لکڑی کی ایک پرانی زین، پرانا کرگھا، لکڑی کا ایک پولو ڈنڈا، گھاس کی چپل، چاندی کے پرانے زیورات، شینا میں تحریر کردہ نظموں کا ایک بوسیدہ مخطوطہ، شادیوں میں عورتوں کے لیے زیور کے طور پر استعمال ہونے والی روایتی کنگھیوں اور بہت سی دوسری چیزیں۔ بشیر احمد ٹیرو کے میوزیم میں رکھی یہ تمام چیزیں روزمرہ کی قدیم اشیاء میں شامل ہیں۔
بشیر کا تعلق درد-شِن برادری سے ہے، جو زیادہ تر گریز اور دراس میں آباد ہے۔ پچھلے پانچ سالوں سے، گریز وادی کے کونے کونے سے لوگ بیش قیمتی خاندانی وراثت اور روزمرہ کی پرانی چیزیں ان کے میوزیم کو سونپ رہے ہیں، جسے وہ داور میں اپنے گھر میں کیوریٹ کرتے اور سجاتے ہیں۔
’’میں نے لوگوں کو اپنے گھروں سے پرانی چیزیں پھینکتے دیکھا ہے، کیوں کہ انہیں لگتا ہے کہ یہ اب کسی کام کی نہیں ہیں۔ وہ پرانے کپڑے جلا دیتے ہیں، کھیتی کے پرانے اوزار پھینک دیتے ہیں،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔ جنہیں پہلے بیکار سمجھ کر پھینک دیا جاتا تھا یا جلا دیا جاتا تھا، وہ چیزیں اب ان کے میوزیم میں محفوظ جگہ پا چکی ہیں۔
بشیر کا ماننا ہے کہ ریاست کے ہیلتھ ورکر کے طور پر ان کا کام اس میوزیم کو تیار کرنے میں مددگار رہا ہے۔ تقریباً ۴۴ سال کے یہ ریاستی ملازم کہتے ہیں کہ لوگ ان پر بھروسہ کرتے ہیں، اور اسی اعتماد نے میوزیم کی اشیاء کا انتظام کرنے کے کام کو آسان بنا دیا۔ کشمیر کی گریز وادی میں چھ مہینے تک برف سے راستے بند رہتے ہیں، اور سرکاری طبی سہولیات بھی بہت کم ہیں۔ ایسے میں کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کا کام بیحد اہم ہو جاتا ہے اور لوگوں کو ان پر پورا اعتماد ہوتا ہے۔


















