ثنا کا ایک خواب تھا۔ وہ ۱۹ سال کی تھیں اور اپنے والد جعفر حسین کے نام پر ایک اسپتال کھولنا چاہتی تھیں۔
حسین (۵۰ سالہ) اپنے کاروبار میں زبردست خسارہ کے بعد، ۱۲ سال پہلے آندھرا پردیش میں واقع اپنے گاؤں، پرودّاتور سے کویت چلے گئے تھے۔
ان کی اہلیہ، حبیب النساء شیخ (۴۰) اپنی تین بیٹیوں کو بہتر تعلیم دلانا چاہتی تھیں، لہٰذا وہ انہیں لے کر حیدر آباد چلی گئیں۔ یہ لڑکیاں وہاں ایک اپارٹمنٹ میں اپنی ماں کے بغل میں رہتی تھیں۔
’’ثنا کو اپنے والد سے کافی لگاؤ تھا،‘‘ حبیب النساء بتاتی ہیں۔ ’’دونوں روزانہ صبح کو ایک دوسرے سے بات کیا کرتے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے والد نے اس کے لیے کتنی قربانیاں دی ہیں۔ اسے معلوم تھا کہ انہوں نے کتنے نقصان برداشت کیے ہیں، اس لیے وہ اپنی کامیابی اپنے والد کے نام منسوب کرنا چاہتی تھی۔‘‘
گزشتہ ۱۳ مئی، ۲۰۲۶ کو جب ثنا امتحان والے کمرے سے باہر نکلیں، تو انہوں نے سب سے پہلے کویت میں اپنے والد کو فون کیا۔ ’’اس نے بڑی خوشی سے مجھے بتایا کہ اس کا پیپر بہت اچھا گیا ہے،‘‘ حسین نے کہا۔ ’’میں نے اس سے کہا کہ اپنی ماں کے ساتھ خوشیاں مناؤ یا کسی ہوٹل میں جا کر اچھا کھانا کھاؤ۔‘‘




















