سیلاب کی وارننگ انہیں وہاٹس ایپ گروپ پر ملی تھی۔ ایک غیر سرکاری تنظیم نے لوگوں کو ہندی میں میسج بھیج کر آگاہ کیا تھا کہ راتو ندی کی آبی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ستمبر کی اُس شام کو ۳۲ سالہ گنیش صافی اپنے گھر پر ہی تھے اور انہیں یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ ان کے پاس اپنی فیملی اور گھر کے سامان کو کسی محفوظ جگہ پہنچانے کے لیے صرف دو گھنٹے بچے ہیں۔
نیپال کے جنوبی میدانی علاقہ میں کافی بارش ہوئی تھی، جو سرکھنڈیو بِٹھا گاؤں سے تقریباً ۲۲۰ کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ گنیش اسی گاؤں میں رہتے ہیں، جو بہار کے سیتامڑھی ضلع کے سُرسنڈ بلاک میں واقع ہے۔
آٹھ مہینے بعد، مئی ۲۰۲۵ کی گرم دوپہر میں، آم کے درخت کے سایہ میں بیٹھے گنیش بتاتے ہیں کہ کیسے انہوں نے اپنے جڑواں بچوں (پانچ سال کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی)، بیوی نگینہ دیوی (۲۸ سال)، دو بکریوں اور تقریباً ایک کوئنٹل اناج (گیہوں، دال اور چاول) کو پڑوسی کے پختہ مکان تک بحفاظت پہنچایا۔
گنیش کی جھونپڑی کے برعکس، ان کے پڑوسی کا اینٹ اور سیمنٹ سے بنا پختہ مکان ہے، جو تقریباً چھ فٹ اونچے پلیٹ فارم پر بنا ہے، تاکہ سیلاب کا پانی اندر نہ پہنچ سکے۔
راتو ندی میدانی علاقے کی پہاڑیوں سے نکلتی ہے اور گنیش کے گاؤں سے ہو کر گزرتی ہے۔ جب اوپری علاقوں میں تیز بارش ہوتی ہے، تو پانی کو سرکھنڈیو بِٹھا گاؤں تک پہنچنے میں تقریباً دو گھنٹے لگتے ہیں۔
گنیش اور ان کی فیملی کچھ دنوں تک اپنے پڑوسی کے گھر رہی۔ کیا پڑوسی نے بن بلائے مہمانوں کا خیرمقدم کیا؟ گنیش مسکراتے ہوئے کہتے ہیں، ’’ہاں، کیوں نہیں؟ مصیبت میں اگر پڑوسی کام نہیں آئیں گے، تو کون آئے گا؟‘‘
وہیں، گنیش کی بانس اور پھوس سے بنی جھونپڑی سیلاب کے پانی میں تین فٹ تک ڈوب گئی۔ جب پانی اترا، تو فرش پر اور وہاں رکھے سبھی سامانوں پر موٹی کیچڑ کی پرت جم گئی تھی۔ ان کا مٹی کا چولہا اور برتن بھی خراب ہو گئے تھے۔
جھونپڑی کی مرمت کرنے میں ایک ہفتہ لگا اور اس کے لیے گنیش کو تقریباً ۱۰ ہزار روپے (۱۱۷ ڈالر) خرچ کرنے پڑے۔ یہ رقم ایک بے زمین مزدور کے لیے بہت بڑی ہے، جس کی روزانہ کی کمائی صرف ۴۰۰ روپے ہے۔

















