’’لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم ایک امتحان یا ایک نوکری کی وجہ سے [مارچ میں شامل ہونے] یہاں آئے ہیں۔ ہم اس لیے آئے ہیں کیوں کہ ہر سال یہ یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ ہمارے مستقبل کی کوئی اہمیت بھی ہے،‘‘ چھوٹو یادو کہتے ہیں۔
ستائیس سالہ چھوٹو یادو، بہار کے سیوان ضلع سے ٹرین کے جنرل ڈبے میں دو دن کا سفر کر کے دہلی پہنچے تھے۔ ’’ہمارے گاؤوں میں نوجوان یا تو روزگار کی تلاش میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں یا پھر ایسی ملازمتوں اور مواقع کے انتظار میں رہتے ہیں جو کبھی حاصل نہیں ہوتے۔‘‘
’’چلو سنسد [پارلیمنٹ کی جانب مارچ]!‘‘ کا آغاز کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی اس اپیل سے ہوا جس میں ہندوستانی نوجوانوں کے مسائل کو براہِ راست پارلیمنٹ تک پہنچانے کی بات کی گئی تھی، جہاں ۲۰ جولائی ۲۰۲۶ کو مانسون اجلاس شروع ہوا۔
اب یہ احتجاج صرف سی جے پی تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک بھر کے مختلف شہروں میں پھیل کر ایک وسیع عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
بار بار امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات نے بے روزگاری، سرکاری ملازمتوں میں بھرتیوں میں تاخیر، اور اس بحران کے خلاف ایک وسیع تحریک کو جنم دیا ہے جسے مظاہرین عوامی اداروں، مجموعی نظام اور طرزِ حکمرانی پر اعتماد میں مسلسل کمی قرار دیتے ہیں۔ یہ تحریک اب ان نوجوانوں کے لیے اپنی مایوسی اور غم و غصے کے اظہار کا ایک پلیٹ فارم بن چکی ہے جو روزگار کے کم ہوتے مواقع، گاؤوں سے بڑھتی ہوئی ہجرت، اور اس احساس کا شکار ہیں کہ خصوصاً دیہی ہندوستان کے نوجوانوں کو اُن فیصلوں سے الگ رکھا جا رہا ہے جو ان کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔
’’میں دہلی اس لیے آیا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے جیسے گاؤوں کے نوجوان اپنے مستقبل سے امید کھو بیٹھیں،‘‘ پالی کے گورنمنٹ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے آخری سال کے طالب علم، ۲۵ سالہ دھیرم کہتے ہیں۔ وہ اپنے ۲۴ سالہ دوست آشو رام کے ساتھ یہاں پہنچے، جو ہیومینٹیز کے طالب علم ہیں۔ دونوں دوست ۱۵ گھنٹے کے رات بھر کے سفر کے بعد ۱۹ جولائی کی دوپہر کو دہلی پہنچے تھے۔


























