’’جب میں چھوٹی تھی، تو ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہمارا کام رک جائے گا۔‘‘
تاہم رادھا دیوی کے گھر کے مچان پر لاوارث پڑے گرد آلود اوزار ایک الگ کہانی بیان کرتے ہیں۔ ایک چرخہ اور لکڑی کا ایک پرانا شٹل (کپڑا بننے کی نال)، جو قدرتی اون سے بنے اور کبھی نہ رنگے جانے والے کمبلوں کی بُنائی کے دوران کئی دہائیوں تک ان کے ساتھ رہے، اب خاموش پڑے ہیں۔
’’سوتا بناوت کے کلا ہمار ہاتھ سے چھوٹت جاتا [سوت کاتنے کا ہنر ہمارے ہاتھ سے پھسل رہا ہے]،‘‘ بھوجپور میں مقیم کتائی اور بنائی کرنے والی یہ خاتون کہتی ہیں۔ ’’میں نے اس کے بعد [۲۰۱۶ میں] کمبل نہیں بُنا ہے۔‘‘ وہ جس کمبل کی طرف اشارہ کرتی ہیں وہ موٹا ہے اور بھورے رنگوں میں بُنا ہوا ہے، اور اس پر دھاریاں بنی ہیں۔
’’میں بچپن سے اپنی مائی [ماں]، چاچی [چچی] اور دادی کے ساتھ مل کر کمبل بُنتی آ رہی ہوں،‘‘ بزرگ خاتون بنکر مزید کہتی ہیں۔ انہیں اپنی صحیح عمر کا اندازہ نہیں ہے، لیکن وہ آپ کو اتنا بتا سکتی ہیں: ’’میں نے اندرا گاندھی کا زمانہ دیکھا ہے!‘‘
گڑھنی بلاک کے بھِنراری گاؤں کی گلیوں میں کبھی بھیڑوں کے اون کا اپنا آہنگ تھا۔ سردیوں کے بازاروں میں، پال کاریگروں کے بُنے ہوئے کمبل ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتے تھے، ان کے موٹے ریشے والے اون طویل سرد راتوں میں لوگوں کو گرم رکھتے تھے۔ آج، وہ بازار قدرے خاموش ہیں اور رادھا دیوی گاؤں میں اپنی برادری کی آخری خاتون ہیں، جنہوں نے ایسے کمبل بُنے تھے۔
’’ایہی جات با ہمار [یہی ہماری ذات ہے]،‘‘ رادھا دیوی کہتی ہیں۔ ’’ہم نے شروع سے یہی کام کیا ہے۔‘‘
سبز اور گلابی رنگ کی ساڑی میں ملبوس، رادھا دیوی دھوپ سے گرم اپنے گھر کے اینٹوں کی دیوار کے سہارے کھڑی اس زمانے کو یاد کرتی ہیں جب انہوں نے آٹھ یا نو سال کی عمر میں کمبل بُننا سیکھا تھا۔ وہ کبھی اسکول نہیں گئیں اور انہوں نے یہ ہنر اپنی والدہ سے سیکھا تھا۔ ان کے والد اور دادا کے پاس سو سے زیادہ بھیڑیں تھیں۔ عام طور پر گھر کی خواتین اون سے کمبل اور سویٹر بُنتی تھیں، جبکہ مرد انہیں قریبی گاؤوں یا دوسرے اضلاع میں فروخت کیا کرتے تھے۔ شادی کے بعد بھی انہوں نے یہی طریقہ دیکھا۔ ان کے شوہر اور سسر بھیڑیں پالتے تھے اور ان کی ساس کمبل بُنتی تھیں۔












