میموریل (یادگار) کا لوہے کا دروازہ آج بھی کھڑا ہے، لیکن اس کے آگے کوئی گاؤں نہیں ہے۔
اب وہاں صرف ایک ویران اسکول بچا ہے، جس کے قریب ہی بیسالٹ پتھر کی سیڑھیاں پہاڑی پر اوپر کی طرف جاتی ہیں، جہاں کبھی ۷۰ کنبے رہتے تھے – مہاراشٹر کے مغربی گھاٹ میں آباد مالن گاؤں میں۔ اب اس میموریل کے آس پاس لگے درختوں کے درمیان صرف ہوا کی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے، اسی جگہ جہاں ۳۰ جون ۲۰۱۴ کو زمین کا تودہ کھسکنے سے ۱۵۱ لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔
رگھوناتھ جھانجرے (۶۲ سالہ) اُس میموریل کے پاس کھڑے ہیں، جس پر مذکورہ حادثہ کے دوران مارے گئے تمام لوگوں کے نام کندہ ہیں۔ وہ انگلیوں سے حروف کو چھوتے ہوئے بلند آواز میں پڑھتے ہیں، ’’جنا بائی دگڈو جھانجرے۔‘‘ پھر کہتے ہیں، ’’میری ماں۔‘‘
وہ کچھ وقفہ کے لیے رکتے ہیں اور یادوں میں کھو جاتے ہیں۔ رگھوناتھ، آمبے گاؤں بازار میں ایک چھوٹی پنساری کی دکان چلاتے ہیں اور بنیادی جگہ سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ریاستی حکومت کے ذریعہ بسائے گئے نئے مالن گاؤں میں رہتے ہیں۔ لیکن ۲۰۱۴ میں وہ پونے شہر میں رہتے تھے اور وہیں کام کرتے تھے۔




















