سیونتی رائے کی ڈانس ٹیچر نے سب سے پہلے اپنی طالبہ کے غیرمتناسب کندھوں پر دھیان دیا تھا۔ اس ابھرتی ہوئی رقاصہ کی حرکتیں متوازن نہیں تھیں۔ کچھ ہی دنوں بعد ۱۳ سال کی عمر میں اس بچی میں اسکولیوسس (ریڑھ کی خمیدگی) کی تشخیص ہوئی۔ ’’عجیب بات یہ تھی کہ شروع شروع میں اس تشخیص کو لے کر میں خوش تھی، کیونکہ کہ میرے بچپن کے آئیڈیل، رتک روشن [مشہور فلم اسٹار جو رقص میں مہارت کے لیے مشہور ہیں] میں بھی اس مرض کی تشخیص ہوئی تھی،‘‘ سیونتی ہنستے ہوئے یاد کرتی ہیں۔
روشن کی اسکولیوسس کی تشخیص اس وقت ہوئی جب ان کی عمر ۲۱ سال کی تھی۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ کبھی ڈانس نہیں کرسکیں گے۔ اسکولیوسس کی وجہ سے ریڑھ کی ہڈی ایک طرف مڑ جاتی ہے۔ عام لوگوں کی ریڑھ کی ہڈی میں باقاعدہ خم ہوتے ہیں، لیکن اس بیماری میں مبتلا بچوں اور نوعمروں کی ریڑھ کی ہڈی یا اس کے کچھ حصے غیر معمولی طور پر انگریزی کے حروف ’ایس‘ یا ’سی‘ کی شکل میں مڑ جاتے ہیں۔
نوعمروں کی آئیڈیوپیتھک اسکولیوسس (اے آئی ایس) سرجری کے لیے سیونتی نے جنوبی ۲۴ پرگنہ میں واقع اپنے گھر سے کولکاتا کا سفر طے کیا۔ اس پروسیجر میں ان کی ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا کرنے کے لیے ان کی کمر میں دو سلاخیں اور ۱۴ اسکرو لگائے گئے تھے۔
’’اب مجھے کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا،‘‘ ۱۲ سال بعد وہ کہتی ہیں۔ ’’زندگی معمول پر لوٹ آئی ہے۔ میں نے اسکولیوسس کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے اور معمول کی زندگی میں واپس آگئی ہوں،‘‘ وہ مسکراتے ہوئے اضافہ کرتی ہیں۔ ہم مغربی بنگال کے ایک قصبہ ڈائمنڈ ہاربر میں ان کے دادا کے گھر کی چھت پر بیٹھے ہیں، جہاں سے ہگلی ندی گزر کر خلیج بنگال میں ملتی ہے۔
حالانکہ، سیونتی کی اسکولیوسس نے انہیں بے ڈھب بنا دیا تھا، لیکن لاکھوں دوسرے مریضوں کے لیے یہ بیماری تکلیف دہ، کمزور کرنے والی اور ان کے دل کے عارضہ اور سانس کی تکلیف کا باعث بن سکتی ہے۔ دیہی علاقوں کے مریضوں کے لیے صحیح تشخیص کا پہلا مرحلہ بھی ایک چیلنج ہے۔


















