اس اسٹوری میں سرکاری اہلکاروں کو چھوڑ کر، سبھی افراد کے نام بدل دیے گئے ہیں، تاکہ ان کی شناخت کو پوشیدہ رکھا جا سکے؛ اسی لیے، ان کے گاؤوں کا نام بھی نہیں لکھا گیا ہے۔ دو حصوں پر مشتمل اسٹوری کا یہ دوسرا حصہ ہے۔
’’کیڑا جڑی نے یہاں کی زندگی بدل دی ہے،‘‘ ہمارے ٹیکسی ڈرائیور سنیل سنگھ کہتے ہیں۔ سنیل (۲۳) دو سالوں سے گاڑی چلا رہے ہیں، اور قریبی گاؤوں کے مسافروں کو دھارچُلا پہنچاتے ہیں، جہاں وہ اسکول یا کالج، بازار یا صحت کی نگہداشت کے مرکز تک جاتے ہیں۔ دھارچلا بلاک اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ ضلع میں واقع ہے، جہاں سے ہند-نیپال سرحد چند میٹر کے فاصلہ پر ہے۔
قیمتی کیڑا جڑی پھپھوندی فروخت کر کے بچائے گئے ۵ء۳ لاکھ روپے اور کچھ بینک سے قرض لے کر سنیل نے ایک بولیرو ٹیکسی خریدی۔ وہ تقریباً آٹھ سال کی عمر سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ پھپھوندی جمع کرنے جا رہے ہیں، اور اس سے ہونے والی آمدنی سے قرض واپس کر رہے ہیں۔
’سونڈی پھپھوندی‘ یا کیڑا جڑی تبت کے سطح مرتفع کے آلپی سبزہ زاروں میں ۳۵۰۰ سے ۵۰۰۰ میٹر کی اونچائی پر پیدا ہوتے ہیں۔ جنسی خواہشات کو ابھارنے والی اپنی خصوصیات کے لیے ’ہمالیائی ویاگرا‘ کے نام سے مشہور پھپھوندی کو چین میں ’یارسا گُمبا‘ کہا جاتا ہے اور یہ چین کی روایتی ادویات میں شامل ایک اہم جزو بھی ہے۔ ایک کلو اعلیٰ معیار کی کیڑا جڑی کی قیمت سرحد پارغیرقانونی بازار میں کبھی کبھی ۱۲ لاکھ روپے تک مل جاتی ہے۔ اتراکھنڈ میں جمع اور فروخت کی جانے والی زیادہ تر پھپھوندی ایجنٹوں کے ذریعے نیپال اور پھر چین کو اسمگل کی جاتی ہے۔
اتراکھنڈ کے اونچائی والے سرحدی اضلاع پتھورا گڑھ اور چمولی میں پھپھوندی جمع کرنے کا موسم ابتدائی مئی سے شروع ہوتا ہے اور مانسون کی آمد کے ساتھ جون کے وسط یا آخر تک ختم ہو جاتا ہے۔ لوگ اپنے پورے کنبے کے ساتھ سبزہ زاروں میں منتقل ہو جاتے ہیں، ہفتوں تک خیموں میں قیام کرتے ہے، اور پھپھوندی جمع کرنے کے لیے طویل اور مشکل اوقات میں کام کرتے ہیں۔ (دیکھیں: پتھوڑا گڑھ میں لوگوں کا گھر چلانے والی پھپھوندیِ)







