ہم نئے شہر کی لڑکیاں ہیں، او راجا
ارے، لچک مچک کر کہاں چلی تو؟
ہم ساتوں بھائی ہیں کنوارے،
ارے، لچک مچک کر کہاں چلی تو؟
کیسا دلبر تم کو بھائے، او راجا
ارے، لچک مچک کر کہاں چلی تو؟
سانولی صورت من کو لبھائے، او راجا
ارے، لچک مچک کر کہاں چلی تو؟
شادیوں میں گائے جانے والے اس گجراتی لوک گیت کو ۱۹۷۰ کی دہائی کی مشہور گجراتی فلم ’سون کنساری‘ کے ذریعہ خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ یہ فلم سون کنساری اور رَکھایت بابَریا کی محبت کی کہانی پر مبنی ایک مشہور المیہ ہے۔ اس گیت کی پیشکش مرد اور خواتین رقاصوں کے دو گروہوں کے درمیان موسیقی کے ایک تیز رفتار مقابلہ کی صورت میں ہوتی ہے، جس میں دونوں فریق باری باری سے مکالمہ کی صورت میں سوال و جواب کرتے ہیں۔ گیت کے بند خوبصورتی، دلکشی اور شادی سے منسلک گہرے سماجی تصورات کو بیان کرتے ہیں۔ یہاں یہ لوک گیت اپنی نوعی روایت کے عین مطابق مقررہ صنفی کردار کو الٹ دیتا ہے۔ اس میں گاؤوں کی بیدار خواتین اپنی آواز بلند کرتی ہیں اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ وہ عزت و وقار کے ساتھ جینے اور جائیداد اور زمین کی ملکیت کے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ اپنی مادی وراثت پر دعویٰ پیش کرتی ہیں۔ اور اپنی ثقافتی روایت (لوک گیتوں) کی باگ ڈور بھی خود ہی سنبھالتی نظر آتی ہیں۔
ہم نے عالمی تاریخ میں اکثر دیکھا ہے کہ مزاحمت سے منسلک گیت مظلوم عوام کی آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اس گیت کو نندوبا جڈیجہ نے ضلع نکھترانہ کی دیگر خواتین کے ساتھ مل کر نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے، اور اس نے سال ۲۰۱۷ کے آس پاس کَچھ مہِلا وکاس سنگٹھن کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کے درمیان ایک نئی بیداری پیدا کی ہے۔


