ہڈیوں اور سینگوں کی مصنوعات جیسے بٹن، بیئر کے گلاس، گھر کی آرائش کی چیزیں اور باورچی خانہ کے ساز و سامان کے لیے مشہور سنبھل قصبہ کے سرائے ترین محلہ میں محمد اسلام کی ایک چھوٹی سی کرایے کی دکان ہے۔ اس دکان پر گاہکوں کے آنے جانے کا مستقل سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہاں قندی کی تلاش میں بچے اور روازانہ کی راشن کی تلاش میں بالغ موجود رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ بزرگ مرد [بھینس کی] سینگ کی عمدہ کنگھیاں خریدنےکے لیے آتے ہیں۔ اسلام کی دکان کے سائن بورڈ کو ہاتھ سے پینٹ کیا گیا ہے، جس پر ’سینگ کی کنگھی‘ لکھا ہوا ہے۔
اسلام کی عمر ۶۰ سال ہے اور وہ سرائے ترین کے آخری چند دستکاروں میں سے ایک ہیں، جو اب بھی سینگ کی کنگھیاں بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے دیرینہ ساتھی، مقصود خان، جن کی عمر ۷۰ کی دہائی کے اواخر میں پہنچ چکی ہے، ان اشیاء کے باقی ماندہ سپلائرز میں سے ایک ہیں۔
’’دنیا سے رخصت ہو چکے اس دستکاری سے وابستہ کاریگر اپنے ساتھ اس فن کو بھی لے گئے۔ اب اس کی بازیافت نہیں ہو سکتی،‘‘ حقہ کا کش لیتے ہوئے اسلام کہتے ہیں۔ ’’آپ پورے سرائے ترین میں کہیں بھی سینگ کی کنگھی بنانے والے کسی کاریگر کو تلاش کریں گے تو ہر شخص آپ کو میری طرف ہی بھیجے گا۔‘‘
سال ۲۰۲۲ میں اس ہنر کو ایک جغرافیائی نشان کا (جی آئی) ٹیگ دیا گیا تھا۔ یہ ٹیگ املاک دانش کے تحفظ کی ایک شکل ہے، جو مصنوعات کو ان کے اصل مقام کی بنیاد پر تفریق کرنے میں مدد کرتی ہے۔ سنبھل سے منسلک سینگ اور ہڈیوں کی دستکاری کو اترپردیش حکومت کی ’ایک ضلع ایک پروڈکٹ‘ اسکیم کے تحت دستکاری کے زمرے میں فروغ دیا جاتا ہے۔
’’جس کے سر پر بال، اس کی کنگھی،‘‘ اسلام مزاحیہ لہجے میں کہتے ہیں۔ ’’ایک وقت تھا جب ہر گلی، ہر کوچے اور ہر چوراہے پر کنگھیاں دستیاب تھیں ۔‘‘
وہ اپنی دکان اور ورکشاپ کے لیے ۲۰۰۰ روپے ماہانہ کرایہ ادا کرتے ہیں، جہاں ان کا کردار بطور دکاندار اور کاریگر مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ ان کے سامنے اس دستکاری سے متعلق اوزار بکھرے پڑے ہیں، جن میں کئی قسم کی آریاں، ریت (چھینی)، چھلی (کھرچنی)، ریگمال کے صفحے، اور ایک اڈا (ایک لکڑی کا تختہ) جسے کنگھیوں کو پکڑنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، شامل ہیں۔




























