اعجاز حسن کہتے ہیں، ’’بابر اپنے ساتھ دو چیزیں ہندوستان لے کر آیا۔ پہلا بارود اور دوسرا باقر خانی۔‘‘ اعجاز اپنے خاندان کی تیسری نسل ہیں جو نان بائی کا کام کر رہے ہیں۔ وہ تندور کے پاس بیٹھے ہیں، جو لودی کٹرہ میں ان کے گھر کے بغل میں ہے۔ یہ علاقہ پٹنہ کی سب سے قدیم آبادیوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے زیر زمین گھنٹی نما اس چولہے کی ابھی صفائی کی ہے اور اس پر گیلی مٹی کا لیپ لگایا، تاکہ چولہے کو ٹھنڈا کیا جا سکے۔
باقرخانی کئی پرتوں والی ایک کُرکُری، میٹھی روٹی ہے جو مغلئی باورچی خانہ کا حصہ رہا ہے۔ اس کے آغاز سے متعلق کئی کہانیاں مشہور ہیں، لیکن ان میں سب سے خاص وہ کہانی ہے جو اعجاز حسن کو ان کے دادا نے سنائی تھی۔ اعجاز حسن کے دادا، حافظ امیر حسن، ایک بیحد قابل نان بائی تھے جنہیں سبھی نان بائیوں کا استاد مانا جاتا تھا۔ اعجاز بتاتے ہیں، ’’بنگال اور اتر پردیش میں باقر خانی کی کئی الگ الگ شکلیں ملتی ہیں، لیکن پٹنہ کی باقر خانی سب سے خاص ہے۔ اس لیے لوگ اسے ’شاہی‘ یا مغلئی باقر خانی‘ کہتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش بیٹھ جاتے ہیں، جب تک ان کے مددگار امتیاز صبح کی چائے دوبارہ گرم کر لے۔
گزشتہ چار پانچ دہائیوں میں بازار میں چھوٹی باقر خانیاں چھائی ہوئی ہیں، جنہیں شیرہ میں ڈبو کر اصلی باقر خانی جیسا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ اصلی باقر خانی کے مقابلے کافی سستی ہوتی ہیں اور یہی بات اعجاز کو کھٹکتی ہے۔ ’’اب تو ہر دوسری روٹی باقر خانی ہے، اور ہر دوسرا آدمی نان بائی۔ پٹنہ میں آپ کو ۲۵-۳۰ روپے کی بھی باقر خانی مل جائے گی۔ مگر نہ آپ کا دل بھرے گا، نہ سالہا سال کام سیکھنے والوں کا پیٹ۔‘‘
اعجاز مزید کہتے ہیں کہ ان سستی نقلوں نے جیسے منہ کا نوالہ ہی چھین لیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اگر چار لوگ مل کر بھی صبح سے شام تک ایک تندور میں کام کریں، تب بھی دن بھر میں ۵۰ سے زیادہ باقر خانی نہیں بنا سکتے۔




























