کئی بار میرے سر پر پیشاب کر دیتی ہیں۔ میں روز سر نہیں دھو سکتی اور نہ ہی روز صابن شیمپو کا خرچ اٹھا سکتی ہوں۔ اس لیے سر پر پلاسٹک کا یہ تھیلا باندھ لیتی ہوں]۔‘‘ امرجیت مجھے ایک کالا تھیلا دکھاتی ہیں، جو اس وقت ان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ایک گھر کا کام ختم کر چکی ہیں۔ یہ گھر ایک کسان کا ہے، جس کے پاس زمینیں ہیں، ۱۰ بھینسیں ہیں۔ اب وہ یہاں سے دوسرے گھر جائیں گی۔





